یاد حبیب ﷺ مدینے کی گلی بھی کیا گلی ہے جہاں کی زندگی سب سے بھلی ہے ہے صد رشک فلک اس کی قسمت حبیب کبریاء کا جو ولی ہے ضیاء بر کیف ہے داغِ ہجر طیبہ منور شہرِ دل کی ہر گلی ہے طلوعِ صُبح تک یادِ نبی ﷺ میں مرے ہر اشک کی مشعل جلی ہے بہارِ باغِ طیبہ اللہ اللہ ! شگفتہ میرے دل کی ہر کلی ہے وہاں کی خاک کو سرمہ بنایا کبھی چہرے سے وہ مٹی ملی ہے گدائے مصطفےٰ ﷺ کی بات کیا ہے خدا خود اس کا والی ہے ولی ہے غلامانِ محمد ﷺ کی ہے جنت در جنت پہ تحریر جلی ہے ترے قربان اے نام محمد ﷺ تجھی سے زندگی پھولی پھلی ہے سکوں ہے ہجر مولا میں بھی حاؔفظ یہ کیسی روح پرور بے کلی ہے (مئی ۱۹۷۳ء)۔۔۔
مزید
نعت رسول مقبولﷺ چلو مدینے چلو مدینے قدم قدم سے ملا ملا کر بلا رہے ہیں وہ پھر حرم میں عطائیں اپنے بڑھا بڑھا کر انہیں کے ٹکڑوں پہ پل رہے ہیں ‘ انہیں کی خیرات کھا رہے ہیں بجھا رہے ہیں وہ پیاس میری‘ طلب سے بڑھ کر پلا پلا کر میں فرمان جاوُکَٔ رب کا لے کر چلوں گا محشر میں تیز ہوکر قریب جاؤں گا میں بھی اُن کے روکاوٹوں کو ہٹا ہٹا کر کھلیں گے میرے عمل کے دفتر ‘ خدائے برتر کے روبرو جب منا ہی لوں گا کریم رب کو ‘ نبی ﷺ کی نعتیں سناسنا کر میرے عمل میں کمی جو ہوگی نبی رحمت شفیعِ امت ﷺ کریم رب کے کریم سرورﷺ ‘ بھریں گے پلّہ ہلا ہلا کر کرم جو رہتا ہے خاص مجھ پر ‘ عنایتوں کا سخاوتوں کا مدینے جاؤں گا ہر طرح کے ‘ میں فاصلوں کو مٹا مٹا کر کرم کی خیرات لوٹنے کو میں جب بھی جاؤں گا سوئے طیبہ زمین طیبہ کو چوم لوں گا لبوں کو اپنے جما جما کر ہمیشہ محروم ۔۔۔
مزید
نعت رسول مقبول ﷺ ہے میری بس یہی دعا ہے یہی التجا فقط بندۂ مصطفےٰ ﷺ ہی رکھ مجھ کو میرے خدا فقظ جس کو اگر ہو جاننا سیرت مصطفےٰ ﷺ فقط کافی ہے اس کو قولِ وَالنَّجمِ اِذا ھَویٰ فقط خالق کائنات کُل بالیقیں ربِّ کائنات باعث خلق کائنات احمد مجتبیٰ فقط روز ازل سے تاابد کوئی نہیں ہے آپ سا بعد از خدا بلند ہے آپ کا مرتبہ فقط اَسْریٰ کی شب تھی منتظر وسعتیں لامکان کی آپ کی آپ کی فقط آپ کی مصطفےٰ ﷺ فقط کس کو ملی ہیں عظمتیں کس کو ملیں یہ رفعتیں سجدۂ گہہ ملائکہ آپ کا نقش پا فقط وسعتیں دو جہاں کی ہیں ان کے غلام کے لئے مسکن جبرائیل ہے سدرۂ منتہیٰ فقط اس میں نہیں ہے کوئی شک دونوں جہان میں حضور ﷺ ضامن راہ مستقیم آپ کی اقتدا فقظ عشق رسول پاکﷺ میں مجھ کو عطا ہو وہ مقام میرے روئیں روئیں کی ہو صَلِّ علٰی صدا فقط جس کو کہیں شفا نہ جس کی کہیں دوا نہ ہو خاک در حضور ﷺ ہے اس کے لئے دوا فقط ہو یہ جہان۔۔۔
