مدلجی۔ ان کا شمار صحابہ میں ہے۔ ہمیں حافظ ابوموسی یعنی محمد بن ابی بکر مدینہ نے اجازۃ خبر دی وہ کہت تھے ہمیں ابوبکر یعنی محمدبن عبید اللہ بن حارث نے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو احمد عطار مقرینے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے ابو حفص یعنی عمر ہیں شاہین نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں عبداللہ بن محمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابن سعد نے خبر دی وہ کہتے تھے میں حرملہ مدلجی یعنی ابو عبداللہ نے خبر دی کہ وہ منبع میں رہتے تھے انھوں نے نبی ﷺ سے سنا ہے۔ اور اآپ سے روایت کی ہے بعض لوگوں کا بیان ہے کہ آپ کے ساتھ کسی سفر میں بھی رہے ہیں۔ ان سے ان کے بیٹے عبداللہ نے بھی روایت کی ہے ہک یہ کہتے تھے میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم لوگ ہجرت کو دوست رکھتے ہیں مگر ہمارا ملک ہمارے لئے بہت موافق ہے حضرت نے فرمایا کہ اللہ تمہارے کسی عمل کو ناقص نہ کرے گا چاہے تو جہاں رہو ان کا تذرہ ابو عمر اور ابو موسی نے۔۔۔
مزید
ابن عمرو سنتہ اسلمی۔ والد ہیں عبد الرحمن بن حرملہ کے منبع میں رہتے تھے۔ عبد الرحمن بن حرملہ نے یحیی بن ہند بن حارثہ اسلی سے انھوں نے حرملہ بن عمرو سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں اپنے چچا سنان بن سنہ کے ساتھ تھا میں نے رسول خدا ﷺ کو خطبہ پڑھتے دیکھا تو میں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ آپ کیا فرما رہے ہیں انھوں نے کہا فرماتے کہ کنکریوں سے رمی جمار کرو اس حدیث کو عبدالرحمن بن حرملہ نے بہت لوگوں سے روایت کیا ہے منجملہ ان کے وہیب بن درداء اور در اور دی اور یحیی بن ایوب ہیں۔ یحیی بن ہند کے والد ہند بھی صحابی میں ہم ان کو ان کے مقام میں ان شاء اللہ تعالی زکر کریں گے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن ایاس۔ بعض لوگ ان کو حرملہ ابن ایاس کہتے ہیں۔ تمیمی عنبری ہیں ان کا شمار اہل بصرہ میں ہے۔ ان کی حدیث صفیہ اور دحیہ دختران علیبہ سے مروی ہے وہ اپنے والد علیبہ سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتی ہیں اور ضرغامہ بن علیبہ نے بھی ان سے رویت کی ہے۔ ہمیں عبداللہ بن احمد بن عبد القاہر یعنی ابو الفضل نے اپنی سند سے ابودائود طیاسی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ضرغامہ بن علیبہ بن حرملہ عنبری نے اپنے والد علیبہ سے انھوں نے ان کے دادا حرملہ سے رویت کر کے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے میں قبیلہ کے کچھ سواروں کے ہمراہ رول خدا ﷺ کی خدمت میں گیا حضرت نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی وہ ایسا وقت تھا کہ تاریکی کے سبب سے میں اپنے پاس والے آدمی کو نہ پہچان سکتا تھا پھر جب میں نے لوٹنے کا ارادہ کیا تو عرض کیا کہ یارسول اللہ مجھے کچھ وصیت کیجئے حضرت نے فرمایا کہ خدا سے۔۔۔
مزید
اِن کا اصلی نام زینب تھا، [۱] [۱۔ سیرۃ النبی جلدِ دوم ۱۲] والد کا نام حیی بن اخطب بن سبتہ بن ثعلبہ تھا، [۱] [۱۔مسالک السّالکین جلدِ اوّل ۱۲]جو قبیلہ بنو نضیر کا سردار اور حضرت ہارون علیہ السّلام کی اولاد سے تھا، والدہ کا نام ضرہ تھا جو بنو بنو قریظ کے رئیس کی بیٹی تھی، ان کا پہلا نکاح سلام بن مشکم القرظی سے ہوا، اس نے طلاق دی تو کنانہ بن ابی الحقیق کے نکاح میں آئیں، وہ جنگ خیبر میں مقتول ہوا تو یہ قیدیوں میں گرفتار ہوکر مسلمانوں کے پاس آئیں، اور دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں پڑیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لونڈی اُن کو دے کر صفیہ کو آزاد کروایا، [۱] [۱۔ سیرۃ النبی جلد دوم ۱۲] اور ماہِ محرم ۷ ھ میں ان کے ساتھ نکاح کیا، ان کی مرویّات سے دس (۱۰) حدیثیں ہیں، [۱] [۱۔مسالک السّالکین جلدِ اوّل ۱۲] ۵۰ھ میں انتقال کیا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں،[۱] [۱۔سیرۃ النبی۔۔۔
مزید
ابن زید انصاری۔ بنی حارثہ میں سے ایک شخص ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے روایت کی ہے وہ کہتے تھے کہ میں رسول خدا ﷺ کے حضور میں بیٹھا ہوا تھا کہ حرملہ بن زید انصاری آئے جو بنی حارثہ میں سے ایک شخص تھے وہ حضرت کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ایمان تو اس مقام پر ہے اور اپنے ہاتھ سے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا اور نفاق اس جگہ ہے اور اپنے ہاتھ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ یا اور ہم اللہ کا ذکر بہت کم کرتے ہیں پس رسول خدا ﷺ چپ رہے حرملہ نے اس کو کئی بر کہا پس رسول خداﷺ نے حرملہ کی زبان پکڑ لی اور کہا کہ اے اللہ حرملہ کو سچی زبان اور شکر کرنے والا دل عنایت کر اور ان کو میری محبت اور میرے محبت کرنے والوںکی محبت دے اور ان کا انجام بخیر کر حرملہ نے آپ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ میرے کچھ بھائی منافق ہیں میں ان سب کا سردار تھا کیا میں ان کے نام آپ کو بتا دوں رسول خدا ﷺ نے فرمایاکہ جو ۔۔۔
مزید
ابن ایاس۔ دادا ہیں صفیہ اور دحیہ دختران علیہہ کے۔ بغوی نے ان کے اور حرملہ بن عبداللہ جدضر غامہ کے درمیان میں فرق بیان کیا ہے اور حافظ ابو نعیم وغیرہ نے ان دونوں کو ایک کر دیا ہے اور سب لوگوں نے ان دونوں کا ذکر لکھا ہے ابو احمد عکسری نے ابن مندہ اور ابو نعیم اور ابو عمر کی طرح لکھاہے حرملہ بن ایاس عنبری اور بعض لوگ ان کو حرملہ بن عبداللہ ابن ایاس کہتے ہیں بنی مجفر بن کعب سے ہیں جو قبیلہ عنبر کی ایک شاخ ہے۔ اور یہی صحیح ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن زہیر سعدی۔ طبری نے ان کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ہر مزان فارسی والی خوزستان کافر ہوگیا اور اس نے اپنے یہاں کا جزیہ موقوف کر دیا اور قوم کرو سے مد لی اس کی جرعت بڑھ گئی پس سلمی نے اور ان کے ساتھ والوں نے یہ خبر عتبہ بن غزوان کو لکھ بھیجی عتبہ نے حضرت عمر بن خطاب و لکھ بھیجا حضرت عمر نے عتبہ کو ہرمزان سے لڑنے کا حکم دیا اور حرقوص بن زہیر سعدی کو جو رسول خدا ﷺ کے صحابی بھی تھے مسلمانوںکی مدد کے لئے بھیج دیا اور انھیں سردار جنگ بنایا پس مسلمانوں سے اور ہرمزان سے جنگ ہوئی ہرمزان کو شکست ہوئی حرقوص نے اہواز کے بازاروں کو فتح کر لیا اور وہیں فزکش ہوئے ہرمزان کی لڑائی میں انھوں نے بڑا کار نمایاں کیا۔ حرقوس حضرت علی مرتضی کے زمانے تک باقی تھے اور ان کے ستھ جنگ صفین میں شریک تھے۔ پھر خوارج میں سے ہوگئے اور ان سب سے زیادہ حضرت علی بن ابی طالب کے لئے سخت تھے جب حضرت علی نے خوارج سے قتال کی۔۔۔
مزید
ابن ابی حرب۔ ابو موسی نے کہا ہے کہ عبدان نے ان کا ذکر کیا ہے اور اس میں اختلاف ہے عبدان نے ابو سعید اشج سے انھوں نے وکیع سے انھوں نے سفیان سے انھوں نے عطاء بن سائب سے انھوں نے حرب بن ابی حرب سے انھوں نے نبی ﷺ سے رویت کی ہے کہ آپ نے فرمایا مسلمانوں پر عشر نہیں ہے عشر یہود و نصاری پر ہے۔ اس حدیث کو ابو نعیم یعنی فضل بن وکین نے سفیان سے انھوں نے عطاء سے انھوں نے حرب بن عبید اللہ سے انھوں نے انے ماموں سے جو بکر بن وائل کے ایک شخص تھے روایتکی ہے اور جریر نے عطا سے انھوں نے حرب بن ہلال ثقفی سے انھوں نے ابو امیہس ے جو بنی ثعلبہ کے ایک شخص تھے انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ مں کہتا ہوں کہ حرب بن ابی حرب اگر قبیلہ بکر کے ہیں تب تو کچھ بھی اختلاف نہ رہے گا کیوں کہ قبیلہ بکر سے ہونا اور بنی ثعلبہس ے ہونا ایک بت ہے اس لئے کہ ثعلبہ بیٹِ ہیں عکابہ بن صعب بن علی بن۔۔۔
مزید
ابن حارث محاربی۔ ان سے ربیع بن زیاد نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے رسول خدا ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نے عورتوں کو درس (نام خوشبو) کے استعمال کا حکم دے دیا ہے درس (اس زمانے میں) یمن سے آگیا تھا۔ ان کا تذکرہابو عمر اور ابو نعیم اور ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ملحان۔ ملحان کا نام مالک بن خالد بن زید بن حرامبن جنیدب بن عامر بن غنم ابن عدی بن نجار ہے۔ انصاری ہیں نجاری ہیں پھر بنی عدی بن نجار سے ہیں۔ حضرت انس بن مالک کے ماموںہیں۔ بدر میں اور احد میں شریک تھے اور بیرا معونہ کے دن شہید ہوئے۔ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے انس بن حام بن لمحان سے روایت کی ہیک ہ حرام بن لمحان حضرت انس کے ماموں تھے جب بیر معونہ کے دن ان کے نیزہ لگا تو اپنا خون لے کے انھوں نے اپنے چہرہ برادر اپنے سر پر چھڑک لیا اور کہا کہ میں تو قسم عرب کعبہ کی پہنچ گیا ہمیں ابو محمد بن ابی القاسم یعنی علی بن حسن بن ہتبہ اللہ دمشقی نے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عبد الرحمن بن ابراہیم یعنی ابو محمد نے خبر دی وہ کہتے ھے ہمیں ابو الفرج یعنی سہل بن بشر بن احمد بن سعید نے خبر دی وہ کہتے تھے میں ابوبکر یعنی خلیل بن ہتبہ اللہ بن خلیل نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عبد الوہاب بن حسن کلابی نے ۔۔۔
مزید