جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت علّامہ قاضی وہاج صاحب

علّامہ مولانا قاضی وہاج صاحب، خطیب دربار حضرت بابافرید علیہ الرحمۃ، پاکپتن شریف، پنجاب، پاکستان  ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا فضلِ رسول

حضرت مولانا فضلِ رسول، مدرّس جامعہ غوثیہ جامع العلوم، خانیوال  ۔۔۔

مزید

حضرت علّامہ شوکت علی سیالوی

حضرت علّامہ شوکت علی سیالوی، مدرّس جامعہ غوثیہ جامع العلوم، خانیوال  ۔۔۔

مزید

حضرت علّامہ مفتی عبد الحمید چشتی

حضرت علّامہ مفتی عبد الحمید چشتی، مدرّس جامعہ غوثیہ جامع العلوم ،خانیوال  ۔۔۔

مزید

پیر سید عبدالوہاب سالوی

پیر سید عبدالوہاب بن سید عبدالحمید سالوی  آپ بڑے مشائخ اور کبیر اولیاء میں شمار ہوتے تھے۔ بچپن میں اپنے باپ کے ساتھ ایک حوض میں نہارے تھے۔کوئی شخص پانی میں سے سے ظاہر ہوا۔ اور آپ کو کھینچ کر لے گیا اور گم ہوگیا ایک عرصہ کے بعد آپ اسی حوض سے برآمد ہوئے مگر کمالات و کرامات کے خزانے لے کر آئے۔ ایک بار آپ کے والد اپنے شاگردوں کو ہدایہ پڑھا رہے تھے آپ اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ہدایہ میں ایک مشکل مقام آیا۔ جہاں آپ کے والد رک گئے۔ آپ نے دور ہی سے اپنے والد کو اس مشکل سے نجات دلادی جوان ہوئے تو رجال الغیب کے ساتھ ہم مجلس رہتے ان حالات میں بھی کتابوں کا مطالعہ جاری رکھتے ایک دن آپ اپنے کتاب خانہ میں میں مطالعہ میں مشغول تھے کہ ایک شخص عیسائی لباس میں ظاہر ہوا اور کتابوں کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا یہ کیا ہے؟ اور تم کس شغل میں مشغول ہو۔ یہ بات سنتے ہی آپ نے کتابوں اور مطالعہ کو ترک ۔۔۔

مزید

حضرت حسین اصغر رضی اللہ عنہا

اِن کی اولاد سے سادات بنو میمون، بنو الجوائی، بنو طقسط، بنو المحترق، اشتریون، بنومکانسیہ، بنو عرام، بنو عجیبہ، بنو الصّایم، بنو معلاج، بنوابی الغنایم، بنو احمد، بنو طبیق، بنو عکّہ، بنو علون، بنو فوارِس، بنو عیلان، بنو الاعرج، بنو جلال، بنو شقائق، بنو خزعل، بنو مہنا، حاحدہ، جمامزہ، عقیقیون، بنو الموسوس، منقدیون، آلِ عدنان، بنو الکرش، بنو الفیل، بنو المضیرہ، بنو الفوطم، وغیرہم بلادِ مغرب، مصر، واسط، عراق، کرخ، مدینہ طیّبہ، بلخ، حلہ، دمشق، رَے، شیراز وغیرہ میں آباد ہیں۔ [۱] [۱۔ روضۃ الشہداء ۱۲] (شریف التواریخ)۔۔۔

مزید

میاں مراد بخش رحیمی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں جیواشاہ بن میاں ابراہیم المعروف عبدالرحیم کے فرزنداوراپنے چچامیاں محمدزمان کے مُرید تھے۔حضرت سیّد صبغتہ اللہ بن سیّد ابن یمین برخورداری ساہنپالوی سے بھی آپ کوارادت تھی۔ اُن سے بھی فیض حاصل کیا۔ مکتوب سیّد صبغتہ اللہ ایک مرتبہ سید صبغتہ اللہ نوشاہی برخورداری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کے اور میاں کریم بخش بن نورشاہ کے نام ایک مکتوب بھیجا۔کہ ہم نےجے سنگھ گھنیہ سے ایک تحریربنام میگھ سنگھ لکھواکرتم کوبھیج دی ہے۔لہذامیگھ سنگھ سے بیس من غلّہ وصول کرلیں۔آپ کا مکتوب یہ ہے۔ "خادم الفقراومیاں مرادبخش ۱؎ومیاں کرم بخش ازیں جناب میاں صبغتہ اللہ بعددعواتِ خیریت مشہورباداحوال ایں جائے بخیروخیریتِ ایشاں مطلوب ۔دریں وِلایاں راقصدِ لاہورمصمم افتادہ است و کاغذجے سنگھ گھنیہ بطرف میگھ سنگھ باجازت اونویسانیدہ فرستادہ شد۔بایدکہ بیست من غلّہ کہ در کاغذ مسطور است از سنگھ مومٰی الیہ وصول کنانیدہ نزد خ۔۔۔

مزید

میاں نورشاہ زمانی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں محمد زمان بن میاں ابراہیم المعروف عبدالرحیم رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے اور مریدو خلیفہ تھے۔ سیروسیاحت نسبت جذبہ آپ پرغالب تھی۔بحالتِ مجذوبی پھرتے پھراتےموضع مَنج  میں جو دریائے راوی پرایک گاؤں ہے۔چلے گئے۔والدکاانتقال بعدمیں ہوا۔آپ کے بیٹے میاں امام شاہ رحمتہ اللہ علیہ نےجاکر آپ کواطلاع دی توآپ واپس آئے۔ زُہد آپ دنیااور اہل دنیاسے کنارہ کش رہتے۔تمام کاروباردنیاوی اولاد پر چھوڑدئیے۔خود یادِ الٰہی میں رہتے۔لوگوں کو کم مریدبناتے۔ اولاد آپ کے دو بیٹے تھے۔ ۱۔میاں مبارک شاہ۔ ۲۔میاں امیرشاہ لاولد۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

میاں جیواشاہ رحیمی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں ابراہیم المعروف عبدالرحیم بن جانی کے تیسرے فرزندتھے۔والدہ صاحبہ کانام حضرت حسین خاتون بنتِ حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ تھا۔آپ کی بیعتِ طریقت اپنے بڑے بھائیں حکیم عبدالمجیدالمعروف حکیم صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ آپ کو والدنے دعادی تھی کہ  تعویذ دھاگہ اوردَم درود تیرااورتیری اولاد کا ہے۔چنانچہ جب تک آپ کی اولاد باقی رہی یہ بشارت اُن کے حق میں پوری رہی۔ پٹہ نامہ آپ بمعہ اپنے خالہ زاد بھائی میاں بختاور رحمتہ اللہ علیہ کے کاشتکاری کیاکرتے تھے۔ایک مرتبہ آپ نے مسمیاں بڈھااورسید خاں اور فقیراللہ اوردیندار سکنائے بھڑی سےایک قطعہ اراضی کاشتکاری کے واسطےلیااوراُس کا فصلانہ دوروپیہ دینا مقررہوا۔اس پٹہ کی یہ تحریرہے۔ "مایانکہ بوڈہاوسیدخاں وفقیراللہ ودیندار وغیرہ مقدمان و مالکان موضع بھڑی دھوتھڑ وعملہ پرگنہ حافظ آبادایم۔زمین بمیاں بختاور و جیوافروختہ نمودہ ایم کہ فصلانہ اش۔۔۔

مزید

میاں محمد زمان دُولارحیمی رحمتہ اللہ علیہ

  امامِ زَمَن شاہ محمد زمان کہ شد رامِ ایشاں زمین و زماں برحمانیاں ہمچو بدرِ منیر بتختِ ولائیت شہِ بے نظیر آپ سالک مسالِک طریقت۔ناہج مناہج حقیقت ۔خلاصہ خاندانِ قادریہ نوشاہیہ سلالہ دودمان رحمانیہ صاحب وجدو سماع تھے۔آپ میاں ابراہیم المعروف عبدالرحیم بن جانی کے دوسرے بیٹے تھے۔آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت حسین خاتون بنت حضرت پاک صاحب تھا۔ نام و لقب آپ کا نام محمدزمان۔لقب دُولا اوررحمان ثانی تھا۔۱۱۱۸ھ؁ میں تول ہوئے۔ تربیّت وتعلیم آپ سات سال کے تھے کہ والد بزرگوار کا انتقال ہوگیا۔بعدازاں اپنے بڑے بھائی حکیم عبدالمجید کے سایۂ عاطفت میں پرورش پائی ۔تعلیم ظاہری لاہور نیویں مسجد میں پائی۔ فنِ کتابت خطِ نسخ بھی سیکھا۔ بیعت طریقت آپ کوبڑے ہونے پرراہِ حق کاشوق ہواتوبڑے بھائی حکیم صاحب نے فرمایا کہ تمہارافیض حضرت سید شاہ عصمت اللہ حمزہ پہلوان خلف الصدق سید حافظ محمد برخوردا۔۔۔

مزید