اتوار , 16 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 03 May,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت شیخ علاؤ الدین بن شیخ بدر الدین سلیمان

  حضرت خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ کے تمام پوتوں اور نواسوں میں زیادہ ممتاز تھے آپ علو درجات، رفعت مقامات، شدت مجاہدات اور ذوقِ  مشاہدات میں یگانہ روزگار تھے۔ آپ جو دوسخا میں مشہور  تھے اور طہارت ظاہری وباطنی میں بے نظیر تھے۔ چنانچہ صائم الدہر تھے (یعنی ہمیشہ روزہ رکھتے تھے) ایک پہر رات گئے آپ  نماز اور اذکار ومشاغل سے فارغ  ہوکر ایک روتی کو گھی لگاکر تناول فرماتے تھے۔ یہی آپ کا افطار  ہوتا تھا۔ حالانکہ دوسرے لوگوں کے لیے انواع واقسام کے کھانے تیار کراتے تھے۔ ایک دن حضرت خواجہ گنجشکر چارپائی پر تشریف رکھتے تھے۔ خواجہ علاؤ الدین  دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے آئے اور چارپائی  کا پایہ پکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ حضرت خواجہ گنجشکر نے اپنے منہ سے پان نکال کر اُنکے منہ میں دیا اور کرسی (یعنی چوکی) پر بیٹھ کر وضو بنانے لگے  خواجہ عیسیٰ نامی درویش جو حضرت اقدس کی ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ شہاب الدین

  آپ کےخلیفہ حضرت شیخ شہاب الدین ہیں۔ جن کا مزار قصبہ جھنجانہ میں ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ بلاقی کتھیلی

  آپکے  دوسرے خلیفہ حضرت شیخ بلاقی   کتھیلی ہیں آپ حضرت شیخ کے اکابر خلفا میں سے تھے۔ اور ریاضت ومجاہدہ،  فقیر وفنا اور کشف و کرامات میں بے نظیر تھے۔ آپکو حضرت شیخ سوندہا س سے محبت   تھی۔ اور انکو اپنے احباب میں شمار کرتے تھے۔ آپکو ذکر جہری  اور حبس دم میں کمال حاصل تھا۔ اور عالم لاکیف اور لا مثال  کا آپ پر اس قدر غلبہ تھا کہ اس سے  زیادہ تصور میں نہیں آسکتا۔ غرضیکہ  حضرت  شیخ دؤد کی تمام کیفیت کے آپ حامل تھے۔ حضرت شیخ داؤد اس جہان سے جب رخصت ہوگئے  تو شیخ بلاقی کیلئے اپنے پیر  کے جمال کے بغیر دنیا تاریک ہوگئی۔ چنانچہ آپ  سفر حج پر روانہ ہوئے اور مکہ معظمہ کی زیارت کے بعد مدینہ منورہ  حاضر ہوکر وہیں مقیم ہوگئےحتیٰ کہ آپکا وہیں وصال ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ (قتباس الانوار)۔۔۔

مزید

سیدنا) ابراہیم (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبید بن رفاعہ انصاری زرقی ابو موسی نے ایسا ہی بیان کیا ہے اور ابو موسی (ان ابراہیم کو صحابی نہیں کہتے چنانچہ انھوں) نے کہا ہے کہ عبدان نے ان کو صحابہ میں شمار کیا ہے اور بواسطہ اپنی اسناد کے محمد بن منکدر سے انھوں نے ابراہیم بن عبید بن رفاعہ انصاری سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا حضرت بو سعید خدری نے کچھ کھانا تیار کیا اور رسول خدا ﷺکی اور آپکے صحابہ کید عوت کی ان میںسے ایک شخص نے کہا کہ میں روزہسے ہوں رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے بھائی (ابو سعید خدری) نے تمہارے لئے تکلیف اٹھائی اور کھانا تیار کیا لہذا تم ۰اس وقت چل کے) کھالو اور اس روزے کے عو میں اور روزہ رکھ لینا بو موسی نے اس کے بعد بیان کیا ہے کہ یہ ابراہیم تابعی ہیں وہ اس حدیث کو حضرت ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں مگر اس سند میں انھوں نے حضرت ابو سعید کو چھوڑ دیا اور دوسریسند میں ابراہیم سے بواسطہ ابو سعید خدری کے مروی ہ۔۔۔

