بن حارث بن اسد بن عبدالعزیزبن قصی بن کلاب قریشی اسدی۔والدہ ان کی زینب بنت خالدبن عبدمناف بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ تھیں۔یہ زبیرکاقول ہے انھوں نے سرزمین حبش کی طرف ہجرت کی تھی اوروہیں وفات پائی۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئےتھےان سے حضرت ابوہریرہ نے روایت کی ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضرہوئےتھےاورآپ سے کچھ پوچھاتھاہمیں ابواحمد یعنی عبدالوہاب بن علی نے اپنی سند کے ساتھ ابوداؤد سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حماد نے بیان کیاوہ کہتےتھےہمیں محمد بن عمرونے ابوسلمہ سے انھوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کرکے خبردی کہ عمروبن اقیش رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئےزمانہ جاہلیت میں ان کے گھرانے میں سے کوئی شخص قتل ہوگیاتھالہذایہ قاتل سے انتقام لئے بغیراسلام پسن نہ کرتےتھےپس یہ احد کے دن(مدینہ)آئے اورپوچھاکہ میرے چچاکے بیٹے کہاں ہیں لوگوں نے کہااحد میں ہیں انھوں نے (نام لے کر)پوچھا فلاں فلاں لوگ کہاں ہیں لوگوں نے کہااحد میں ہیں پس انھوں نے اپنا لباس پہنااورگھوڑے پر سوارہوکراحد کی طرف روانہ۔۔۔
مزید
سعیدقریشی نے ان کا تذکرہ صحابہ میں لکھاہے۔شریح بن عبیدحضرمی نے حارث بن حارث سے انھوں نے عمروبن اسودابوامامہ سے انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایاقریش کے پیشواؤں میں سے جولوگ اچھے ہوں گے وہ تمام دنیاکے پیشواؤں سے بہترہوں گے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔میں کہتاہوں کہ یہ تینوں تذکرہ میں لکھ چکاہوں مگر میں نہیں کہہ سکتاکہ یہ تینوں ایک ہیں یاجدانداان تینوں تذکروں کوابونعیم نے ذکرکیاہے لیکن نہ انھوں نے کوئی نسب ذکرکیانہ اورکوئی چیزایسی بیان کی جس سے کوئی فیصلہ ان کے ایک یاجداجدا ہونے کاہوسکےباقی رہیں ہر تذکرہ کی حدیثیں تو ممکن ہےایک ہی شخص سے کئی کئی حدیثیں مروی ہوں واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔عنسی۔ابن ابی عاصم۔ہمیں عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکےخبردی وہ کہتےتھےمجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوالیمان نے ابوبکربن ابی مریم سے انھوں نے حکیم بن عمیراورضمرہ بن حبیب سے روایت کرکے بیان کیاوہ دونوں حضرت عمربن خطاب سے روایت کرتے تھےکہ انھوں نے فرمایاجس شخص کواس بات کی خواہش ہو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے روش اپنی آنکھوں سے دیکھےاس کو چاہیے کہ عمروبن اسود کی روش کو دیکھ لے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نےلکھاہےاورکہاہے کہ یہ عمرو صحابی نہیں ہیں بلکہ وہ صحابہ اورتابعین سے حدیث کی روایت کرتےہیں۔ان کا تذکرہ ابوالقاسم دمشقی نے لکھاہےاور انھوں نے کہاہے کہ ان کا نام عمروہے مگربعض لوگ عمیربن اسود کہتےہیں۔کنیت ان کی ابوعیاض ہے اوربعض لوگ ابوعبدالرحمن بیان کرتےہیں قبیلہ عنس کے اورحمص شہرکے رہنے والے تھے اوربعض لوگوں کابیان ہے کہ انھ۔۔۔
مزید
بن عامر۔جنگ یمامہ میں شہیدہوئے۔ابن دباغ نے ان کا تذکرہ ابوعمرپراستدراک کرنے کے لیے مختصری لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
حسن بن سفیان اوربغوی وغیرہمانےان کاتذکرہ لکھاہے۔ہمیں ابوموسیٰ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن حرب مروزی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوعلی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوعمروبن حمدان نےبیان کیاوہ کہتےتھےہم سے حسن بن سفیان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن حرب مروزی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم ے محمد بن بشرعبدی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبیداللہ بن عمرنے ابن شہاب انھوں نے عمروبن ابی الاسدسے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے میں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاکہ صرف ایک چادراوڑھےہوئے نمازپڑھ رہےتھےاوراس چادرکے دونوں سرے آپ نے اپنےشانوں پرڈال لیےتھے اس حدیث کوعیاش دوری نے اورعلی بن حرب نے اورابوکریب نے محمد بن بشرسے اسی طرح روایت کیاہے اوربعض لوگوں کابیان ہے کہ اس میں محمدبن بشرسے غلطی ہوگئی ہے صحیح وہ ہے جوابواسامہ وغیرہ نے عبیداللہ سے انھوں نے زہری سے انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں۔۔۔
مزید
۔بعض لوگ ان کوابن ابی اراکہ کہتےہیں۔بصرہ میں رہتےتھے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے حسن بصری نے روایت کی ہے کہ عمروبن اراکہ زیادکے ساتھ تخت پر بیٹھے ہوئےتھے ایک شخص اس کے سامنے آیاجس نے جھوٹی گواہی دی تھی زیاد نے کہااللہ کی قسم میں تیری زبان کاٹ ڈالوں گاعمرونے کہامیں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو مثلہ کی ممانعت کرتے ہوئے اورصدقہ کاحکم دیتےہوئے سناان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔کنیت ان کی ابوزید تھی انصاری ہیں۔اپنی کنیت ہی سے زیادہ مشہورہیں بیان کیاجاتاہے کہ یہ بنی حارث بن خزرج سے ہیں اوربعض لوگوں کاقول ہے کہ یہ نہ اوس سے نہ خزرج سے ہیں۔ ہم انشاءاللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں ان کا تذکرہ پورالکھیں گے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی غزوہ کیےاوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سرپرہاتھ پھیراتھااوران کو خوبصورتی کی دعادی تھی ہمیں خطیب عبداللہ بن ابی نصر نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو نقیب طراد بن محمد نے اجازۃً خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوالجیش بن بشران نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوعلی بن صفوان نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں عبداللہ بن محمد بن عبیدنے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوخثیمہ یعنی زہیر نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے علی بن حسن بن شقیق نے بیان کیاوہ کہتےتھےہمیں حسین بن واقد نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابونہیک ازدی نے عمروبن اخطب سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھ۔۔۔
مزید
۔یہ ابن قانع کاقول ہے اورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ شہربن حوشب سے انھوں نے عمرسے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں یمن کا رہنے والاایک شخص تھاقریش سے میری حلف کی دوستی تھی مجھے ابوسفیان نے قاصدبناکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجامجھے اسلام بہت پسند آیاچنانچہ میں مسلمان ہوگیا۔ان کا تذکرہ ابوعالی غسانی نے ابوعمرپر استدراک کرنے کے لیے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔خزاعی۔کعبی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہےتھےاورآپ کی یہ حدیث ان کو یاد تھی کہ قبیلۂ اسلم کوخداہرآفت سے سواموت کے بچائےاورقبیلۂ غفار کو اللہ بخش دے اورکوئی قبیلہ انصارکے قبیلہ سے افضل نہیں۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید