ابن زید۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ کلبی نے ان کا ذکر ان صہابہ میں کیا ہے جو جنگ صفین میں علی بن ابی طالب کے ہمراہ تھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
بن حمیل بن بسبہ بن قرط بن مرہ بن نصر بن دہمان ابن بصار بن سبع بن بکر بن اشجع اشجعی اسلام لائے اور نبی ﷺ کی صحبت سے اٹھائی۔ طبری نے ان کا ذکر لکھا ہے یہ ابو عمر کا قول ہے اور ابو موسینے کہا ہے کہ دارقطنی نے اور ابن ماکولا نے ابن جریر سے ان کا تذکرہ نقل کیا ہے اور ہشام بن کلبی نے کہا ہے کہ بدر میں نبی ﷺ کے ہمراہ شریک تھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن اصرم کلبی اجداری۔ (اجدار) اک قبیلہ ہے کلب کا اجدار کا نام عامر بن عوف بن کنانہ بن عوف بن عذر میں زہد لات بن رفیدہ بن ثور بن کلب بن وبرہ ہے۔ کلبی نے کہا ہے ہ ان کو لوگ اجدار اس وجہ سے کہتے ہیں کہ دیوار کے نیچے بیٹھے رہا کرتے تھے ( ایک مرتبہ) ایک شخص عامر بن عوف بن بکر کو پوچھتا ہوا آیا ایک شخص نے کہا کہ کس عامر کو پوچھوتے ہو عامر بن عوف بن بکر کو یا عامر اجدار کو چنانچہ یہ لقب ان کا مشہور ہوگیا بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کی گردن میں جدرہ یعنی آیلہ تھا اسی سے ان کا نام اجدار ہوگیا اجدار ایک بڑا قبیلہ ہے اس قبیلہ سے شہسواروں کی ایک جماعت ہے۔ شرنی بن قطامی نے کلبی سے انھوںنے زہیر بن منظور کلبی سے انھوں نے جاریہ بن اصرم اجداری سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے (مقام دومۃ الجندل میں ایک دست بشکل انسان دیکھا اور پوری حدیچ انھوں نے ذکر کی۔ابو نعیم نے کہا ہے کہ ان کا صحابی ہونا اور نبی ﷺ۔۔۔
مزید
ابن منذر۔ ان سے حسن اور ابن سیرین نے روایت کی ہے۔ یہ ابن مندہ کا قول ہے انھوں نے اس تذکرہ کو علاوہ تذکرہ سابقہ کے لکھا ہے اور کہا ہے کہ محمد بن اسمعیل بخاری نے کتاب الواحدان میں لکھا ہے کہ یہ دو شخص تھے اور انھوںنے ان دونوں کے درمیان میں فرق بیان کیا ہے۔ ان کی حدیث ابن مسہر نے اشعث سے انھوں نے ابن سیرین سے انھوںنے جارود سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں رسول خدا ھ ے حضور میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ میں ایک دوسرے دین پر ہوں کیا اگر میں اپنے دین کو چھوڑ کر آپ کے دین میں داخل ہو جائوں تو اللہ تعالی قیامت میں مجھے عذاب نہ کرے گا آپ نے فرمایا ہاں۔ ان کا تذکرہ صرف ابن مندہ نے کیا ہے۔ میں کہتا ہوںکہ ابن مندہ نے ان جارود کو جن کا ذکر ان سے پہلے ہوچکا ہے دو قرار دیا ہے حالانکہ یہ دونوں ایک ہیں بعض راویوں نے جو کنیت ان کی ابو المنذر دیکھی تو ان کو ابن المنذر سمجھ لیا ہے۔ واللہ اعلم۔ (۔۔۔
مزید
آپ بھی سیّد محمد گیسو دراز کے مرید اور خلیفہ تھے آپ کو ظاہری اور باطنی علوم میں مکمل دسترس حاصل تھی، اپنےمرشد سے عوارِفَ المعارِف وغیرہ کتب پڑھ کر پھر خلافت حاصل کی، آپ نے کئی کتابیں لکھی ہیں جن میں سے علم نحو میں ’’تکمیل‘‘ اور تصوف میں ’’مشاہدہ‘‘ مشہور ہیں، اس کے علاوہ بھی آپ کی کئی تصنیفات ہیں، آپ کا مزار بھی کالپی میں ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
ابن معلی۔ اور بعض لوگ ان کو ابن علاء کہتے ہیں اور بعض لوگ ان کو جارود بن عمرو بن معلی عبدی ہیں۔ قبیلہ عبد القیس سے کنیت ان کی ابو المنذر ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں ابو غیاث اور بعض لوگ کہتے ہیں ابو عتاب مجھے خیال ہوتا ہے کہ امیں سے کوئی ایک تصحیف ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام بشر ہے۔ ان کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام جارود ابن معلی بن علاء ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں جارود بن عمرو بن علائہے اور بعض لوگ کہتے ہیں جارود بن علی بن عمرو بن حنش ابن یعلی۔ اور کلبی نے کہا ہے کہ (ان کا نام) جارود (ہے) اور (مشہور) نام ان کا بشر بن حنش بن معلی ہے معلی کانام حارث بن یزید بن حارثہ بن معاویہ بن ثعلبہ بن جزیمہ بن عف بن بکر بن عوف بن انمار بن عمرو بن ودیعہ بن لکیز بن افصی بن عبدالقیس ہے عبدی ہیں ان کی والدہ دریمکہ بنت ردیم ہیں قبیلہ بنی شیعبان سے ان کا لقب جارود اس وجہ سے ہوا کہ انھوںنے۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابو مسلم صدفی ہے۔ ان سے ان کے بیٹے مسلم نے روایت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا میری امت کے منافق (بھی) اس قرآن کو خوب (٭مطلب یہ ہے کہ بعض منافق ایسے ہوں گے جو قرآن کے الفاظ کو یاد کر لیں گے اور اس کے معانی کو پس پشت ڈال دیں گے اس حدیث کا مشاہدہ برائے العین آج کل فرق باطلہ میں ہو رہا ہے) یاد کر لیں گے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھاہے اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ بعض لوگوں نے یعنی ابن مندہ نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ میرے نزدیک یہ صحابی نہیں ہیں اور ان کا ذکر نہ متقدمیں نے کیا ہے نہ متاخرین نے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن یاسر بن عویص بن فدک بن ذی ایوان بن عمرو بن قیس بن سلمہ بن شراحیل بن حارث بن معاویہ بن مرتع بن قتبان بن مصبح بن وائل بن رعین رعینی قتبانی۔ فتح مصر میں شریک تھے ان لوگوں میں ہیں جن کا ذکر صحابہ میں کیا جاتا ہے۔ ابو سعید بن یونس نے بیان کیا ہے کہ جو ہوشیار لوگ فتح مصر میں شریک تھے ان میں جابر بن یاسر بن عویص قتبانی بھی تھے جو دادا ہیں عیاش اور جابر کے جو دونوں بیٹِ ہیں عباس بن جابر کے۔ ان کی کوئی حدیث معلوم نہیں۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے مگر ان دونوں نے عویص کے بعد ان کا نسب نہیں بیان کیا۔ اور جس طرح ہم نے ان کا نسب بیان کیا ہے ابن ماکولا نے بھی ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ عویص عین مہملہ کے ساتھ ہے اس کے بعد واو ہے اور اس کے آخر میں صاد مہملہ ہے پس ان کا نام جابر ہے اور انھوں نے (ان کے نسب میں) شرحبیل کی جگہ شراحیل کہا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن نعمان بن عمیر بن مالک بن قمیر بن مالک بن سواد بن مری بن اراشہ بن عامر بن عمیلہ بن قمیل بن فران بن بلی بلوی سوادی۔ قبیلہ بنی سواد سے ہیں ان کا صحابی ہونا ثابت ہے یہ انصار کے حلیف ہیں کعب بن عجرہ کے گروہ سے ہیں جن کی عمر بہت ہوئی تھی اور انھوں نے یہ شعر کہے تھے۔ تہدلت العینان بعد ظلالہ و بعد رضا فاحسب الشخص راکہا و ابعد ما انکرت کنی استبینہ فاعرفہ و انکر التقاء با (٭ترجمہ۔ دونوں آنکھیں بعد آرام اور عیش کے سست ہوگئی ہیں۔ (اب فتور آگیا ہے کہ میں پیادہ کو سوار سمجھتا ہوں اور سب سے زیادہ تعجب ہے کہ دور کی اور چیز کو میں پہچان لیتا ہوں اور قریب کی چیز کو نہیں پہچان سکتا) ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ماجد صدفی۔ نبی ﷺ کے حضور یں وفد بن کے حاضر ہوئے ھے۔ فتح مصر میں شریک تھے یہ ابو سعید ابن یونس کا قول ہے۔ ان کی حدیث میں اختلاف ہے۔ اوزاعی نے قیس بن جابر صدفی سے انھوںنے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے انھوںنے رسول خدا ﷺ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا میرے بعد خلفا ہوں گے اور خلفاء کیبعد امراء ہوں گے اور امرائکے بعد ظالم بادشاہ ہوں گے پھر ایکشخص میرے اہلبیت میں سے ظاہر ہوگا جو دنیا کو عدل سے بھر دے گا جس طرح (اس سے پہلے) ظلم سے بھر دی گئی ہوگی اور اس کے بعد قحطائی امیر بنایا جائے گا پس قسم ہے س کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ بھی اس سے کم نہ ہوگا۔ اوزاعی نے قیس بن جابر سے اسی طرح رویت کیا ہے اور ابن لہیعہ نے عبدالرحیم بن قیس سے انھوں نے جابر سے انھوں نے ان کے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے اس حدیچ کو روایت کیا ہے۔پس اوزاعی کی روایت کے موافق (جابر صحابی نہ ہوں گے ب۔۔۔
مزید