اتوار , 13 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 01 February,2026


نعت   (894)





گو ترقی پہ جمال مہ کامل ہوئے

گو ترقی پہ جمال مہ کامل ہوئے منہ تو دیکھوں کہ تری منہ کے مقاب ہوئے ماہ کیا سامنے گر آپ کی آوے خورشید دعوی نور سے حجلت اسی حاصل ہوئے کیا یہ خورشید کہ خورشید قیامت ہو اگر آپ کے آگے ٹھرنا اسی مشکل ہوئے شان اجلال پہ آجادے اگر وہ رخسار کس کو طاقت ہے کہ اس وقت مقابل ہوئے یہاں خوش آتا نہیں جز ذکر گل عارض پاک نغمۂ عود یا صوت عنا دل ہوئے ملک دنیا کو وہ کیا خاک میں لے کر ڈالے جو کوئی دولت دیدار کا سائل ہوئے آہ برباد نہ ہوجائے میرا نا لۂ آہ آہ کے ساتھ حبذ بہ کامل ہوئے اب تو پیڈہب دل حسرت زدہ گھبرانا ہے یا الہٰی شب فرقت کہیں زائل ہوئے لائیں گر آپ کی تصویر نکیر و منکیر کیا عجب گور میری خلد کی منزل ہوئے ہے تمنا یہی دن رات کی روز محشر دشت کاؔفی مین تراہا یہ محمل ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی) ۔۔۔

مزید

دیکھتے جلوہ دیدار کو آتے جاتے

دیکھتے جلوہ دیدار کو آتے جاتے کل نظارہ کو آنکھوں سے لگاتے جاتے ہر سحر روئے مبارک کی زیارت کرتے داغ حرمان دل مخروں سے مٹاتے جاتے سر شوریدل کو کسوت پہ تصدق کرتے دل دیوانہ کو زنجیر پہناتے جاتے پائے اقدس سے اٹھاتے نہ کبھی آنکھوں کو روکنے والے اگر لاکھ ہٹاتے جاتے قدم پاک کی گر خاک نہ ہاتھ آجاتی چشم مشتاق میں بھر بھر کے لگاتے جاتے خواب میں دولت دیدار ہے ملتی وہ اگر بخت کو بیدہ کو ٹھو کر سے جگاتے جاتے دشت یثرب میں ترے ناقہ کی سچےسچے و ہجاں حبیب و گریباں کے اوڑاتے جاتے دست ِ صیّا سے چھوٹے جو ہزاروں کی طرح چمن کوچۂ دلبری کو جاتے جاتے کاؔفی لشتہ دیدار کو زندہ کرلے لب اعجاز اگر آپ ہلاتے جاتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی) ۔۔۔

مزید

بار عشق احمدی کافے اٹھانا چاہئیے

بار عشق احمدی کافے اٹھانا چاہئیے گر نہیں بھر غم تو غم سے مر ہی جانا چاہئیے جب کہ ٹہرے عین ایمان جب محبوب خدا اپنے ایمان کو بھلا پھر کیا چھپانا چاہئیے دین و ایمان آپ کی الفت سے ہوتا ہے حصول طالب ایمان یہ باتیں سنانا چاہئیے ہیں کدہر وہ منکر ان الفت خیرالبشر بے تمیزوں کو ذرا مجھ تک تو لانا چاہئیے شاید آجا دین طریق راستی پر بے ادب درس عشق مصطفی ﷺ اُن کو سنانا چاہئیے جس کو کچہہ بھر انہیں حُب رسول اللہﷺ سے اس کو جھوٹا دعوہ ایمان میں جانا چاہئیے جان و دل قربان کریں حب شہ ابرار مین مغفرت کے واسطے کچہہ تو ٹھکانا چاہئیے کچہہ بھی گردل میں تمہارے خواہش ایمان ہے ہر بشر سے آپ کو محبوب جانا چاہئیے گر رضائے حق تعالی دوستو منطور ہے نقش حبّ احمدی دل پر ٹھانا چاہئیے روئے اطہر خوئے والا حب ذا صل علی ایسی محبوب خدا پر دل لگانا چاہئیے شاہد اخلاق حضرت آیت خلق عظیم والضحیٰ وصف رُخ پر نور جان۔۔۔

مزید

صبح محشر شان محبوبی دکھانا چاہیئے

صبح محشر شان محبوبی دکھانا چاہیئے خندۂ دندان نما سے مسکرانا چاہیئے اب و تاب حسن عالمگیر کے اعجاز سے آفتاب حشر کی تیزی بجھانا چاہیئے گیسوئی مشکین دکھا کر عرصۂ عرصات میں اپنی مشتاقوں کو دیوانا بنانا چاہیئے جلوۂ قد مبارک سائہ قامت کی سایہ ہم کو خورشید قیامت سے بچانا چاہیئے تم شفیع المذنبین تم رحمت اللعالمین اپنی امت کو خدا سے بخشوانا چاہیئے اہل محشر بھول جائینگے مصیبت حشر کی جلوۂ روئے مبارک کو دکھانا چاہیئے دیکھ کر جاہ و جلال شاہ محبوب خدا تجھ کو اے خورشید محشر منہ چھپانا چاہیئے گر نہ آیا دامن دیدار کاؔفی ہاتھ میں دہ جہان حبیب وگر بیان کے اوڑانا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی) ۔۔۔

مزید

عشق احمد سے دل کو راحت ہے

عشق احمد سے دل کو راحت ہے کیا ہے اللہ کی عنایت ہے ذات پاک محمد ﷺ عربی عین رحمت ہے عین رحمت ہے حُب احمد ﷺ کا نام ہے ایمان وہ محبو تمہیں بشارت ہے گر میر ہو آپ کی چاہت کیا ہے دولت ہے کیا ہے دولت ہے روشن راہ دین مصطفوی ﷺ واہ کیا کوچہ سلامت ہے ہو سکے کس سےنعت پا ک رقم کس کے کام و زباں میں طاقت ہے جرم کاؔفی کے بخش دے یارب یہ بھی خیر الورا کی اُمت ہے ۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی) ۔۔۔

مزید

جس کو خیر الورا کی الفت ہے

جس کو خیر الورا کی الفت ہے بس وہی دوستدار سنت ہے سالک راہ ِ مصطفی ﷺ کےلئے شہ کونین کی معیت ہے حاصل حب سرور عالم۔ باغ رضوان ریاض جنت ہے ہے جو عامل بہ سنت نبوی ﷺ اس کو دونو جہاں کی دولت ہے شاہ ِ دین خاتم نبوت کو کیا ہے رحمت بحال امت ہے ہیں کدھر طالبان راہ صفا واسطے ان کے پھر بشارت ہے حب احمد ہمیں تو اے کاؔفی دین و ایمان کی حقیقت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی) ۔۔۔

مزید

جہاں میں شور محشر کس قدر ہے

جہاں میں شور محشر کس قدر ہے قیامت رحلت خیرالبشر ہے ملک جن و بشر ہیں زارونا لان زمین و آسمان بھی نوحہ گر ہے رسول اللہ ﷺ کو نظروں سے چھپنا اگر سمجھو بڑا دغ و جگر ہے وفات سیّد کون مکان سے سر شور یدہ عین درد سر ہے اندھیرا کیون نہ ہو سار جہان میں چھپاپردہ میں وہ رشک قمر ہے نہیں گر سامنے وہ رشک گلشن رگ گل چشم تر میں نیشتر ہے انہیں کے روئے اطہر کا تصور ہمیں تو رات دن آٹھوں پھر ہے کہاں تک صدمۂ فرقت اٹھا ویں کدہر وہ جزیہ آہ سحر ہے تڑپتا ہے تپ فرقت میں کاؔفی کوئی وہاں تک نہیں کرتا خبر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی) ۔۔۔

مزید

مجھے الفت ہے یاران نبی سے

مجھے الفت ہے یاران نبی ﷺ سے |ابو بکر و عمر عثمان علی سے محبت ان کی ہے ایمان میرا میں ان کا مدح خواں ہوں جاں وحی سے یہ محبوب الہٰی ہیں کہ ان کو عشق ہے حبیب ایزدی سے نہ کیوں کر دوست رکھی ان کو مومن کہ اقرب ہیں رسول ﷺ ہاشمی سے رسول اللہ ﷺ کی یہ جانشین ہیں نبی ﷺ راضی ہیں ان سے وہ نبی سے یہ ہیں چرح ہدایت کی ستارے جہاں روشن ہے ان کی روشنی سے جو ان کی زاے سے بہکاوہ انسان کہیں پائے نہ رستہ پھر کسی سے صحابہ کو ہوا ثابت مناقب زبان درفشاں احمد ی سے رسول اللہ ﷺ کیا راضی ہیں ان سے جو ہونا راض احباب ِ نبی ﷺ سے جو ہیں اصحاب و انصار ومہاجر مجھے حسن عقیدت ہے سبہی سے صحابہ کا یہ کاؔفی ہے مدح خواں ہے خلوص جان و اخلاص دلی سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی) ۔۔۔

مزید

بیان کس مند سے ہو جو رتبہ اصحاب حضرت سے

بیان کس مند سے ہو جو رتبہ اصحاب حضرت سے کہ ان میں واسطے ہر ہر بشر کی کیا شرافت ہے صحابی النجوم ان کی مناقب میں ہوا ورد کہ ان تاروں سے روشن برج افلاک ہدایت ہے نہیں اس سے زیادہ اور کوئی رتبہ عالی کہ حاصل ان کو فیض صحبت ختم رسالت ہے بجا ہے گر ملائک رشک کہاںاس فضیلت پر جو ار سید کونین میں جن کی سکونت ہے مشرف جو ہوئی ہیں دولت دیدار حضرت سے تو ان کے واسطے باغ جہاں گلزار جنت ہے تمامی عدل تھے اور سب کی سب راہ خدا پر تھے یہی ہے مذہب حق اعتقاد اہل سنت ہے امیرالمومنین صدیق اکبر نائب حضرت بایوان خلافت صدر دیوان صداقت ہے پھر اس کے بعد فاروق اعظم حامد دعا کہ انسان بصیرت مردم عین عدالت ہے مناقب کیا کروں عثمان ذی النورین کا ظاہر کہ عین شرم و تمکین مخزن جو دو سخاوت ہے خدا کا شیر حیدر ابن عم سرور عالم کہ جس کے دست بالادست میں تیغ شجاعت ہے شعار عادتِ اصحاب سلطان رسل باہم مروت ہے فتوت ہے ۔۔۔

مزید

محبت جس کو ہے آل عبا سے

محبت جس کو ہے آل عبا سے اسی الفت ہے ختم الانبیا سے طہارت اہل بیت شاہ دین کی ہوئی ثابت کلام انما سے وہی مومن ہے جس کو ہے محبت علی حسنین سے خیر النسا سے عدو ان کا عد دے مصطفی ہے ہو منقول یہ خیرالورا سے رہوں آل عبا کا میں ثناخواں یہی کاؔفی تمنا ہے خدائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی) ۔۔۔

مزید

رسول اللہ کی ہم کو شفاعت کا وسیلہ ہے

رسول اللہ ﷺ کی ہم کو شفاعت کا وسیلہ ہے شفاعت کا وسیلہ اور رحمت کا وسیلہ ہے عجب ذاتِ مکرم ہے کہ ہر اعلی و ادنی کو جناب شافع روز قیامت کا وسیلہ ہے بچو گے مومنو تم گرمی خورشید محشر سے لوائے حمد کی ظل کرامت کا وسیلہ ہے بشکل عند لیب زارمیں دن رات کہتا ہوں کہ مجھ کو اس گل باغ رسالت کا وسیلہ ہے جناب رحمت عالم شفیع امت مجرم ہمارے واسطے کاؔفی شفاعت کا وسیلہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی) ۔۔۔

مزید

درود رحمت صلواۃ حضرت پر پڑھا کیجئے

درود رحمت صلواۃ حضرت پر پڑھا کیجئے جناب مصطفی پر راتدن صل علی کیجئے جہاں تک ہو سکے اس موجب ایجاد عالم کی صفات رفعت و حمد و مدح و تحسین و ثنا کیجئے محبو دوستو شغل ثنائے مصطفائی میں تمامی شادی و غم رنج و راحت کو راہ کیجئے کمال ِ دین و ایماں کی اگر خواہش ہے اے یارو خدائے پاک بھی حب نبی ﷺ کی التجا کیجئے تمامی دولت دنیا اگر حاصل ہوئی کاؔفی بعشق سرور عالم فدا کیجئے فدا کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی) ۔۔۔

مزید