آپ سیّد کرم شاہ بن سیّد حاجی شاہ کے بڑے بیٹے اور مرید وخلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ اخلاق حسنہ آپ پرہیزگار۔متقی۔رحمدل۔قبیلہ پرور۔صاحب جودو سخا تھے۔دنیااور اہل دنیاسے نفرت تھی۔جس مجلس میں غیبت یادنیاوی باتوں کا شغل ہوتا۔آپ وہاں سے اُٹھ جاتے۔ تعمیرمسجد مسجد جامع چک سادہ کی تعمیراول حضرت سیّد صالح محمد قدس سرہٗ کے ہاتھ سے ہوئی تھی۔اُس کابرآمدہ آپ کےزمانہ میں تیارہوا۔ آپ سے کافی مخلوق فیضیاب ہوئی۔ اولاد آپ کے چار بیٹے تھے۔ ۱۔سیّد شرف شاہ۔ ۲۔سیّد جلال شاہ۔ ۳۔پیرسَید شاہ لاولد۔ ۴۔سید فضل شاہ۔ تاریخ وفات سید برہان شاہ کی وفات بقول صحیح ۲۷جمادی الآخرہ۱۲۶۷ھ میں ہوئی۔قبر گورستانِ صالحیہ میں ہے۔ مادۂ تاریخ "کاشانہ فیض"۔ (سریف التوایخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ سیّد بوٹے شاہ بن سیّد کرم شاہ چک سادووالہ رحمتہ اللہ علیہ کےبڑے بیٹے اورمریدو خلیفہ تھے۔ بزرگی اوردرویش میں کمال تھے۔سعادت ونجابت وفضیلت موروثی رکھتےتھے۔ اولاد آپ کے پانچ بیٹے تھے۔ ۱۔سیّد محمد شاہ۔ ۲۔سیّد دیدارشاہ۔ ۳۔سیّد شرف شاہ۔ ۴۔سیّد معصوم شاہ۔ ۵۔سیّد بغداد شاہ لاولد۔ ؎ سیّدمحمدشاہ ۔اپنے آبائی گاؤں چک سادہ رہائش منتقل کرکے ڈھوڈووال ضلع سیالکوٹ میں تشریف لے گئے۔صاحب رعب واقبال اور جاہ وجلال تھے۔ان کے تین بیٹے ہوئے۔ سیّد صالح محمد۔سیّد جلال شاہ۔سیّد پیرشاہ۔ ؎ سیّد صالح محمد کے ایک فرزند سیّد عنایت شاہ ۔اس وقت ۱۳۵۲ھ میں موجود ہیں اور &nb۔۔۔
مزید
آپ سیّد حاجی شاہ بن سیّد علیم اللہ چک سادہ والہ کے فرزند اکبراور مریدو خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ آپ مدت العمریاد خداوہدایت وارشاد خلق اللہ میں مصروف رہے۔عبادت کے سواکوئی کام نہ تھا۔ اولاد آپ کےدو بیٹے تھے۔ ۱۔سیّد برہان شاہ۔ ۲۔سیّد جعفرشاہ۔ ؎ سیّد برہان شاہ کا ذکر ساتویں باب میں آئےگا۔ ؎ سیّد جعفرشاہ۔نیک بخت اہل عبادت پارساتھے۔۱۲۶۲ھ میں انتقال کیا۔ان کے ایک ہی فرزند سیّد حسین شاہ تھے۔ ؎ سیّد حسین شاہ کے تین بیٹے تھے۔پیر سَید شاہ۔سید رسول شاہ۔سید چنن شاہ۔ ؎ پیر سید شاہ کے سات بیٹے تھے۔سیّد بڈھے شاہ۔سیّد حاکم شاہ۔سیّد معصوم شاہ۔سیّد محمد &nb۔۔۔
مزید
آپ سیّد حاجی شاہ بن سیّد علیم اللہ چک سادہ والہ کے فرزند اکبراور مریدو خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ آپ مدت العمریاد خداوہدایت وارشاد خلق اللہ میں مصروف رہے۔عبادت کے سواکوئی کام نہ تھا۔ اولاد آپ کےدو بیٹے تھے۔ ۱۔سیّد برہان شاہ۔ ۲۔سیّد جعفرشاہ۔ ؎ سیّد برہان شاہ کا ذکر ساتویں باب میں آئےگا۔ ؎ سیّد جعفرشاہ۔نیک بخت اہل عبادت پارساتھے۔۱۲۶۲ھ میں انتقال کیا۔ان کے ایک ہی فرزند سیّد حسین شاہ تھے۔ ؎ سیّد حسین شاہ کے تین بیٹے تھے۔پیر سَید شاہ۔سید رسول شاہ۔سید چنن شاہ۔ ؎ پیر سید شاہ کے سات بیٹے تھے۔سیّد بڈھے شاہ۔سیّد حاکم شاہ۔سیّد معصوم شاہ۔سیّد محمد &nb۔۔۔
