بدھ , 29 رمضان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 18 March,2026


نعت   (894)





بہر دیدار مشتاق ہے ہر نظر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

بہرِ دیدار مشتاق ہے ہر نظر دونوں عالم کے سرکار آجائیے چاندنی رات ہے اورپچھلا پہر دونوں عالم کے سرکار آجائیے سدرۃ المنتہیٰ عرش و باغِ ارم ہر جگہ پڑ چکے ہیں نشانِ قدم اب تو اک بار اپنے غلاموں کے گھر دونوں عالم کے سرکارآجائیے شامِ امید کا اب سویرا ہوا سوئے طیبہ نگاہوں کا ڈیرا ہوا بچھ گئے راہ میں فرشِ قلب و نظر دونو ں عالم کے سرکار آجائیے سامنے جلوہ گر پیکرِ نور ہو منکروں کا بھی سرکار شک دور ہو کرکے تبدیل اک دن لباسِ بشر دونوں عالم کے سرکار آجائیے دل کا ٹوٹا ہوا آبگینہ لیے جذبۂ اشتیاقِ مدینہ لیے کتنے گھائل کھڑے ہیں سرِ رہ گزر دونوں عالم کے سرکار آجائیے میرے گلشن کو اک بار مہکائیے اپنے جلووں کی بارش میں نہلائیے دیدۂ شوق کو کیجیے بہرہ ور دونوں عالم کے سرکار آجائیے تا ابد اپنی قسمت پہ نازاں رہیں خاک ہوجائیں پھر بھی فروزاں رہیں دل کی بزمِ تمنا میں اک بار اگر دونوں عالم کے سرکار آج۔۔۔

مزید

زمیں تا چرخ بریں فرشتے ہر اک نفس کو پکار آئے

زمیں تا چرخِ بریں فرشتے ہر اک نفس کو پکار آئے گناہگارو! مناؤ خوشیاں شفیعِ روزِ شمار آئے وہ نورِ اوّل سراپا رحمت عطا کے پیکر خدا کی نعمت وہ مونس و غم گسار بن کر دکھی دلوں کے قرار آئے چمن نے کی آبرو نچھاور گلوں نے سجدے کیے قدم پر نقاب الٹے گہر لٹاتے وہ جب سوئے لالہ زار آئے بشر کی تشہیر کرنے والو! نہ اٹھ سکا تم سے بارِ احساں کہ خاکیوں کی اس انجمن میں وہ عرش کے تاج دار آئے جہانِ خاکی کے تیرہ بختو تباہ کارو خطا شعارو کچھ اس طرح جاؤ آبدیدہ کہ ان کی رحمت کو پیار آئے کہیں نہ کھل جائے چشم ِ نرگس کہیں نہ برپا ہو حشر کا دن زمیں پہ تارِ نظر سے چلنا حبیب کا جب دیار آئے میں اس کی ہر اک ادا پہ ارؔشد کروں عقیدت سے دل نچھاور شہہِ مدینہ کے در پہ جاکر جو اپنی ہستی سنوار آئے عرب سے بغداد کی زمیں تک نجف سے اجمیر کی گلی تک ہزار ناموں سے ان کو ارؔشد کہاں کہاں ہم پکار آئے۔۔۔

مزید

جمال نور کی محفل سے پروانہ نہ جائے گا

جمالِ نور کی محفل سے پروانہ نہ جائے گا مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا بڑی مشکل سے آیا ہے پلٹ کر اپنے مرکز پر مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا یہ مانا خلد بھی ہے دل بہلنے کی جگہ لیکن مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا نشیمن باندھنا ہے شاخِ طوبیٰ پر مقدر کا مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا جو آنا ہے تو خود آئے اجل عمرِ ابد لے کر مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا ٹھکانا مل گیا ہے فاتحِ محشر کے دامن میں مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا فرازِ عرش سے اب کون اترے فرشِ گیتی پر مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا دو عالم کی امیدوں سے کہو مایوس ہو جائیں مدینہ چھوڑ کر اب ان کا دیوانہ نہ جائے گا نہ ہو گر داغِ عشقِ مصطفیٰ کی چاندنی دل میں غلامِ با وفا محشر میں پہچانا نہ جائے گا حبیبِ کبریا کی عظمتوں سے منحرف ہو کر یہ دعوائے مسلما۔۔۔

مزید

ہے جبیں شوق کا بھی دنیا میں اک ٹھکانہ

ہے جبینِ شوق کا بھی دنیا میں اک ٹھکانہ رہے حشر تک سلامت تِرا  سنگِ آستانہ دو جہاں کی نعمتوں کو جسے چاہے بخش دے تو تِری ملک ہے خدائی تِرے بس میں ہے زمانہ تو ہی چارہ ساز میرا تو ہی غم گسار میرا کسے جا کے میں سناؤں غم و درد کا فسانہ کبھی وہ سحر بھی آتی کہ چراغ بجھتے بجھتے تِرے سنگِ در پہ بنتا مِرے غم کا آشیانہ مری آہِ نارسا پر رہی طعنہ زن یہ دنیا مِرے دردِ دل کا عالم نہ سمجھ سکا زمانہ ترے غم سے زندگی ہے تری یاد بندگی ہے کہ ہے دینِ عاشقی میں یہ نمازِ پنج گانہ غمِ عاشقی میں ارؔشد یہی زندگی کا حاصل کبھی آہِ صبح گاہی کبھی گریۂ شبانہ۔۔۔

مزید

صل علی محمد

صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدماہِ مبین و خوش ادا صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدپردۂ کن کے مہ لقا صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد شاخِ نہالِ آرزو پھولے پھلے گی چار سودل سے نکلتی ہے صدا صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد اس کی بلائیں رد ہوئیں اس کے گناہ دھل گئےجس نے بَہ صدقِ دل پڑھا صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد اتنا جنوں کا جوش ہو تن کا نہ اپنے ہوش ہوکہتا پھروں میں بر ملا صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد جتنے مرض ہیں لا دوا ان کے لیے تو پڑھ سداصَلِّ عَلٰی نَبِیِّنَا صَلِّ عَلٰی مُحَمَّد ۔۔۔

مزید

ان کے روضے پہ بہاروں کی وہ زیبائی ہے

اُن کے روضے پہ بہاروں کی وہ زیبائی ہے جیسے فردوس پہ فردوس اُتر آئی ہے پاؤں چھو جائے تو پتھر کا جگر موم کرے ہاتھ لگ جائے تو شرمندہ مسیحائی ہے جانے کیوں عرش کی قندیل بجھی جاتی ہے ان کے جلووں میں نظر جب سے نہا آئی ہے مل گئی ہے سرِ بالیں جو قدم کی آہٹ روح جاتی ہوئی شرما کے پلٹ آئی ہے سر پہ سر کیوں نہ جھکیں ان کے قدم پہ ارؔشد اک غلامی ہے تو کونین کی آقائی ہے۔۔۔

مزید

مدیح نبوی

تم نقشِ تمنّائے قلمدانِ رضا ہو برکات کا سورج ہو بریلی کی ضیا ہو جب خالق ِ کونین ہی خود مدح سرا ہو ’’نعتِ شہِ کونین کا حق کس سے ادا ہو‘‘ ہر آن پہ ہو جب کہ مدارج میں ترقی ’’نعتِ شہ کونین کا حق کس سے ادا ہو‘‘ جبرئیل بھی بے مثلی پہ جب مہر لگائیں ’’نعتِ شہ کونین کا حق کس سے ادا ہو‘‘ فردوس میں جب جب بھی ہوئی نعت کی محفل آقا نے کہا اہلِ بریلی کا بھلا ہو کیوں اپنی گلی میں وہ روا دارِ صدا ہو بن مانگے جو ہر آن میں مصروفِ عطا ہو اک آن میں ارؔشد کی بھی تقدیر سنور جائے گر دستِ کرم اُن کا مِری سمت اٹھا ہو۔۔۔

مزید

شبیر کو رکھ لو دل میں

تیرے قدموں میں شجاعت نے قسم کھائی ہے   یاد آئے گی تِری یاد کی ہر محفل میں   عزم و ہمت کے مریضوں سے یہ کہہ دے کوئی   جان آجائے گی شبیر کو رکھ لو دل میں۔۔۔

مزید

ساقی نامہ

اپنے مستوں کی بھی کچھ تجھ کو خبر ہے ساقی مجلسِ کیف تِری زیر و زبر ہے ساقی اب نہ وہ دن ہیں نہ وہ شام و سحر ہے ساقی بند مَے خانۂ فیضانِ نظر ہے ساقی بات مت پوچھ غمِ عشق کے افسانوں کی خاک چہروں پہ اڑا کرتی ہے ویرانوں کی اب تو جنّت بھی ہے سرکار کی قربت بھی ہے تِرے مولا کی تِرے حال پہ رحمت بھی ہے زیبِ سر تاجِ شہہِ مُلکِ ولایت بھی ہے ہاتھ میں عالمِ جاوید کی دولت بھی ہے جب سبھی کچھ ہے تو خیرات لٹا دے ساقی چشمِ مخمور سے پھر جام پلا دے ساقی تِرے دربار میں پھر شور ہے مَے خواروں کا حوصلہ تشنہ نہ رہ جائے وفا داروں کا آ کے اب حال ذرا دیکھ لے بیماروں کا واسطہ دیتے ہیں ساقی تِرے سرکاروں کا بہرِ تسکین یہ تکلیف گوارا ہو جائےآج تربت سے نکل آ کہ نظارا ہو جائے اک نظر ڈال کے دنیا تہہ و بالا کر دےبزمِ دل نورِ تجلی سے اجالا کر دے۔۔۔

مزید

جو طالب ہے کافؔی خدا کی رضا کا

جو طالب ہے کافؔی خدا کی رضا کا تو اب وصف لکھیے حبیبِ خدا کا   جنابِ محمد حبیبِ خدا ہیں تمامی رسولوں کے وہ پیشوا ہیں   جو کچھ باغِ امکاں میں پیشِ نظر ہے حبیبِ خدا کے سبب جلوہ گر ہے   وہ صلِّ علٰی نور ہے مصطفیٰ کا کیا سب سے پہلے جسے آشکارا   نہ افلاک و انجم نہ شمس و قمر تھے کہ وہ تختِ لَوْلَاک پر جلوہ گر تھے   نہ تھا جلوۂ بزمِ ایجاد پیدا کہ تھا نورِ پاکِ نبی جلوہ فرما   وراء الورا وصفِ خیرُالورا ہے خدا تو نہیں پر حبیبِ خدا ہے   مجھے بخش دے اے خداوندِ عالم بحقِ جنابِ نبیِّ مکرّم ۔۔۔

مزید

آغاز فوائد و فضائل درود شریف

لکھا ہے کوئی تو دُرود اس طرح کا کہ ہے ا صلِ صلوات کا وہ نتیجہ ہوا ہے دُرود اس طرح کوئی مروی کہ تقریب ہے واں شمار و عدد کے کسی کو ہے کیفیتِ خاص حاصل بَہ وقتِ معیّن ہوا کوئی داخل کوئی لازمِ حال میں پُر اثر ہے کہ تاثیر اُس کی کسی حال پر ہے غرض ایک یہ کیا بڑا فائدہ ہے کہ حکمِ الٰہی کا لانا بجا ہے کیا حکم اللہ نے مومنوں کو کہ تم سب سلام و صلاۃ اُن پہ بھیجو فرشتے بھی مامور اس امر کے ہیں کہ حضرت نبی پر وہ صلوات بھیجیں روایت میں یہ اور مذکور آیا درود ایک جو کوئی بندہ پڑھے گا جنابِ الٰہی سے دس بار اُس پر نزولِ دُرود ہو عنایات گستر مدارج بھی دس اس بشر کے بڑھیں گے اور اُس کے لیے نیکیاں دس لکھیں گے مٹا دیں گے دس جرم و عصیاں کا نقشا درود ایک کا اتنا درجہ ملے گا کیا یہ بھی ارشاد خیرالورا نے حبیبِ خدا خاتمِ انبیا نے ۔۔۔

مزید

صلو علیہ واٰلہ

سلامٌ علیک اے حبیبِ الٰہی سلامٌ علیک اے رسالت نہ پاہی سلامٌ علیک اے مہِ برجِ رحمت سلامٌ علیک اے درِ دُرجِ رحمت سلامٌ علیک اے سنراوارِ تحسیں مناقب تمہارا ہے طٰہٰ و یاسیں سلامٌ علیک اے شہِ دین و دنیا اگر تم نہ ہوتے، کوئی بھی نہ ہوتا سلامٌ علیک اے خدا کے پیارے قیامت میں ہم عاصیوں کے سہارے سلامٌ علیک اے خبردارِ اُمّت یہاں اور وہاں آپ غم خوارِ اُمّت درود آپ پر اور سلام ِ خُدا ہو قیامت تلک بے حد و انتہا ہو سنا واہ کیسا یہ جاں بخش مژدہ کہ مژدہ نہیں کوئی اُس سے زیادہ کہ جو اُمتی سرورِ انبیا کا درود اور تسلیم ہے عرض کرتا تو اُس محفلِ خاصِ نور و ضیا میں حضورِ جنابِ رسولِ خدا میں بیاں ہونا ہے اُس کے نام و نشاں کا کیا جاتا ہے ذکر صلوات خواں کا سنو اور بھی، اے محبو! بشارت کہ تھی جاوداں آپ کی خاص عادت کہ جو کوئی کرتا سلام اُن کو آ کے جوابِ سلام اُس کو فی الفور دیت۔۔۔

مزید