/ Thursday, 03 April,2025


مولانا سید محمد مرغوب اختر الحامدی رحمۃ اللہ تعا لٰی علیہ   (112)





عرشِ حق کا شانۂ مہردنیٰ ماہِ مبیں

عرشِ حق کا شانۂ مہردنیٰ ماہِ مبیں دل تجلّی خانۂ مہرِ دنیٰ ماہِ مبیں تاجِ سُبحانَ الَّذِی اَسْریٰ ہے اے صلِّ عَلٰی بر سرِ شاہانۂ مہرِدنیٰ ماہِ مبیں فرش سے تا عرشِ اعلیٰ، عرش سے تا لامکاں ہے حد کاشانۂ مہرِدنیٰ ماہِ مبیں ہوش کی دنیا میں اک تیرے جنوں کی دھوم ہے مرحبا دیوانۂ مہرِدنیٰ ماہِ مبیں نقشِ وَاللِّیلِ اِذَایَغْشٰی کے آئینے میں ہے طرزِ زلف و شانۂ مہرِدنیٰ ماہِ مبیں دل بھی ہے ناچیز تحفہ ، جاں بھی ہے ناچیز شَے کیا کروں نذرانۂ مہرِدنیٰ ماہِ مبیں آیۂ لَاتَقْنَطُوا میں مستتر ہے عاصیو بخششِ شاہانۂ مہرِدنیٰ ماہِ مبیں کائناتِ حُسن میں تیری یہ نور افشانیاں جلوۂ جانانۂ مہرِدنیٰ ماہِ مبیں کوثر و تسنیم کے ہمراہ دے ساقی مجھے خلد میں پیمانۂ مہرِدنیٰ ماہِ مبیں مَے فشاں مینائے مَازَاغْ الْبَصَر سے ہے ہنوز نرگسِ مستانۂ مہرِدنیٰ ماہِ مبیں میں نے اختؔر پی ہے دستِ ساقی بغداد سے بادۂ میخانۂ مہرِدنیٰ ماہِ مبی۔۔۔

مزید

آئیے تسکینِ جانِ زار کی باتیں کریں

آئیے تسکینِ جانِ زار کی باتیں کریں سرورِ دیں سیدِ ابرارﷺ کی باتیں کریں ہو رہی ہیں بادلوں سے چاند کی اٹکھیلیاں ہم بھی ان کے کاکل درخسار کی باتیں کریں ہوش آجائے نہ پھر میرے جنونِ شوق کو چارہ گر طیبہ کے صحرا زار کی باتیں کریں گوشِ نازک سے ہے یوں زلفِ نبیﷺ کا اتصال دو حسِیں جیسے بہم اسرار کی باتیں کریں بلبلیں گل کی، چمن کی گفتگو کرتی رہیں ہم محمّدﷺ کے لب و رخسار کی باتیں کریں اوج پر ہے ان کے دیوانے کی شوریدہ سری آپ طیبہ کے درو دیوار کی باتیں کریں ہم تو اختؔر یوسفِ طیبہ کے ہاتھوں بِک چکے کرنے والے مصر کے بازار کی باتیں کریں ۔۔۔

مزید

لَیلتہ القَدر سے وَالفَجْر عیاں ہے کہ نہیں

لَیلتہ القَدر سے وَالفَجْر عیاں ہے کہ نہیں عارضِ نور پسِ زلف نہاں ہے کہ نہیں کہیئے جنت کا مدینے میں سماں ہے کہ نہیں جو وہاں لطف ہے رضواں وہ یہاں ہے کہ نہیں یہ بھی سوچا کبھی اے شکوہ گرِ ہجرِ حبیب کہ تِرا ذوق شعلہ بہ جاں ہے کہ نہیں جامِ مَازَاغ سے اَسریٰ کا جھلکتا ہے سرور چشمِ مخمورِ نبیﷺ بادہ فشاں ہے کہ نہیں ہے تِری خاک ہمہ کیمیا تاثیر مگر فطرتِ برق بھی ہستی میں نہاں ہے کہ نہیں تم نے دیکھا ہے جہاں نقشِ کفِ پائے حضورﷺ وہیں جبریل کے سجدے کا نشاں ہے کہ نہیں یہ زمیں اور یہ اشعارِ شگفتہ اختؔر مائلِ نعت مِری طبعِ رواں ہے کہ نہیں ۔۔۔

مزید

لب پہ اشعار تِرے وصف میں جب آتے ہیں

لب پہ اشعار تِرے وصف میں جب آتے ہیں تذکرہ عرش پہ قدسی مرا فرماتے ہیں ان کے تلووں سے جو ذرّات چمٹ جاتے ہیں بخدا عرش کے تارے وہی کہلاتے ہیں تِری راہوں میں کچھ ایسے بھی مقام آتے ہیں منزلِ قربِ الہٰی سے جو مِل جاتے ہیں مدنی چاند تِرا ذکر جہاں ہوتا ہے عالمِ قدس کے انوار اُتر آتے ہیں خلد کی سمت چلا، کوئی حرم کی جانب اُن کے دیوانے مدینے کیطرف جاتے ہیں مرتبہ تیرے غلاموں کا کوئی کیا جانے؟ جب مَلَک آنکھ مِلاتے ہوئے شرماتے ہیں رات دن سوئے مدینہ ہے نظر اے اختؔر یاد کب دیکھئے آقاﷺ مجھے فرماتے ہیں ۔۔۔

مزید

تھی جن کے نام سے ہلچل جہاں کے تاجداروں میں

تھی جن کے نام سے ہلچل جہاں کے تاجداروں میں ہوئے ہیں وہ فدائی بھی نبیﷺ کے جانثاروں میں کہاں وہ دلکشی گلزارِ جنت کی بہاروں میں جو رنگینی، جو نزہت ہے عرب کے خارزاروں میں حضورِ مصطفیٰﷺ سُوئے ادب ہے لب کشائی بھی میں دل کی بات کہتا ہوں اشاروں ہی اشاروں میں نبیﷺ کی خاکِ پا کے شوخ ذرّے اُڑتے پھرتے ہیں کہاں سے آگئیں تابانیاں ورنہ ستاروں میں گزر جاتا ہے جس جانب بھی دیوانہ محمدﷺ کا بچھاتے ہیں فرشتے اپنی آنکھیں رہگزاروں میں زمانے بھر کے میکش لغزشیں کرتے ہیں مَے پی کر مگر کیفِ خدا بینی ہے اُن کے بادہ خواروں میں ہجومِ انبیاء﷧ میں یوں ہیں ختم المرسلیںﷺ اختؔر کہ جیسے چودھویں کا چاند روشن ہو ستاروں میں ۔۔۔

مزید

کتنی حسیں ہے اُن کے ثناخواں کی گفتگو

کتنی حسیں ہے اُن کے ثناخواں کی گفتگو آٹھوں پہر ہے سرورِ دوراں کی گفتگو ہر وقت کیجئے شہِ خوباں کی گفتگو آنکھوں کا ذکر ہو کبھی مثرگاں کی گفتگو اَسریٰ میں جب حضورﷺ تھے خالق سے ہمکلام تھی قُدسیوں میں عظمتِ انساں کی گفتگو اللہ اور سلسلۂ شب دراز تو ہو جاری ہے اُن کے گیسوئے ذیشاں کی گفتگو سُن لے جو تذکرہ بھی عذارِ حبیبﷺ کا چھیڑے نہ عندلیب گلستاں کی گفتگو کیا شامِ عیدِ آمدِ یادِ حبیبﷺ ہے ہے آنسوؤں میں جشنِ چراغاں کی گفتگو تیرے سوا خیالِ نبیﷺ! میں تِرے نثار سمجھا نہ کوئی دیدۂ گریاں کی گفتگو دردِ فراقِ طیبہ ہے خود میرا چارہ گر کیجے نہ میرے سامنے درماں کی گفتگو پھولوں کی بزم ہو کہ ہو تاروں کی انجمن ہوتی ہے آپ کے لب و دنداں کی گفتگو کل روزِ حشر مدحِ نبیﷺ کے طفیل میں اختؔر سے ہوگی حضرتِ حسّاں کی گفتگو ۔۔۔

مزید

زائر ہیں رواں شام و سحر سُوئے مدینہ

زائر ہیں رواں شام و سحر سُوئے مدینہ اے کاش ہو اپنا بھی سفر سُوئے مدینہ سر سُوئے حرم، دل ہے مگر سُوئے مدینہ سجدے ہیں بالفاظِ دگر سُوئے مدینہ اِتنی ہو وارفتگئ شوقِ نظارا ہر وقت ہو بیتاب نظر سُوئے مدینہ اُٹھ اور نئے انداز سے اُٹھ میں تِرے صدقے لے چل مجھے اے دردِ جگر سُوئے مدینہ ذرّاتِ مدینہ کی کِشش دیکھ رہا ہوں جاری ہے ستاروں کا سفر سُوئے مدینہ ہر ذرّہ ہمہ طُور، ہمہ برقِ تجلّی باچشمِ کلیمانہ مگر سُوئے مدینہ کب دیکھئے سرکار سے آتا ہے بُلاوا دن رات ہے اختؔر کی نظر سُوئے مدینہ ۔۔۔

مزید

ہوتے ہی قیدِ تن سے رہا اپنے گھر گئی

ہوتے ہی قیدِ تن سے رہا اپنے گھر گئی مہجور روح تا درِ خیر البشر گئی بارانِ اشکِ غم میں نہا کر سنور گئی کچھ اور بھی عروسِ تمنّا نِکھر گئی اللہ ری بہشتِ مدینہ تِری بہار ہر گُل جناں بکف تھا جہاں تک نظر گئی فرمایا جو کلام وہ وحیِ خدا ہوا کی آپ نے جو بات وہ دل میں اُتر گئی طیبہ کی سمت لے کے درودوں کے ہار پھول دلہن بنی ہوئی مِری آہِ سحر گئی کھولی جو زلف آپ نے گلشن مہک اٹھے شانہ کیا تو کاکلِ ہستی سنور گئی اختؔر ہے میرے ہاتھ میں دامانِ مصطفیٰﷺ دنیا سنور گئی مِری عقبیٰ سنور گئی ۔۔۔

مزید

یہ مانا ؎ جان اِک دن قیدِ آب و گِل سے نکلے گی

یہ مانا[1]؎ جان اِک دن قیدِ آب و گِل سے نکلے گی ولائے مصطفیٰﷺ لیکن نہ میرے دل سے نکلے گی الہٰی کس قدر محبوب حسرت دل سے نکلے گی جو دیدارِ جمالِ رحمتِ کامِل سے نکلے گی خدا چاہے تو پائے گی جگہ آغوشِ رحمت میں عروسِ روح جس دن بھی حریمِ دِل سے نکلے گی عطائے بے طلب جب شان ہے تیری کریمی کی طلب کی پھر صدا کیسے لبِ سائل سے نکلے گی تمہاری یاد کے قربان کتنی کیف آور ہے نہ اب تک دِل سے نکلی ہے نہ کل تک دل سے نکلے گی سواری رحمتِ کونینﷺ کی میدان محشر میں لٹاتی رحمتیں ہر راہ پر منزل سے نکلے گی نظر سے تا حریمِ قدس ہے اِک نور کا عالَم کہ لیلائے تمنّا پردۂ محمل سے نکلے گی دمِ آخر جو ہوں گے سامنے معراج کے دولہاﷺ دلہن بن کر مِری جاں جسمِ آب و گِل سے نکلے گی رخ و زلفِ نبیﷺ کا ہے تصوّر رات دن اختؔر نہ دن مشکل سے نکلا ہے نہ شب مشکل سے نکلے گی    [1]اس مبارک نعت کے متعلق لسان الحسان علامہ ضیاء القادری ۔۔۔

مزید

تم پر نثار ہونے کو آئی ھے چاندنی

تم پر نثار ہونے کو آئی ھے چاندنی تاروں کے پھول نذر کو لائی ہے چاندنی اے نازنینِ حقﷺ! تِری بزمِ جمال سے سورج نے دھوپ چاند نے پائی ہے چاندنی یاد آگئی ہے تابشِ رخسارِ مصطفیٰﷺ کیا سرد آگ دِل میں لگائی ہے چاندنی وہ لب کُھلے کہ نور کا چشمہ اُبل پڑا وہ مسکرا دئے ہیں کہ چھائی ہے چاندنی طیبہ کی خاک سے پئے کسبِ تجلیات گردوں سے فرش پر اُتر آئی ہے چاندنی کرنا سلام عرض مدینے کے چاندﷺ سے تابابِ نور تیری رسائی ہے چاندنی شاید ملا ہے غازۂ خاکِ درِ حبیبﷺ کیا تیرا روپ تیری صفائی ہے چاندنی تو اپنی چاندنی مہِ کامل سمیٹ لے مجھ کو تو رب کے چاند کی بھائی ہے چاندنی وہ ذرّہ بن کے ماہِ مبیں ضوفشاں ہوا جس نے خدا کے چاند سے پائی ہے چاندنی روشن ہے تجھ سے شب‘ تو جمالِ حبیبﷺ سے میں نے بھی بزمِ نعت سجائی ہے چاندنی اختؔر ہے تابناک ہر اِک گوشۂ حیات ماہِ عرب کی دل میں سمائی ہے چاندنی ۔۔۔

مزید

جو ہیں حبیبِ خالقﷺ بر تر وہﷺ آگئے

جو ہیں حبیبِ خالقﷺ بر تر وہﷺ آگئے جشنِ سرور و نور ہے گھر گھر وہﷺ آگئے لب تشنہ! دیکھ ساقئ کوثر وہﷺ آگئے رحمت کا بادہ خانہ بہ ساغر وہﷺ آگئے نغمہ ہے بلبلوں کی زباں پر وہﷺ آگئے بولی کلی گلوں سے چٹک کر وہﷺ آگئے وقفِ پیامِ عید چمن میں صبا ھے آج جو ہیں بہارِ حسنِ گُلِ تَر وہﷺ آگئے دیتی ہے شاخ، شاخ کو پیغامِ تہنیت کہتا ہے پھول، پھول سے ہنس کر وہﷺ آگئے بھرتے ہیں رات دن جو فقیروں کی جھولیاں کرتے ہیں جو گدا کو تو نگر وہﷺ آگئے قسمت پہ اپنی آج ہیں نازاں گناہگار کہتے ہیں جن کو شافعِ محشر وہﷺ آگئے جانِ حزیں کا چَین، سکونِ شکستہ دِل جو ہیں قرارِ خاطرِ مضطر وہﷺ آگئے روشن ہے جن کے نام سے اسلام کا چراغ جو حق کے نازنین ہیں اختؔر وہﷺ آگئے ۔۔۔

مزید

وہ اصل آئینۂ حقیقت، دہ عین حسنِ مجاز آئے

وہ اصل آئینۂ حقیقت، دہ عین حسنِ مجاز آئے سراجِ بزمِ اَلَشت بن کر زمیں پہ ہستی نواز آئے مجھے تو جب لطف بندگی کا جبینِ عجز و نیاز آئے اِدھر ہو سجدہ اُدھر اٹھا کر حجاب جانِ نماز آئے قدم قدم پر مجھے پکارا، تِرے کرم نے دیا سہارا عدم کی دشوار راہ میں جب کٹھن نشیب و فراز آئے نثار ہے قَد نریٰ ادا پر، فدا ہے انداز پر فَتَرضٰے خدا اٹھاتا ہے ناز جن کے وہ ناز نیں جانِ ناز آئے ترے سوا کرسکا نہ کوئی علاج بیمارِ زندگی کا بڑے بڑے چارہ ساز دیکھے بڑے بڑے چارہ ساز آئے پھر ایسے عیسیٰ نفس کا درد فراق جاں آفریں نہ کیوں ہو کہ جس کے در پر اجل بھی لے کے پیامِ عمرِ دراز آئے خلش مٹی روحِ مضمحل کی مراد بر آئی آج دل کی! وہ لطف گستر، غریب پرور، حضورﷺ اختؔر نواز آئے ۔۔۔

مزید