مزید
فرزند سیّد کرم شاہ بن سیّد علی اصغربن سیّد احمد بن سیّد فیض اللہ۔آپ کی بیعت طریقت باباگلوشاہ درویش ساکن کورے کے سے تھی۔جن کاذکرکتاب ہذاکی جلد سوم موسوم بہ تذکرۃ النوشاہیہ کے چھٹے حِصّہ میں آئےگا۔ واقعہ بیعت منقول ہے کہ ایک بارباباگلوشاہ چک سادہ میں آئے ۔توآپ نے اُن کی خدمت میں مُرید ہونے کی التماس کی۔اُنہوں نے فرمایاکہ آپ سادات سے ہیں اورمیں غریب قوم بافندہ سے ہوں۔میری کیامجال ہے؟ آپ نے ان کو ایک کوٹھڑی میں بند کردیااور کہاکہ جب تک مجھےمرید نہ بناؤگے۔نہیں نکالوں گا۔آخر انہوں نے بیعت کیااورفیض سے مالامال کردیا۔ اولاد آپ کی اہلیہ کانام سیّد عائشہ بی بی تھا۔جو۱۲۷۲ھ میں فوت ہوئیں۔ان کے بطن سے دوبیٹے پید اہوئے۔ ۱۔سیّد جھناں شاہ۔ ۲۔سیّد گوہر شاہ لاولد۔ (سریف التوایخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ سیّد علیم اللہ بن سیّد عبدالواسع چک سادہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداصغر اور مریدو خلیفہ تھے۔اپنے وقت میں امام طریقت و مقتدائے حقیقت تھے۔ زہد وعبادت آپ زہدوعبادت وکشف وکرامت میں مشہور تھے۔اپنے اقران و معاصرین سادات میں سے بلند مقام والے تھے۔آپ سے اکثرلوگ فائزالمرام ہوئے۔ ایک جذامی کو تندرست کرنا منقول ہے کہ موضع بَن باجواہ میں آپ کاایک مریدرمضان شاہ نام تھا۔آپ کسی سبب اُس سے ناراض ہوگئے۔نظر جلالیت سے دیکھا تواس کو جذام ہوگیا۔گاؤں سے الگ ہوگیا۔کچھ عرصہ کے بعد آپ وہاں تشریف لے گئے اُس نے منت زاری کرکےآپ کو راضی کیا۔آپ نے اُس کے جسم پر ہاتھ پھیراتووہ اسی وقت تندرست ہوگیا۔ آپ کی کوئی اولاد صلبی باقی نہ رہی۔ یارانِ طریقت آپ سے اکثرلوگ فیضیاب ہوئے۔ ۱۔ باباگلّو شاہ &nbs۔۔۔
مزید
۔انصاری۔عاتکہ بنت نعیم کے بھائی ہیں۔صحابی ہیں۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
اشجعی۔یہ سفرخیبرمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رہبرتھے۔ان کاتذکرہ بغوی نے اسی طرح لکھا ہے مگران کی کوئی حدیث روایت نہیں کی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن خناس بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرجی سلمی۔ابن ہشام نے کہا ہے کہ بلدمہ کی بے کوضمہ اور بے کے بعد ذال منقوطہ ہے۔یہ عبداللہ ابوقتادہ کے چچازادبھائی تھے یہ عبداللہ بدرمیں اوراحد میں شریک تھے یہ ابن اسحاق اور ابوموسیٰ کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عجلان بن زید بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج انصاری خزرجی۔ بدر میں شریک تھے اوراحد کے دن شہید ہوئے۔یہ ابن کلبی کاقول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید