خطیبِ مشرق علامہ صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ جَمیلآپ سلطانُ الواعِظین مولانا ابوُ النور محمد بشیر کوٹلوی کے صاحبزادے، حضرت فقیہِ اعظم مولانا ابو یوسف محمد شریف محدّث کوٹلوی کے پوتے، خواجہ نواب الدین رَمداسی کے نواسے اور حافظ مظہر الدین کے بھانجے تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ یکم دسمبر 2025 مطابق 9 جماد ی الثانی 1447 ھ کو تین بجے کوٹلی لوہاراں، ضلع سیالکوٹ میں ادا کی گی۔ ۔۔۔
مزید
استاذ الاساتذہ مخدومِ ملت علامہ مولانا مفتی عبدالرحمن ٹھٹوی (مہتمم دارالعلوم مجددیہ عثمانیہ مکلی ٹھٹہ)۔۔۔
مزید
امام ابن جریجنام ونسب : امام عبد الملک بن عبد العزیز ابن جریج القرشی الاموی ۔ولادت: آپ 80ھ میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔یہ وہ مبارک دور تھا جب مکہ میں ابھی بعض صحابہ کرام کے آثار باقی تھے اور تابعینِ عظام کی علمی مجالس جوبن پر تھیں۔آبائی وطن:آپ کے دادا 'جریج' رومی نژاد تھے، جنہیں بنو امیہ کے دور میں قیدی بنا کر لایا گیا تھا۔ وہ آلِ زبیر بن العوام کے غلام بنے اور پھر آزاد ہوئے۔ اسی نسبت سے آپ کو 'القرشی' کہا جاتا ہے۔ تحصیلِ علم امام ابن جریج نے علم کی خاطر اپنی جوانی وقف کر دی تھی۔ آپ کے علمی سفر کی سب سے خاص بات طویل رفاقت ہے۔امام عطاء بن ابی رباح: آپ نے ان کی صحبت میں 18 سال گزارے۔ آپ خود فرماتے ہیں: "میں نے 17 سال تک عطاء کی مجلس میں کسی دوسرے کی طرف رخ نہیں کیا، پھر ایک سال مزید ان کی خدمت میں رہا۔" مکہ کے فتاویٰ کا جتنا علم عطاء کے پاس ۔۔۔
مزید
امام معمر بن راشدولادت :آپ کی ولادت : ۹۵ھ ، رمضان المبارک بصرہ میں ہوئی۔کنیت: ابو عروہ۔نام: معمر بن راشد۔آپ بنو ازد کے مولیٰ عبدالسلام بن عبدالقدوس بصری کے غلام تھے، اسی لیے "بالواسطہ ازدی" کہلائے۔تحصیلِ علمبصرہ میں آغازجو اس وقت علم کا مرکز تھا۔ غلام ہونے کے باوجود آپ نے علمی فیض حاصل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ذہانت و بصیرت آپ غیر معمولی قوتِ حفظ، ضبط اور فہم و فراست کے مالک تھے۔علم کے شوق میں آپ نے بصرہ کے علاوہ دوسرے علمی مراکز کا رخ کیا اور اپنے وقت کے عظیم محدث اور شیخ بن گئے۔امام احمد بن حنبل کی گواہی: امام احمد بن حنبل آپ کے علمی ذوق کے بارے میں فرماتے ہیںکان من اطلب اھل زمانہ للعلم (وہ اپنے زمانے میں سب سے بڑھ کر علم طلب کرنے والے تھے)۔مدینہ منورہ کا سفر:آپ کا علمی ذو۔۔۔
مزید