حافط ابو موسی نے ابن مندہ پر اتدراک کرنے کی غرض سے لکھا ہے کہ ان کا تذکرہ عبدان نے لکھا ہے اور انوں نے اپنی سند سے عبدان بن محمد سے انھوں نے عباس بن محمد سے انھوں نے ابو نعیم سے انھوں نیعبدالسلام بن حربس ے انھوں نے ابو خالہ ابن یزید بن عبدالرحمن سے انھوں نے محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے انھوں نے بہینہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا نبی ﷺ کا میری طرف سے گذر ہوا۔ طلوع فجر کے بعد میں کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا تھا آپنے فرمایا کہ جس طرح ظہر سے پہلے یعنی ٹھیک دوپہر کے وقت) اور بعد اس کے (یعنی غروب آفتاب کے وقت) نماز پڑھنا ممنوع ے اسی طرح یہ نامز بھی نہ پڑھا کرو ان (٭معلوم ہوا کہ طلوع فجر کے بعد سوا دو رکعت سنت فجر اور دو رکعت فرض فجر کے اور کوئی نماز پڑھنا چاہئے یہی مذہب حنفیہ کا ہے) دونوں کے درمیان میں فصل کر دیا کرو ابن مندہ نے کہا ہے کہ عبدان نے اس کا ذکر اسی طرح کیا ہے ور صحیح وہ ہے جو ہم۔۔۔
مزید
ابو ربیعہ کے بیٹِہیں۔ انکا نام عمرو بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ہے۔ قرشی ہیں مخزومی یں ان کا نام بحیر تھا مگر نبی ﷺ نے ان کا نام عبداللہ رکھا۔ عمرو بن عبداللہ ابن ابی ربیعہ شاعر مشہور کے والد ہیں اور خالد بن ولید اور ابوجہل بن ہشام کے چچازاد بھائی ہیں۔ ابن مندہ نے ان کا تذکرہ بحیر کے نام میں لکھاہے اور ان تینوں نے ان کا تذکرہ عبدلالہ بن ابی ربیعہ میں لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
بگیر الف کے۔ یہ انماری ہیں۔ ابن ماکولا نے لکھا ہے کہ ان کا صہابی ہونا چابت ہے اور ان کی روایت بھی نبی ﷺ سے ہے کنیت ان کی ابو سعید الخیر ہے ان کا ذکر انشاء اللہ کنیت کے باب میں آئے گا۔ ابن سمیع نے ان کا تذکرہ طبقات میں کیا ہے۔ ان سے قیس بن حجر کندی نے اور ابن لہیعہ اور بکر بن مضرس نے رویت کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
) ان کا تذکرہ ابو موسی نیابن مندہ پر استدراک کرنیکے لئے لکھا ہے مقاتل وغیرہسے نقل کیا ہے کہ جعفر بن ابی طالبکے ہمراہ بتیس آدمی حبش کے نبی ﷺ کے حضور میں آئے تھے اور آٹھ آدمی شام کے۔ بحیر، ابرہہ، اشرف، تمام، ادریس، ایمن، نافع، تمیم۔ پس معلوم ہوتاہے کہ ابن مندہ کے نزدیک یہ اور کوئی شخص ہیں اور نہ وہ ان کا تذکرہ بطور استدراک کے کیوں لکھتے کیونکہ بحیرا راہبکا تزکرہ ابن مندہ نے بھی لکھا ہے اور بحیرا راہباس وقت تک غالبا زندہ بھی نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
راہب۔ انھوں نے نبی ﷺ کو قبل آپ کی نبوت کے دیکھا تھا اور آپ پر ایمان لائے تھے۔ ابن عباس نے روایت کی ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اٹھارہ برس کی عمر سے نبی ﷺ کے ہمراہ رہتے تھے اس وقت نبی ﷺ کی عمر بیس برس کی تھی وہ دونوں تجارت کی غرض سے شام جارہے تھے یہاں تک کہ جب ایک منزل میں قیام کیا تو وہاں ایک درخت بیریکا تھا نبیﷺ اس کے سایہ میں بیٹھ گئے اور ابوبکر صدیق اس راہبکے پاس گئے اس سے کچھ پوچھنا چاہتے تھے راہب نے ان سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہیں جو بیری کے سایے میں بیٹھے ہیں حضرت ابوبکر نے کہا کہ یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں راہب نے کہا خدا کی قسم یہ نبی ہیں (ہمارے یہاں لکھا ہوا ہے کہ) اس درخت کے سایہ میں عیسی بن مریم علیہ السلامکے بعد سوا محمد ﷺ کے کوئی نہ بیٹھے گا اسی وقت سے حضرت ابوبکر کے دل میں یقین اور تصدیق آگئی تھی چنانچہ جب آنحضرت ﷺ نبی ہوئے تو ابوبکر صدیق رضیاللہ عنہ نے (فورا۔۔۔
مزید
ابن صبع بن اتتہ رعینی۔ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور فتح مصر میں شریک ہوئے تھے وہاں انھوں نے کچھ زمیں بھی لی تھی ان کا خطہ رعین کے نام سے مشہور ہے۔ابوبکر سمیں بن محمد بن بحر ان کی اولاد میں ہیں جو سلسلہ میں عمر بن عبدالزیز کی خلافت میں وسیاط کے حاکمت ھے۔ مردان بن جعفر بن خلیفہ بن بحر بھی ان کی اولاد میں ہیں جو بڑے فصیح شاعر تھے انھوں نے اپنے دادا کی مدح میں یہ اشعار کہے تھے۔ وجدی الذی عاطی الرسول یمیںہ وخبت الیہ من بعید رواکبہ بدر لنا بیت اقامت ماصولہ علی المجد ینی حلوہ و اسافکہ (٭ترجمہ۔ میرے دادا وہ ہیں جنھوں نے (بیعت کے لئے) رسول اللہ کو اپنا داہنا ہاتھ دیا۔ اور بہت در سے ان کی سواری کے جانور رسول کے پاس آئے۔ بدر میں ہمارا ایک گھر ہے جس کی بنیادیں درست ہیں اس کے اوپر اور نیچے کا تمام حصہ بزرگی پر بنا ہے) ابو ع۔۔۔
مزید
ابن ثعلبہ بن خرمہ بن اصرم بن عمرو بن عمارہ بن مالک بن عمرو بن بثیرہ بن مثنوء بن قشر بن تمیم بن عوذ مناہ بن تاج بن تیم بن اراشہ بن عامر بن عبیلہ بن قشمیل بن قران بن بلی بن عمرو بن الحاف بن قضاعہ بلوی انصار کے حلیف ہیں۔ یہ اور مجذر بن ذیاد عمرو ابن عمارہ میں جاکے مل جاتے ہیں۔ ہشام نے ان کا نسب اسی طرح بیانیا ہے مگر ابو عمر نے ان کو مالک کی طرف منسوب کیا ہے بعد اس کے کہا ہے کہ یہ بلوی ہیں۔ بنی عوف بن خزرج کے حلیف ہیں۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ کلبی نے بیانکیا ہے کہ بحاث بے کے ساتھ ہے اور ابراہیم ابن سعد نے ابن اسحق سے نحاث نون کے ساتھ رویت کیا ہے ان کا تذکرہ نون کے باب میں آئے گا۔ رسول خدا ﷺ کے ہمراہ بدر میں شریک ہوے تھے۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ میرے نزدیک ابن کلبی کا قول صحیح ہے۔ ان کے دو بھائی تھے عبداللہ اور یزید عبد اللہ جنگ بدر میں شریک تھے اور یزید عقبہ کی دونوں بیعتوں میں شریک تھے مگر ب۔۔۔
مزید
ابن عمران خزاعی۔ یہی ہیں جنھوں نے فتح مکہ کے دن یہ اشعار کہے تھے۔ وقد انشاء اللہ السحاب بننصرتا رکام سحاب الہید ب المتراکب وہجر تنا فی ارضنا عندنا بہا کتاب النامن خیر مل و کاتب ومن اجلنا حلت بمکتہ حرمتہ لندرک ثار ابا یسوف القوم ضب (٭ترجمہ۔ اللہ نے ہماری مدد کے لئے بادل پیدا کیا۔ ایسا بادل جو تہ بر تہ مثل تو وہ ریگ کے تھا۔ اور ہم نے اپنے ملک کی طرف ہجرت کی۔ وہاں ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو عمدہ لکھنے والے کی لکھی ہوئی ہے (یعنی قرآن) ہماری وجہ ے مکہ میں لڑائی جائز ہوئی۔ تاکہ ہم چھپ جانے والے کو مشیر بران سے ہلا کریں) باب الباء والحاء (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن مرہ بن عبداللہ بن صعب بن اسدیہ وہی ہیں جنھوں نے نبیﷺ کی گٹھری چرائی تھی۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
یہ زہیر بن ابی سلمہ کے بیٹِ ہیں۔ ابو سلمہ کا نام ربیعہ بن ریاح بن قرط بن حارثبن مازن بن علاوہ بن چیعلبہ بن ثور بن ہرطمہ ابن لاطم بن عچمان بن مزینہ مزئی۔ کعب بن زہیر کے بھائی ہیں اپنے بھائی کعب سے ہلے اسلام لائے تھے اور یہد ونوں بھائی بڑے عمدہ شاعر تھے اور ان کے والد بھی بڑے نامور شعرا میں تھے۔ حجاج بن ذی الرقیبہ بن عبدالرحمن بن کعب بن زہیر بن ابی سلمیںے اپنیوالد سے انھوں نے ان کیدادا سے روایت کی ہے کہ کعب اور بجیر جو دونوں زہیر کے بیٹے تھے اپنے گھر سے نکلے یہاں تک کہ مقام ابرق عذاف میں پہنچے تو بجیر نے کعب سے کہا کہ تم ہماری بکریوں کو لیے ہوئے اس مقام پر ٹھہرو میں ذرا اس شخص یعنی نبی ﷺ کے پاس جائوں سنوں کہ وہ کیا کہتا ہے راوی کہتا ہے ہ کعب وہین ٹھہر گئے اور بجیر رسول خدا ﷺ کے حضور یں حاضر ہوئے۔ حضرت نے ان پر اسلام پیش کیا اور وہ مسلمان ہوگئے یہ خبر کعب کو پہنچی تو انھوں نے کہا۔ الا ۔۔۔
مزید