مزید

سیّدنا غشمیر ابن درید رضی اللہ عنہ

   نے بیان کیاہے کہ صحابہ میں قبیلۂ بنی خطمہ سے ایک شخص غشمیربن خرشہ قاری تھےانھیں نے عصماء بنت مروان یہودیہ کوقتل کیاتھاجو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجوکیاکرتی تھی اورابوعمرنے کہاہے کہ ان کا نام عمیرتھاجیساکہ اوپرگذرچکا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا غسان عبدی رضی اللہ عنہ

۔کنیت ابویحییٰ تھی۔قبیلہ ٔ عبدالقیس کے وفد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آئے تھے۔ان سے ان کے بیٹے یحییٰ نے روایت کی ہے کہ یہ کہتےتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ظروف (یعنی وباءونقیر وحنتم وغیرہ)کےاستعمال سے منع فرمایاتھا(لہذا ہم نے نبیذ کا استعمال ترک کردیاکیوں کہ نبیذ انھیں ظروف میں بنتی تھی بنیذ کے ترک کردیےسے)ہم لوگوں کو سوء ہضم کی شکایت پیداہوگئی پس ہم سال آئند ہ میں پھررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں گئے اورعرض کیاکہ یا رسول اللہ آپ نے ہمیں ان ظروف کے استعمال سے منع فرمایاتھااب ہم کو سوء ہضم۱؎شکایت پیداہوگئی آپ نے فرمایااورجس ظرف میں چاہو نبیذ بناؤاورکوئی نشہ کی چیز نہ بناؤ پس جو شخص تم میں سے چاہے وہ گناہ گارہوکران ظروف کا استعمال کرے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا غسان ابن خنیس رضی اللہ عنہ

  ۔اسدی۔ابن دباغ نے ان کا تذکرہ اسی طرح مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا غزیہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  بن عطیہ بن خنساء بن مبذول بن عمروبن غنم بن مازن بن نجاربن ثعلبہ بن عمروبن خزرج انصاری خزرجی نجاری۔بیعت عقبہ میں شریک تھے۔یہ موسیٰ بن عقبہ کا قول ہے۔احد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔یہ سراقہ بن عمرووالد ضمرہ بن غزیہ کے بھائی ہیں۔ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا غرقدہ ابوشبیب رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ابوشبیب تھی۔صحابہ میں ان کاتذکرہ کیاگیاہے مگرصحیح نہیں ہے۔ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا تذکرہ اسی طرح مختصر لکھاہےاورابوموسیٰ نے کہاہے کہ حافظ ابوعبداللہ ابن مندہ نے ان کی کوئی حدیث نہیں لکھی مگرابوبکربن علی نے اپنی سند کے ساتھ زکریابن عدی سے انھوں نے سلام سے انھوں نے شبیب بن غرقدہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمیں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے سناآپ حجتہ الوداع میں فرماتے تھےکہ جو شخص کوئی جرم کرے گا اس کااجراسی کواٹھاناپڑے گاکسی کے جرم کانتیجہ اس کے باپ یابیٹے پرنہ بڑےگا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا غرفہ ابن حارث رضی اللہ عنہ

   کندی۔کنیت ان کی ابوالحارث ہے۔صحابی ہیں۔زمانہ ردت میں عکرمہ بن ابی جہل کے ساتھ ہوکرلڑےتھے۔ان سے کعب بن علقمہ اورعبداللہ بن حارث نے روایت کی ہے۔ہمیں ابو احمد بن ابی منصورامین نے اپنی سند کے ساتھ ابوداؤد یعنی سلیمان بن اشعث سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن  حاتم نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سےعبدالرحمن بن مہدی نے ابن مبارک سے انھوں نے حرملہ بن عمران سے انھوں نے عبداللہ بن حارث ازدی سے انھوں نے غرفہ بن حارث سےروایت کرکے خبردی کہ وہ کہتےتھے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجتہ الوداع میں شریک تھاکچھ اونٹ قربانی کے لیے آپ کے سامنے لائے گئے آپ نے فرمایاابوالحسن کو میرے پاس بلالاؤ چنانچہ حضرت علی بلائے گئےآپ نے فرمایانیزے کے نیچے کا حصہ تم پکڑو اوراوپر کا حصہ آپ نے پکڑاپھردونوں نے مل کراونٹوں کو مارنا شروع کیاپھربعد اس کے جب آپ اپنےخچر پر سوارہوئے تو حضرت علی ۔۔۔

مزید