مزید
نعت رسول اکرم ﷺ جہاں مل سکے نہ گماں کو رَہ وہ نبیﷺ کا حسن و کمال ہے جو ہر اک سانس پہ ہو عطا وہ نبیﷺ کا جود و نوال ہے یہی زندگی ، ہے یہی متاع ، یہی میرا مال و منال ہے میرے دل میں حُبِّ رسول ﷺ ہے مِرے لب پہ ذکر جمال ہے وہی وجہ کلقِ زمیں زماں ‘ وہ حبیب خالقِﷺ کل جہاں کہاں ان ساکوئی جہان میں کہاں کوئی ان کی مثال ہے مہَ و مہر کیا ، یہ نجوم کیا گل و غنچہ کیا ، یہ شمیم کیا ہیں ان ہی کی ساری یہ تابشیں یہ ان ہی کا سارا جمال ہے میرے لب پہ مدح حضورﷺ ہے ، یہ کرم بھی تو ان ہی کا ہے بیاں وصف ان کا میں کرسکوں کہاں مجھ میں اتنی مجال ہے نہ حکومتیں ، نہ امَارتیں ، نہ وزارتیں ، نہ سفارتیں ملیں سب ہی مجھ کو تو میں نہ لوں بھلا کوئی مثل نعال ہے نہ کسی کو کوئی بتا سکا نہ سمجھ سکا کوئی آج تک ’’سر عرش جانا کمال تھا کہ وہاں سے آنا کمال ہے‘‘ ہے نبیﷺ کے رخُ پہ جو قَدْنَریٰ تو ہے۔۔۔
مزید
ساقئی کوثر مراجب میر میخانہ بنا چاند و سورج خم بنے ہر نجم پیمانہ بنا حسن فطرت کے ہر اک جلوے سے بیگانہ بنا دل بڑا ہشیار تھا اس در کا دیوانہ بنا اس بہانے ہی سے جا پہنچوں لب اعجاز تک یاالہی خاک کر کے مجھ کو پیمانہ بنا اپنے عقل و ہوش کھونے کا صلہ مل ہی گیا میرا افسانہ سراپا ان کا افسانہ بنا اللہ اللہ رفعت اشک غمِ ہجر نبیﷺ جونہی ٹپکا آنکھ سے تسبیح کا دانہ بنا آج بھی سورج پلٹ سکتا ہے تیرے واسطے اپنے دل کو الفت احمد کا کاشانہ بنا چاند کی رفعت کو چھولینا کہاں کی عقل ہے عقل یہ ہے چاند کو خود اپنا دیوانہ بنا میرے دل میں حب احمد کے ہیں گل بوٹے کھلے اب اسے کعبہ سمجھ واعظ کہ بت خانہ بنا جام و ساغر سے بھی جائیگی کہیں تشنہ لبی جرعۂ دست کرم کو میرا پیمانہ بنا جانے کتنی ٹھوکریں کھاتا ہوا آیا ہوں میں مجھ کو محروم تمنا میرے مولیٰ نہ بنا ہاتھ ملتی رہ گئی رنگینئ حسنِ مجاز دل مرا شمع رخ احمد کا پروانہ بنا دھو ۔۔۔
مزید
خدائے برتر و بالا ہمیں پتہ کیا ہے ترے حبیب مکرمﷺ کا مرتبہ کیا ہے جبین حضرت جبریئل پرکفِ پا ہے ہے ابتدا کا یہ عالم تو انتہا کیا ہے خدا کی شانِ جلال و جمال کے مظہر ہر ایک سمت ہے تو ہی ترے سوا کیا ہے کوئی بلال سے پوچھے خُبیب سے سمجھے خمارِ الفتِ محبوب کبریاﷺ کیا ہے سمجھ لو عہد رسالت کے جاں نثاروں سے کمال صدق و صفا رشتۂ وفا کیا ہے بشر کے بھیس میں لاکالبشر کی شان رہی یہ معجزہ جو نہیں ہے تو معجزہ کیا ہے غمِ فراق نبیﷺ میں جو آنکھ سے نکلے خدا ہی جانے ان اشکوں کا مرتبہ کیا ہے کرم کرم کہ کریمی ہی شان ہے تیری ترے کرم کے مقابل مرِی خطا کیا ہے جو میری جان سے زیادہ قریب ہیں مجھ سے انھیں کو ڈھونڈ رہا ہوں مجھے ہوا کیا ہے فقط تمہاری شفاعت کا آسرا ہے حضورﷺ ہمارے پاس گناہوں کے ماسوا کیا ہے چلو دیارِ مدینہ جو دیکھنا چاہو زمیں سے عرش معلیٰ کا فاصلہ کیا ہے بخاری پڑھ کے بھی شانِ محمدِ عربیﷺ سمجھ نہ پائے اگر۔۔۔
مزید
بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں میرے حضورﷺ میری چشم تر میں رہتے ہیں ہمارے دل میں ہمارے جگر میں رہتے ہیں انہی کے گھر ہیں یہ وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں یہ واقعہ ہے لباسِ بشر بھی دھوکا ہے یہ معجزہ ہے لباسِ بشر میں رہتے ہیں مقام ان کا نہ فرش زمیں نہ عرش بریں وہ اپنے چاہنے والوں کے گھر میں رہتے ہیں ملائکہ بھی عقیدت سے دیکھتے ہیں انھیں جو خوش نصیب نبیﷺ کے نگر میں رہتے ہیں یقین والے کہاں سے چلے کہاں پہونچے جواہل شک ہیں اگر میں مگر میں رہتے ہیں خدا کے نور کو اپنی طرح سمجھتے ہیں یہ کون لوگ ہیں کس کے اثر میں رہتے ہیں رہیں وہ اپنوں سے غافل ارے معاذ اللہ خوشا نصیب ہم انکی نظر میں رہتے ہیں وہ اور ہی تھا جو قوسین پر نظر آیا مَلک تو اپنی حد بال وپر میں رہتے ہیں جو اخؔتر ان کے تصور میں صبح و شام کریں کہیں بھی رہتے ہوں طیبہ نگر میں رہتے ہیں ۔۔۔
مزید
حسن خورشید نہ مہتاب کا جلوہ دیکھو آؤ احمد کے کفِ پاکا تماشہ دیکھو دیکھنے والو دیارِ شہِ بطحا دیکھو فرش کی گود میں ہے عرش معلیٰ دیکھو چہرۂ ماہ کو بے داغ تو ہو لینے دو اس میں پھر جاکے کہیں عکس کفِ پا دیکھو زاہد و خار صفت خلد بھی ہو جائے گی کاش تم کوچۂ شاہنشۂ بطحا دیکھو خواہش جلوۂ سینا بھی بجا ہے لیکن طور بھی رشک کرے جس پہ وہ جلوہ دیکھو میری تقصیر ہے کیا تیرے کرم سے بھی فزوں دیکھو تم اپنا کرم ہاتھ نہ میرا دیکھو خالِ رخِ زلفِ معنبر کی سیاہی کا امیں خوش نصیبو مرا تاریک نصیبہ دیکھو ان کے غم سے میری آنکھوں کو ملا اوج فلک نوک غمزہ پہ چمکتا ہے ستارہ دیکھو چشم خاطر کو جو ہو نور بصیرت مقصود دیکھنے والو ذراگنبد خضریٰ دیکھو کس نے سرکایا نقابِ رخِ روشن اخؔتر ہر طرف ایک قیامت سی ہے برپا دیکھو ۔۔۔
مزید
سوچتا ہوں کیا کہوں میں، کیا نظر آنے لگا وہ ریاض برزخ کبریٰ نظر آنے لگا تو نے اعجاز کمال بندگی دیکھا نہیں بھیس میں بندہ کے خود مولا نظر آنے لگا نور و بشریٰ مل گئے اور بن گیا نوری بشر رہ کے پردے میں وہ بے پردہ نظر آنے لگا پھوٹتے ہی ان کے ہونٹوں پہ تبسم کی کرن غیرت خورشید ہرذرہ نظر آنے لگا جاکے موسیٰ سے بھی کہہ دو وہ بھی آکر دیکھ لیں اس کے رخ پہ میم کا پردہ نظر آنے لگا اے غم ہجر نبی ﷺ صدبار تیرا شکریہ دل مرا کعبہ کا بھی کعبہ نظر آنے لگا میں نے سمجھا عرشِ اعظم ہی اتر کر آگیا جب تمہارا گنبد خضریٰ نظر آنے لگا آنکھ جب تک بند تھی اک آدمی سمجھا تجھے اور جب وا ہوگئی کیا کیا نظر آنے لگا تو فنا فی الحق ہوا، پھر کیا ہوا، میں کیا کہوں قطرہ دریا میں گیا دریا نظر آنے لگا انکی یادوں میں جو ٹپکا اشک اخؔتر آنکھ سے منزلت میں عرش کا تارا نظر آنے لگا ۔۔۔
مزید
کس لئے فکر کریں حشر کے دن کیا ہوگیا سامنے ان کے جو کچھ ہوگا وہ اچھا ہوگا جذبۂ عشق بتا وقت وہ کیسا ہوگا سامنے جب مرے سرکارﷺ کا روضہ ہوگا انکے ہوتے ہوئے ظلمت کا تصور کیسا؟ قبر میں میری اجالا ہی اجالا ہوگا نفسی نفسی کے سوا جب نہ سُجھائی دیگا رَبِّ ہَب لی کی صدا کوئی لگاتا ہوگا میں تو غرقاب تھا ساحل سے لگایا کس نے؟ میرا مولا ، میرا آقا ، میرا داتا ہوگا اے حسین بن علی تیری شہادت کو سلام دین حق اب نہ کسی دور میں تنہا ہوگا رب نے چاہا تو قیامت میں سبھی دیکھیں گے ان کے قدموں میں پڑا اخؔتر خستہ ہوگا ۔۔۔
مزید
ضَیائے ماہ نہ خورشید کے جمال میں ہے جو بات میرے نبیﷺ آپکے بلال میں ہے جواب سل میں طلب کی رفاقتِ جنت کمال ہوش ربیعہ ترے سوال میں ہے خدا بھی جس کو رؤف رّحیم کہتا ہے مرا نبیﷺ ہے وہی! حشر کس خیال میں ہے غلاف کعبہ کہاں گنبد رسولﷺ کہاں فراق میں ہے کہاں رنگ جو وصال میں ہے رہی خدا کو بھی منظور اس کی خوشنودی نہ پوچھ مجھ سے کہ کیا آمنہ کے لالﷺ میں ہے یہ راز آیہ تطہیر سے کھلا اخؔتر ردا کے نیچے جو ہے ظل ذوالجلال میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید
اس روئے والضحیٰ کی صفا کچھ نہ پوچھئے آئینہ جمال خدا کچھ نہ پوچھئے ہم سے سیاہ بختوں کو سائے میں لے لیا فضل سحاب زلفِ دوتا کچھ نہ پوچھئے قوسین پر وہ نورِ اَو ادنیٰ میں چھپ گئے پھر کیا ہوا ہوا جو ہوا کچھ نہ پوچھئے ان کے حضور ہاتھ اٹھانے کی دیر تھی پھر کیا ملا ملا جو ملا کچھ نہ پوچھئے اپنے کو دے دیا ہمیں خواجہ کی شکل میں میرے نبیﷺ کی شان عطا کچھ نہ پوچھئے وہ آخری گھڑی میری بالیں پہ آگئے حیرت سے تک رہی تھی قضا کچھ نہ پوچھئے خواجہ کے درکا ایک میں ادنیٰ غلام ہوں آزاد ہوں بس اس کے سوا کچھ نہ پوچھئے آواز دے رہا ہے یمن کا غریق عشق فرقت کے روز و شب کا مزا کچھ نہ پوچھئے اخؔتر فضائے خلد بریں خوب ترسہی شہر نبیﷺ کی آب و ہوا کچھ نہ پوچھئے ۔۔۔
مزید