منگل , 18 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 05 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عمرو رضی اللہ عنہ

  ان کا نسب بھی نہیں بیان کیاگیاعمروبن شعیب نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ پڑھاتوایک شخص جن کا نام عمرو تھا کھڑے ہوئے اورانھوں نےکہاکہ یارسول اللہ میں اپنےایک چچاکے ہمراہ ایک روزچلاجارہاتھاان کو زمین کی تپش زیادہ محسوس ہوئی انھوں نے مجھ سے کہاکہ اپنی جوتیاں مجھے دے دو میں نے کہا اس شرط پر دیتاہوں کہ اپنی لڑکی کا نکاح میرے ساتھ کردوانھوں نے کہااچھا میں نے اپنی جوتیاں ان کو دے دیں تھوڑی دیرتک وہ میری جوتیاں پہن کرچلے بعداس کے میری جوتیاں اتاردیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اس لڑکی کاخیال تم چھوڑدو کیوں کہ اس میں بھلائی نہیں ہے۔پھر انھوں نےکہاکہ میں نے زمانہ جاہلیت میں نذرکی تھی آپ نے فرمایاکہ معصیت کے متعلق نذر صحیح نہیں نہ اس چیزمیں جوآدمی کے اختیارمیں نہ ہوان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکئی ا۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو رضی اللہ عنہ

  ان کا نسب نہیں بیان کیاگیا۔ان کا نام جعبل تھانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کانام عمرورکھاہے ہم ان کا تذکرہ جیم کی ردیف میں لکھ چکے ہیں ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن یعلی رضی اللہ عنہ

   ثقفی۔بیان کیاہے کہ یہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازمیں شریک تھے۔ ہمیں یحییٰ بن محمودنے اجازۃً اپنی سند ابوبکریعنی احمد بن عمرو تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے سفیان بن موسیٰ نے بیان کیاہے وہ کہتےتھے ہم سے مہران نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے علی بن عبدالاعلی نے ابوسہیل ازدی سے انھوں نے عمروبن دینارسے انھوں نے عمروبن یعلی سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھے کسی فرض نماز کا وقت آگیااوراس وقت ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اپنی سواریوں پرسوارتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت فرمائی مگرآگے نہیں کھڑے ہوئے راوی کہتاہے کہ میں نے ابوسہل سے پوچھاکہ اس کی کیاوجہ تھی انھوں نے کہا اس کی وجہ میرے خیال میں یہ تھی کہ جگہ تنگ تھی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہےاورابن مندہ اور ابونعیم نے کہاہے صحابی ہوناصحیح نہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن یزید رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ابوکبشہ تھی۔انماری ہیں۔ابوبکربن ابی علی نے ان کاتذکرہ اسی طرح لکھاہے ان کے نام میں اختلاف ہے جو کچھ اوپربیان ہوچکا ہےاورانشاءاللہ تعالیٰ ہم کنیت کے باب میں ذکر کریں گےان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن یثربی رضی اللہ عنہ

  ۔ضمری حجازی خبث الجمیش میں جوسیف البحر کا علاقہ ہے رہتےتھے۔فتح مکہ کے سال اسلام لائےتھےاورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مشرف ہوئےتھےاورآپ سے احادیث کی کی روایت کہ ہے۔ہمیں ابویاسربن ابی حبہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے خبر دی وہ کہتےتھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہمیں ابوعامر نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عبدالملک یعنی ابن حسن حارثی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالرحمن بن ابی سعید نے بیان کیاوہ کہتےتھے میں نے عمارہ بن جاریہ ضمری سے سنا وہ کہتےتھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ منیٰ میں سناآپ کے خطبہ میں ایک مضمون یہ بھی تھاکہ کسی مسلمان کودوسرے مسلمان کا مال حلال نہیں ہے مگرجو وہ اپنی خوشی سے دے دے یہ کہتےتھےجب میں نے اس کو سناتومیں نے کہاکہ یا رسول اللہ بتائیےاگرمیں اپنے چچازاد بھائی کی بکریوں میں سے کوئی بکری لے لوں تو مجھ پر کیاہوگا آپ نے ۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن وہب رضی اللہ عنہ

   ثقفی۔ہم ان کا تذکرہ سعدسلمی کے نام میں کرچکے ہیں۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو رضی اللہ عنہ

  ابن واثلہ۔کنیت ان کی ابوالطفیل تھی۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ اسی طرح لکھاہے مبار ک بن فضالہ نے کثیر یعنی ابومحمدکوفی سے انھوں نے عمروبن واثلہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےایک مرتبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے یہاں تک کہ دندان مبارک کھل گئے پھرآپ نے فرمایاکہ تم لوگ مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں کیوں ہنسا سب نے عرض کیاکہ اللہ اوراس کے رسول کو خوب علم ہے آپ نے فرمایااس وقت مجھے اس بات پر ہنسی آئی کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ زنجیروں میں باندھ کرکشاں  کشاں جنت  کی طرف لائے جاتے ہیں اوروہ خودآنا نہیں چاہتےصحابہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ یہ کیابات ہےآپ نے فرمایاعجم کے کچھ قومیں ہوں گی جن کو مہاجرین قید کرکے اسلام میں داخل کریں گے وہ خوداسلام میں داخل ہونانہ چاہتے ہوں گے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن ہرم رضی اللہ عنہ

   بیان کیاگیاہے کہ یہ بھی ان لوگوں میں تھےجن کے حق میں آیہ کریمہتولوواعینہم تفیض من الدمعنازل ہوئی تھی۔ان کا تذکرہ اوپرکرچکے ہیں۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو رضی اللہ عنہ

  لقب ان کا ذوالنورتھا۔طفیل دوسی کے بیٹےہیں ۔موسیٰ بن سہل برمکی  نے ان کانسب بیان کیاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک مرتبہ دعادی تھی تو ان کے کوڑے میں روشنی  پیداہوگئی تھی۔ واقعہ یرموک میں شہید ہوئےان کو لوگ ذوالنورکہتےتھے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے اورابونعیم نے کہاہے کہ ان کے والد طفیل کے کوڑے میں روشنی پیداہوگئی تھی ہم اس کو بیان کرچکے ہیں اوران کے بیٹے عمروکے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن یغمان رضی اللہ عنہ

   ان سے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے روایت کی ہے۔ ان کاتذکرہ ابوعمرنے اسی طرح مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید