جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

ابو العباس احمد خزری

حضرت ابوالعباس احمد خزری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حسن مشتولی

حضرت ابو علی حسن مشتولی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

سیّدنا لقیط ابن  ربیع رضی اللہ عنہ

   بن عبدالعزی بن عبدشمس بن عبدمناف۔کنیت ان کی ابوالعاص تھی قریشی عبشمی ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد حضرت زینب کے شوہرتھے۔ان کی والدہ ہالہ بنت خویلد حضرت ام المومنین خدیجہ بنت خویلد کی بہن تھیں۔بعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کانام قاسم تھا مگر صحیح یہی ہے کہ لقیط تھا۔یہ ابوعمرکاقول ہے ان کے نام میں اوراختلاف بھی ہے۔انھیں کے حق میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھاکہ مجھ سے انھوں نے ہمیشہ سچ بات کہی اورسچے وعدہ کیے ہم اس واقعہ کو زینب بنت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حال میں ذکرکریں گے۔امامہ بنت زینب انھیں لقیط کی بیٹی تھیں جن کو حضرت نے ایک مرتبہ بحالت نماز گود میں لیاتھا۔حضرت زینب کے واقعہ بدرکے بعد ہجرت کی تھی اس کے بعد ابوالعاص بھی اسلام لے آئے لہذا حضرت نے بہ نکاح جدیدہ مہرجدیدحضرت زینب کوپھران کے پاس واپس کیاتھایہ عبداللہ بن عمروبن عاص کا قول ہے اورعبداللہ ب۔۔۔

مزید

سیّدنا لقیط ابن  ارطاۃ رضی اللہ عنہ

   سکونی۔ان کا شمار اہل شام میں ہے۔مسلمہ بن علی خشنی نے نصر بن علقمہ سے انھوں نے اپنے بھائی محفوظ سے انھوں نےعبدالرحمن ابن عائذسے انھوں نے لقیط بن ارطاہ سکونی سے روایت کی ہےکہ ایک شخص نے ان سے کہاکہ ہمارا ایک پڑوسی شراب پیتاہےاوربرے کام کرتاہےآپ اس کوحال سلطان سے بیان کردیجیےانھوں نےکہامیں نے رسول خد اصلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ننانوے مشرک قتل کیے ہیں مگرکسی نے مسلمان کی پردہ دری کے بعد اتنے ہی مشرک اورقتل کروں تب بھی مجھے بھلائی کی امید نہیں۔ان سے عبدالرحمن بن عائذ نے بھی روایت کی ہے کہ یہ کہتےتھےمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوامیرے دونوں پیرٹیڑھے تھے زمین سے مس بھی نہ کرتے تھےحضرت نے میرے لیے دعافرمائی تو میں زمین پر چلنے لگا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا لقمان ابن  شبہ رضی اللہ عنہ

   بن معیط۔کنیت ان کی ابوحصین تھی۔عبسی ہیں ۔ابوجعفرطبری نے کہاہے کہ یہ ان نو آدمیوں سے ہیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھے اوراسلام لائے تھے ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا لقس ابن  سلمان رضی اللہ عنہ

   ۔کعب بن عجرہ کے غلام تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھا۔حضرت کعب سے روایت کرتے ہیں۔ ان کی حدیث ابوضمرہ نےسعد بن اسحاق بن کعب سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مند ہ اورابونعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے کہاہے کہ ابن مندہ نے ان کاتذکرہ لکھاہےاوراس سے زیادہ کچھ نہیں لکھااورکسی محدث یا مورخ نے اس بارے میں ان کی موافقت نہیں کی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا لصیت ابن  خثیم رضی اللہ عنہ

   بن حرملہ ۔ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاگیاہے۔فتح مصر میں شریک تھے۔ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔یہ ابن یونس کابیان ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا لجلاج رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ابوالعلأ عامری ہے۔عامر بن صعصاع کے بیٹے ہیں صحابی ہیں دمشق میں رہتےتھے۔ان سے ان کے دونوں بیٹوں علااورخالد نے روایت کی ہے محمد بن اسحاق سراج نے ابوہمام سے انھوں نے بشربن اسمعیل حلبی سے اورانھوں نے عبدالرحمن بن علابن لجلاج سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں سات برس کی عمرمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لایاتھا۔ایک سوبیس کی عمرمیں ان کی وفات ہوئی کہتےتھے جب سے میں اسلام لایامیں نے پیٹ بھرکے کھانانہیں کھایابقدرکفایت کھاناکھاتاہوں اوربقدرکفایت پانی پیتاہوں۔محمد بن اسحاق سراج نے بیان کیاہے کہ یہ حدیث محمد بن اسمعیل سے بھی مروی ہے۔انھوں نے اس کو اپنی تاریخ میں روایت کیاہے ہمیں احمد بن ابی سکینہ نے خبردی وہ کہتےتھےہمیں ابوغالب ماوردی نے ابوداؤدسے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھےہم سےعبدہ بن عبداللہ نے اورمحمد بن داؤد بن صبیح نے بیان کیا۔۔۔

مزید

سیّدنا لجلاج ابن  حکیم رضی اللہ عنہ

  ۔حجاف بن حکیم سلمی کے بھائی ہیں۔ان کا شماراہل جزیرہ میں ہے۔ابوالملیح نے محمد بن خالد سلمی سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے جو صحابی ہیں روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھےمیں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھےکہ جب بندہ کے لیے اللہ کی طرف سے کوئی مرتبہ مقررہوجاتاہے کہ اس مرتبہ پر وہ بندہ اپنے اعمال کے ذریعہ سے نہیں پہنچ سکتاتواللہ اس کوبدنی یامالی یااولاد کی مصیبت دیتاہےپھراس کو ان مصائب پرصبر عنایت کرتاہے پس اس کی وجہ سے وہ اس مرتبہ پر پہنچ جاتاہے جواللہ عزوجل کی طرف سے اس کے لیے مقررہوچکاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔میں کہتاہوں کہ لجلاج اگرحجاف کے بھائی ہیں توحکیم بن عاصم بن سباع بن خزاعی بن محاربی بن مرہ بن ہلال ابن فالج بن ذکوان بن ثعلبہ بن بہثہ بن سلیم بن منصورکے بیٹے ہیں۔سلمی ذکوانی ہیں۔قبیلہ ثعلب کی لڑائی میں حجاف کے بہت سے واقعات ہیں اخطل نے ۔۔۔

مزید

سیّدنا لبید رضی اللہ عنہ

  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے ہیں ۔یحییٰ بن عبدالرحمن بن لبید نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادالبید سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب لڑکا تین دن کاروزہ رکھ لے اوراس کو برداشت ہوجائے توپھراس کو رمضان کاروزہ کاحکم دینا چاہیے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھاہے اورکہاہے کہ بعض لوگ ان کو لبیبہ کہتےہیں اورلبیبہ کے نام میں بھی ان کو ذکرکیاہے۔عبدان نے ایساہی بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید