/ Thursday, 03 April,2025


مولانا سید محمد مرغوب اختر الحامدی رحمۃ اللہ تعا لٰی علیہ   (112)





میرے سلطانِ باوقارﷺ سلام

تضمین برسلام مولانا حسن رضا خاں بریلوی ﷫ میرے سلطانِ باوقارﷺ سلام شہر یاروں کے شہر یارﷺ سلام اے شہِ عرش اقتدارﷺ سلام اے مدینے کے تاجدارﷺ سلام اے غریبوں کے غمگسارﷺ سلام سر و قامت پہ جان و دل وارے رخ پہ قرباں جناں کے نظارے صدقے دندانِ پاک پر تارے تیری اِک اِک ادا پہ اے پیارے سو درودیں فدا ہزار سلام نور پر نور کے قبالے پر عرش کے چاند پر، اُجالے پر نور کے دوش پر، دوشالے پر ربِّ سَلّمِْ کے کہنے والے پر جان کے ساتھ ہوں نثار سلام میرے طجاپہ، میرے ماویٰﷺ پر میرے سرور پہ، میرے مولاﷺ پر میرے مالک پہ، میرے داتاﷺ پر میرے پیارے پہ میرے آقاﷺ پر میری جانب سے لاکھ بار سلام راہ سیدھی دکھانے والے پر دین اِسلام لانے والے پر اوجِ معراج لانے والے پر میری بگڑی بنانے والے پر بھیج اے میرے کردگار سلام آفتابِ حسینِ فاراں پر روحِ رنگینئ بہاراں پر اس کرم بار ابرِ باراں پر اس پناہِ گناہ گاراں پر یہ سلام اور کرور بار ۔۔۔

مزید

مرحبا کیا روح پرور ہے نظارا نور کا

تضمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی﷫ کے قصیدہ  نور پر جو تضمین حضرت مولانا اختر الحامدی﷫ نے تحریر فرمائی ہے۔ وہ ملاحظہ فرمائیں۔ مرحبا کیا روح پرور ہے نظارا نور کا فرش سے تا عرش پھیلا ہے اُجالا نور کا تاجدارِ شرق سائل بن کے نکلا نور کا صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا ڈالی ڈالی نور کی ہے پتّہ پتّہ نور کا بوٹا بوٹا نور کا ہے غنچہ غنچہ نور کا نور کی اِک اِک کلی کلی اِک اِک شگوفہ نور کا باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا مست بُو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا جشن نورانی ہے ہر جانب ہے چرچا نور کا انجمن آرا ہوا مکّہ میں کعبہ نور کا ماہ حق تشریف لایا بن کے قبلہ نور کا بارھویں کے چاند کا مُجرا ہے سجدہ نور کا بارہ برجوں سے جھکا اِک اِک ستارہ نور کا دونوں عالم کی ہر اک شے پر سکّہ نور کا دوجہاں کی نعتیں ادنیٰ صدقہ نور کا ان کے بحر لطف سے کوثر۔۔۔

مزید

مدینے میں ہیں شہر یارِ مدینہ

تضمین بر نعتِ استاد زمن حضرتِ علامہ حسن رضا خاں حسؔن بریلوی﷫ برادرِ خورد اعلٰحضرت فاضلِ بریلوی قدس سرّہ و تلمیذِ بلبلِ ہند، دبیر الدولہ فصیح الملک جناب داغؔ دہلوی مرحوم تضمین مدینے میں ہیں شہر یارِ مدینہ ہے رضواں بجا افتخارِ مدینہ نگاہوں میں ہے ہیچ ہر پھول بالکل ہمیں دشتِ طیبہ بہارِ بریں ہے عجب ہے مقدر دلِ ناتواں کا ادب سے ہے سرخم جہاں آسماں کا بس اُڑکر سوئے رحمت آباد جائے یہ ذرّہ بھی تاروں میں ہو جائے شامِل کھلیں پھول ہستی کے گلشن میں یارب لگی تھی جو کل دشتِ ایمن میں یارب رُخِ گل پہ جب تازگی دیکھتا ہوں کلی خندہ زن جب کوئی دیکھتا ہوں بہارِ جناں آج مجھ پر فدا ہے زمیں پر مزہ خلد کا آرہا ہے سیہ خانہ ہو طُور ان کی ضیا سے منورّ ہوں اے کاش سب داغ دل کے مِلا طور موسٰے کو اَوجِ مکرّم اُڑا کر دَنیٰ پر تقرب کا پرچم ہے فردوس بھی ایک حصہ یہاں کا غلامِ کرم ہیں ملائک بھی ان کے ذرا دیکھے ان کا مقدّر ت۔۔۔

مزید

انوار کی بارش ہوتی ہے، ضَو بار گھٹائیں ہوتی ہیں!

تضمین بر نعت حضرت لسان الحسّان علّامہ ضیاء القادری بدایونی ﷫ انوار کی بارش ہوتی ہے، ضَو بار گھٹائیں ہوتی ہیں! ڈوبی ہوئی کیفِ حمد میں جب بلبل کی نوائیں ہوتی ہیں! پھولوں پہ نسیمِ جنت کی قربان ادائیں ہوتی ہیں طیبہ کے شگفتہ باغوں کی دلکش وہ فضائیں ہوتی ہیں خوشبو سے معطّر دم بھر میں عالم کی ہوائیں ہوتی ہیں پر کیف ہوائیں طیبہ کی عنوانِ ترنّم کیوں نہ بنیں خاموش فضائیں وقتِ سحر فطرت کا تکلّم کیوں نہ بنیں ضَو بخش ضیائیں تاروں کا زرپاش تبسّم کیوں نہ بنیں مینارِ حرم کے جلووں سے تارے مہ و انجم کیوں نہ بنیں روضہ پہ تجلّی بار آکر، سورج کی ضیائیں ہوتی ہیں ہستی کی رہِ مشکل میں مجھے خطرہ ہے نہ کوئی اب غم ہے یا سرورِ عالم شام و سحر جب میرے لبوں پر ہر دم ہے مِن جانبِ حق اے صلِّ علیٰ الطاف کی بارش پیہم ہے عنوانِ مناجات بخشش سرکار کا اسمِ اعظم ہے نامِ شہِ دیں کی برکت سے مقبول دعائیں ہوتی ہیں کیوں سامنے سب کے ۔۔۔

مزید

کونین سے سوا ہے حقیقت رسولﷺ کی

تضمین برنعتِ برادرِ معظّم حضرت مولانا مفتی سید ریاض الحسن نیّر حامدی رضوی جیلانی جود ھپوری ﷫ کونین سے سوا ہے حقیقت رسولﷺ کی ارض و سما رسولﷺ کے، جنت رسولﷺ کی ہے عرش فرشِ پا، یہ عظمت رسولﷺ کی قوسَین ماو راز ہے رفعتِ رسولﷺ کی اللہ جانے کیا ہے حقیقت رسولﷺ کی صلِّ علیٰ حبیبِ خداﷺ کا یہ مرتبہ معراج میں بلائے گئے تاحدِ دنیٰ ارفع مقامِ قرب تھا اتنا حضورﷺ کا حَد ہے کہ تھک کے طائرِ سدرہ بھی رَہ گیا قاصر مگر ہوئی نہ عزیمت رسولﷺ کی آیاتِ بیّنات ہیں ان کی صفاتِ پاک شرحِ صفاتِ ذاتِ خدا ہے حیاتِ پاک قرآں بکف حضور کے ہیں تذکراتِ پاک ہے ہاشمی و مطلبی ان کی ذاتِ پاک مشہور کُن فکاں ہے شرافت رسولﷺ کی کیا ان کے اَوج تک ہو رسا ذہنِ مشتِ پاک روح الامیں کے ہوش و خرد بھی جہاں ہیں چاک نورِ مبین ہیں، ذاتِ مبیں ہے وہ تابناک محسوس سے مبرّہ ہے معقول سے ہے پاک اور اک سے درا ہے حقیقت رسولﷺ کی ہے لاج یہ غلاموں کی قربانِ۔۔۔

مزید

بہر پہلو اذیّت، ہر نفس تکلیفِ روحانی

مدد اے آمنہ﷞ کے لالﷺ بہر پہلو اذیّت، ہر نفس تکلیفِ روحانی سراپا درد بن کر رہ گئی ہے ہیستئ فانی نزول آفاتِ پیہم کا، حوادث کی فراوانی امید و یاس و حسرت‘ رنج و غم، حزن و پریشانی فلک بے مہر، طالع نارسا، دل وقفِ حیرانی مدد اے آمنہ﷞ کے لال اے محبوبِ سبحانیﷺ اجڑتا جارہا ہے رفتہ رفتہ گلشنِ ہستی حوادث آہ لوٹے لے رہے ہیں قلب کی بستی امنگیں ہیں نہ اب دل میں، نہ اب وہ روح میں مستی ہوئی جاتی ہے پروازِ تخیّل مائلِ پستی فلک بے مہر‘ طالع نارسا، دل وقفِ حیرانی مدد اے آمنہ﷞ کے لال اے محبوبِ سبحانیﷺ مجسم کرب و بے چینی مرا دل ہوتا جاتا ہے مجھے اب سانس تک بھی لینا مشکل ہوتا جاتا ہے مسافر زیست کا گم کردہ منزل ہوتا جاتا ہے نظر سے دُور رفتہ رفتہ ساحل ہوتا جاتا ہے فلک بے مہر‘ طالع نارسا، دل وقفِ حیرانی مدد اے آمنہ﷞ کے لال اے محبوبِ سبحانیﷺ مسلسل رنج و غم نے چھین لی ہے ہر خوشی مجھ سے ہنسی یوں دور۔۔۔

مزید

قصۂ کرب و اذیّت کیا کہوں ، کیوں کر کہوں

فریادِ مجسّم قصۂ کرب و اذیّت کیا کہوں ، کیوں کر کہوں مضطرب دل کی حقیقت کیا کہوں، کیوں کر کہوں ہر سکوں ہے نذرِ کلفت کیا کہوں، کیوں کر کہوں لُٹ گیا سامانِ راحت کیا کہوں، کیوں کر کہوں داستانِ شامِ غربت‘ کیا کہوں، کیوں کر کہوں اے حبیبِ عرش رفعتﷺ‘ کیا کہوں‘ کیوں کر کہوں میں گرفتارِ حوادث ہوں، کبھی صیدِ  اَلَم مبتلائے دردِ پیہم ہوں، کبھی نخچیرِ غم جاں گُسل حالات سے رہتا ہوں اکثر چشمِ نَم توڑتی رہتی ہے مجھ پر گردشِ دوراں ستم اپنی رودادِ مصیبت‘ کیا کہوں، کیوں کر کہوں اے حبیبِ عرش رفعتﷺ‘ کیا کہوں‘ کیوں کر کہوں ناگہانی آفتیں لحظہ بہ لحظہ ہیں فزوں مِٹ چکا ہے اب کتابِ دل سے عنواں سکوں ہوچکا اِک ایک ایوانِ مسّرت سرنگوں زیست کا ہر سانس اب ہے حاملِ سورِ دروں دن ہے محشر‘ شب قیامت کہا کہوں‘ کیوں کر کہوں اے حبیبِ عرش رفعتﷺ‘ کیا کہوں‘ کیوں کر ۔۔۔

مزید

آنکھیں ہیں مِری تشنۂ دیدارِ مدینہ

قدموں میں بُلا لیجئے آنکھیں ہیں مِری تشنۂ دیدارِ مدینہ ہر وقت تصوّر ہیں انوارِ مدینہ فردوسِ نظر ہیں در و دیوارِ مدینہ ہے شوق زمیں بوسئ دربارِ مدینہ لِلّٰہ کرم احمدِ مختارِﷺ مدینہ قدموں میں بلا لیجئے سرکارِﷺ مدینہ ہے وادئ بطحا کا جو سودا مِرے سَر میں ہر دم خلِش ہجر سے ہے درد جگر میں لاتا ہے جنوں مجھ کو اسی راہ گذر میں رہتا ہے بہر کیف شب و روز نظر میں وہ دشتِ عرب اور وہ گلزارِ مدینہ قدموں میں بلا لیجئے سرکارِﷺ مدینہ اِک لمحہ کی فرقت بھی نہیں دل کو گوارا چمکے مِری تقدیر کا اے کاش ستارا اے شاہِ امم کاش کبھی ہو یہ اشارا جی بَھر کے کروں گنبدِ خضریٰ کا نظارا ہر وقت رہوں حاضرِ دربارِ مدینہ قدموں میں بلا لیجئے سرکارِﷺ مدینہ اے کاش حقیقت یہ مرا خوابِ حسیں ہو پوری یہ تمنّا مِری اے سرورِ دیں ہو دل محوِ زیارت ہو تو سجدے میں جبیں ہو جب آئے مجھے موت مدینے کی زمیں ہو ہوں سایہ فگن قبر پہ اشجارِ مدینہ قدمو۔۔۔

مزید

ساقی مجھے وہ بادۂ کیف و سرور دے

عیدِ نُور ساقی مجھے وہ بادۂ کیف و سرور دے دے حسن جو دماغ کو اور دل کو نور دے روشن ہو جس سے ذہن وہ جامِ شعور دے کوثر کی روح آج مِلا کر ضرور دے مستی سی روح و قلب پہ چھائی ہوئی رہے تا عمر جس کیف میں گم زندگی رہے اُٹھی گھٹا وہ کعبہ کے پردوں سے جُھوم کر وہ چھاگئی فلک پہ فضائیں گئیں نِکھر ہے سرمدی سُرور کی بارش جہان پر لا ایک جام اور پلا، ایک اور بھر رِندوں کی آج عید ہے ، مستوں کی عید ہے ساقی حرم کے بادہ پر ستوں کی عید ہے لاوارثوں کی عید، یتیموں کی عید ہے ٹوٹے دلوں کی، تیرہ نصیبوں کی عید ہے مایوس و ناامید، غریبوں کی عید ہے بیمار، بیکسوں کی، ضعیفوں کی عید ہے ہے فیضیابِ رحمتِ پروردگار عید یہ عید وہ ہے جس پہ تصدق ہزار عید جنت کا ہے جواب گلستاں بنا ہوا ہے چاندنی کا فرش چمن میں بچھا ہوا غنچوں کا آبِ نور سے منہ ہے دُھلا ہوا ہے عطرِ روحِ حُسن میں گُل بسا ہوا ہے سامنے نگاہ کے نقشہ بہشت کا ہوتا ہے صحنِ ۔۔۔

مزید

ساقی مجھے جامِ مَے عطا کر

مثنوی انوار العرفان ساقی مجھے جامِ مَے عطا کر لِلّٰہ پِلا نظر مِلا کر لب تشنہ ہوں، تشنگی بجھا دے لا جام، تجھے خدا جزا دے دل کو نہیں میرے تاب ساقی لا جلد، پِلا شراب ساقی جِیلان سے کِشید کی ہوئی لا میخانۂ غوثِ پاک﷜ کی لا بغداد کی ہو بہار جس میں ہو نگہتِ چار یار﷠ جس میں ہو فاطمی﷞ انبساط جس میں اور پنجتنی﷠ نشاط جس میں بُو چشتی ہو، رنگ نقشبندی ہو کیف و سرور سہروردی نوری[1]؎ مئے معرفت پلا دے جو قلب و دماغ کو جِلا دے ہر جُرعہ میں کیف و سرمدی ہو وہ لا کہ جو آج تک نہ پی ہو پاکیزہ سرور بھی ہو جس میں اللہ کا نور بھی ہو جس میں دارین کی لذتیں ہوں جس میں کونین کی فرحتیں ہوں جس میں فردوس کی نکہتیں ہوں جس میں جنت کی لطافتیں ہوں جس میں اے حامدِ[2]؎ نور بار ساقی یہ رِند تیرے نثار ساقی ہے عیدِ نویدِ موسمِ گل کر آج شکستِ ساغرِ مُل آنکھوں سے پِلا کے مست کر دے مدہوش شرابِ ہست کر دے آج ایسی پِلا، کبھی نہ پی ہو ۔۔۔

مزید

کیا طاقتِ رفعتِ نظر ہے

ستاعِر کیا طاقتِ رفعتِ نظر ہے رفعت کا دماغ عرش پر ہے لختِ دلِ آمنہ﷞ کے صدقے علمِ شہِ دوسرا کے صدقے کیوں سامنے غیب ہوں نہ دم میں دانائے غیوب ہیں شِکم میں سن لو یہ بشارتِ الہٰی کہتی ہے نگاہ آمنہ﷞ کی جو رب نے کرم کئے، کئے ہیں محبوب کو غیب بھی وئے ہیں     لکھتے ہیں یہ حضرتِ[1]؎ محقق علّامۂ محدّث و مدقق فرماتی ہیں اُمِّ پاک حضرت﷝وﷺ تنہا تھی میں بس شبِ ولادت اور صرفِ طواف مُطّلِب تھے یوں دل میں لگا خیال آنے یہ وقت ہے اور میں ہوں اکیلی ہوتی کوئی رازداں سہیلی ہُوں عالمِ دردِ زِہ میں تنہا ہوتا کوئی فرد خانداں کا میں محو اِسی خیال میں تھی آواز سُنی مہیب ایسی جس سے کہ لرز گیا مِرا دِل پتّے کی طرح مِرا اُڑا دل لرزاں تھی ابھی کہ میں نے دیکھا اِک مرغ سفید بال و پَر کا اس نے مِرے قلب پر مَلے پَر دل سے ہوا دُور خوف یکسر    مدارج النبوۃ، جلد دوم، ص ۲۰، تفریح الاذکیاء مصنفہ ابو ا۔۔۔

مزید

اِک اور بھی قول معتبر ہے

اِک اور بھی قول معتبر ہے وَلیوں کی نظر بھی کیا نظر ہے لکھتے ہیں حضور شیخ[1]؎ الاعظم مولائے انام، قطبِ عالَم تھا مخزنِ علم جن کا سینہ وہ عاشقِ یوسفِ مدینہ مفتی و امیرِ شرع و ملّت یعنی کہ امامِ اہلِ سنّت وہ مِرے حضور، میرے مرشد وہ نائبِ غوث، وہ مجدِّد وہ رکنِ رکینِ دینِ سرمد الحاج رضؔا، رضائے احمد فرماتے ہیں یہ بصدقۂ عشق ارشاد ہے یوں بجذبۂ عِشق وہ مرغ سفید بال و پَر کا شربت جو بہشت سے تھا لایا جبریلِ امیں بہ شکلِ طائر تھے خانۂ آمنہ﷞ میں حاضر    اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہ ۱۲ [1]۔۔۔

مزید