شہِ عظمت اللہ کہ بعداز وصال! مصلّا نشین شد بوجہِ کمال آپ مرشد طالباں ۔راہ نمائے عارفاں ۔صاحب یمن و برکت تھے۔آپ حضرت سیّد محمد ہاشم رحمتہ اللہ علیہ دریادل ابنِ حضرت نوشہ گنج بخش علوی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسر ے بیٹے اورمرید و خلیفہ تھے۔ حضرت سیّد عمربخش رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب مناقباتِ نوشاہیہ میں آپ کو حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ بھڑیوالہ کامرید لکھاہے۔ تاریخ ولادت آپ کی ولادت ۱۰۸۲ھ میں بمقال ساہنپال شریف ہوئی۔ مادہ ہائے تاریخ ۱۔شیخ العالم ۲۔نیک بخت ۳۔عرش آستان کثرت فیضان آپ دس سال کے تھے کہ والد بزرگوار کا انتقال ہوگیا۔بچپن میں ہی عہد افاضت کوسنبھالا۔بہت لوگ آپ کے فیضان سے مستفیض ہوئے دوسال تک دنیاکو فیض سے سیراب کیا۔مرزااحمد بیگ لاہور۔۔۔
مزید
بنت عمیس الحثعیہ رضی اللہ عنہ۔ یہ پہلے آپ کے بھائی حضرت جعفر طیّار رضی اللہ عنہ کی منکوحہ تھیں، اُن کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا، پھر ان کے انتقال کے بعد حضرت امیر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں، اِن کے بطن سے دو لڑکے عون و یحییٰ پیدا ہوئے۔ [۱][۱۔ مسالک السّالکین جلدِ اوّل ص ۱۸۲] (شریف التواریخ)۔۔۔
مزید
زہے شاہ فضل اللہ داں خوردسال شدہ روبروہاشم اوراوصال آپ حضرت سیّد محمد ہاشم دریادل ابنِ حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اکبرتھے۔ ابتدائےعمرمیں ہی اپنے والدکی زندگی میں دنیاسے چل بسے۔ثواقب المناقب میں ہے ۔ "فیروزہ کانِ وقاروزمردِ کوہ اقتدار شاہ فضل اللہ نام کہ آں عقیق جگری والدبزرگوار کہ بحسن خط نام برآوردہ بودمانندخط زیرِ نگیں درپردۂ سنگِ لحدنشست"۔ (شریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
حضرتِ ہاشِم کہ دریادل خطابِ پاک اوست عالمِ ایجاد یکسربستۂ فتراکِ اوست آنچہ مردم طلب ازسُرمہ صفاہاں میکنند گوکہ جملہ یک بیک مخفی دردنِ خاکِ اوست بہرِ نعلینش بداں چرمےبہ ازچرمِ سُہَیل تارجانہائے ملک پئے شہ پاکِ اوست ہرکہ شدخاکِ قددمشق زیست خرّم درجہاں ہرکہ رُخ تابیدزودردوجہاں غمناک اوست آنکہ شداشرف ززہرمارِ دنیانیش خوار بالیقیں دائم کہ یادِ ایزدی تریاکِ اوست اوصاف جمیلہ آپ پیشوائے زمان،مرجع عارفان۔زبدۃ الواصلین۔قدوۃ الصالحین۔ برہان شریعت۔سُلطان طریقت۔خزینتہ حقیقت۔دُرّدریائے معرفت۔صاحب سخاوت وکرامت و خوارق و زُہدوتقوٰی ووجدسماع تھے۔آپ سیّد العارفین حضرت سیّد شاہ حاجی محمدنوشہ گنج بخش بن حاجی الحرمین حضرت سیّد علاوالدین حسین غازی علوی قادری قدس اللہ سرہماالعزیزکے فرزند ۔۔۔
مزید
پیشوا ماہِ لقا حاجی نوشہ گنج بخشؒ پیرِکامل باخداحاجی نوشہ گنج بخش پیرنوشہ رازدانِ انبیاؤ مرسلین! رنج وغم کی ہے دواحاجی نوشہ گنج بخش شاہ رحماں کو کیابھرپورنوشہ پیرنے چشمہ ہے عرفان کا حاجی نوشہ گنج بخش دست بستہ جو ہواحاضر تیرے دربارپر نورسے دامن بھراحاجی نوشہ گنج بخش اولیاسب کررہے ہیں نازتیرے نام پر شہ سلیماں کی رضاحاجی نوشہ گنج بخش باغِ نوشہ کا ظفر۱؎ادنیٰ ساغنچہ ہے حقیر درتیرے کاہوں گداحاجی نوشہ گنج بخش ۱؎یہ غزل میاں رحمت علی ظفرقادری نوشاہی مصطفائی ساکن کڑیال الانوالی چک نمبر۱۹ ضلع شیخوپورہ سے ہے۔ ۱۲ شرافت اوصافِ جمیلہ فخرالمشائخ والعلمأ امام الصوفیتہ و الاولیأ مرکزِ دائرہ توحید،چراغِ محفلِ تفرید، آفتابِ ۔۔۔
مزید
بنتِ حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ بن ربیع بن عبد العزّےٰ بن عبد المناف بن قصّی القرشیہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نواسی یعنی حضرت سیّدہ زینب رضی اللہ عنہ کے بطن سے تھیں، حضرت امیر رضی اللہ عنہ نے حسبِ وصیّتِ سیّدۃ النّسا رضی اللہ عنہا کے اِن سے نکاح کیا تھا، ۵۰ھ میں انتقال کیا، اِن کے بطن سے ایک لڑکا محمد اوسط پیدا ہوا۔ [۱][۱۔ مسالک السّالکین جلدِ اوّل ص ۱۸۲] (شریف التواریخ)۔۔۔
مزید
ابن ہلال قریعی۔ ابو تمام طائی نے ان کے چند اشعار حماسہ میں لکھتے ہیں جو ان کے صحابی ہونے پر دلالت کرتے ہیں ان میں سے شروع کے اشعار یہ ہیں۔ شھدن مع النبی مسومات حنینا و ھی دامیتہ الحوامی ووققہ خالد شہدت و حکت سنابکھا علی البلد الحرام (٭ان اشعار کا ترجمہ سبق میں لکھا جاچکا ہے) پس اگر یہ اشعار صحیح ہیں تو بلاشک یہ صحابی ہیں۔ اور ابن ہشام نے کہا ہے کہ یہ اشعار حجاج بن حکیم سلمی کے ہیں ہم ان کو جیم کی ردیف میں لکھ چکے ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
حبیب بن خدرہ نے حریش سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں اپنے والد کے اتھ تھا جب حضرت اعز سنگسار کئے گئے جب ان کے پتھر زیادہ لگے تو مجھے لرزہ آگیا رسول خدا ﷺ نے مجھے لپٹا لیا میرے اوپر آپ کا پسینہ ٹپکا جس میں مشک کی ایسی خوشبو تھی۔انکا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ ابن ماکولا نے کہا ہے کہ خدرہ بضم خای معجمہ و سکون دال مہملہ و فتح را ہے اور بعید ا سکے ہی ہے حریش کی اولاد میں سے ایک شخص تھے وہ اپنے والد کے ہمراہ تھے جب نبی ھ نے حضرت ماعز کو سنگسار کیا ان سے ابوبکر بن عیاش نے روایتکی ہے اور ابن عینیہ نے چند اشعار روایت کئے ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
یا ابو حریز۔ اسی طرح شک کے ساتھ مروی ہے۔ ان سے ابو لیلی کندی نے روایت کی ہے وہ کہتے تھے کہ میں رسول خدا ﷺ کے حضور میں پہنچا آپ منی میں خطبہ پڑھ رہے تھے پس میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سواری پر رکھ لیا میں نے دیکھا کہ اس کا زین بھیڑ کی کھال کا تھا ان کا تذکرہ ابو مسعود نے افراد میں لکھاہے اور انھوں نے کہا ہے کہ ان کا نام جریر یا ابو جریر ہے جیم کے ساتھ مگر پہلا ہی قول صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن شراحیل کندی۔ صحابی ہیں۔ ولید بن مسلم نے عمرو بن قیس کندی سکونی سے انھوں ن حریز سے روایت کی ہے اور اسماعیل ابن عیاش نے عمرو بن قیس سے انھوں ن حریز سے انھوں نے بواسطہ کسی اور شخص کے نبی ﷺ سے روایت کی ہے۔ ابو زرعہ دمشقی نے کہا ہے کہ اسماعیل کا قول زیادہ صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھاہے۔ حریز بفتح حاء و کسر را ہے اور آخر میں رے ہے۔ یہ ابن ماکولا کا قول ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ سال جارف واقع سن۶۶ھ میں شہید ہوئے تھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید