آپ میاں پیر بخش بن میاں سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبراور مرید و خلیفہ وسجادہ نشین تھے۔آپ فنون سپہ گری و شہسواری وجوانمردی میں اپنے بزرگوں سے سبقت لے گئے تھے۔ شاہانہ جلسوں میں خلعتیں حاصِل کرتے۔ سِکّھوں کی ملازمت آپ کےزمانہ میں سِکّھوں کی حکومت تھی ۔آپ اُن کے لشکرمیں بعہدۂ کمیدان ملازم تھے۔سِکھ سردارآپ کی بڑی قدر کرتے تھے۔کتاب عمدۃ التواریخ مصنّفہ لالہ سوہن لعل سُوری کنجاہی اور کتاب عبرت نا مہ میں مصنّفہ مفتی علی الدین لاہوری رحمتہ اللہ علیہ میں جو سِکّھوں کے عہد کی معتبرتاریخیں ہیں۔فتوحات سکّھاں میں جابجاآپ کانام بنام "میاں الٰہی بخش کمیدان"تحریر ہے۔آپ نے جنگوں میں کافی حِصّہ لیاہے۔ سکّھوں کی قدردانی اُس زمانہ میں غارتگری کا بازار گرم تھا۔طوائف الملوکی تھی۔سِکھ آپ کے جان ومال کی حفاظت کرتےتھے۔چنانچہ اِس مکتوب سے ظاہر ہوتاہےجو کسی افسربالا۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان شاہ بن میاں محمد اکرم نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے اور مرید و خلیفہ تھے۔اہل عبادت وریاضت تھے۔ ۱؎میاں سلطان ملک نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کاکچھ ذکر شریف التواریخ کی تیسری جلد موسوم بہ تذکرۃ النوشاہیہ کے پانچویں حِصّہ عوارف الانوار میں لکھاجائےگا۔شرافت دَڑوہ میں وَرود آپ کی تربیّت بمقام حاجی والہ ضلع گجرات ہوئی۔جب جوان ہوئے۔تو بمقام دَڑوہ آکر ایک حجرہ بنایااوراس میں مصروف عباد ت رہنے لگےاوراپنی سکونت سے بھی اُسی جگہ کو نوازا۔ صاحب سنگھ کا مُرید ہونا منقول ہے کہ ایک مرتبہ سردارصاحب سنگھ حاکم قلعہ اسلام گڑھ بمعہ میاں پیر بخش بن میاں سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے شکارسے واپس آتاہواآپ کے سلام کو حاضر ہوا۔آپ کے انوارولایت کودیکھ کرمریدہوگیااورتین سوبیگہہ زمین معافی دے گیا جاگیرات آپ کو متعدد جگہوں پر جاگیریں ملی ہوئی تھیں۔وہ زمینیں معاف تھیں۔۔۔۔
مزید
بسلطانِ مُلک از حضورِ الاہ رسید ہ بسے رتبہ بے اشتباہ آپ میاں سلطان محمد بن میاں محمد اکرم نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے تھے۔اجازت و خلافت شیخ چوغطے شاہ فقیر نوشاہی رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔جن کاذکر کتاب ہذاکی تیسری جلد موسوم بہ تذکرۃ النوشاہیہ کے چھٹے حِصّہ میں آئے گا۔ تعلیم آپ جب سن تمیز کوپہنچے تووالد نے آپ کو موضع لنگے برلب دریائے چناب میاں وڈا رحمتہ اللہ علیہ کے درس میں داخل کیا۔آپ نے وہاں سے قرآن مجید قرأ ت کے ساتھ پڑھا اور فارسی درسی کتابوں پر بھی عبورکیا۔ واقعہ بیعت منقول ہے کہ ابتدائے شباب میں آپ بڑے امیرانہ مزاج تھے۔ریشمی لباس پہنتےاور ہاتھوں میں سنہری کڑے ہوتے تھے۔شہسواری اور نیزہ بازی کا شوق تھا۔ایک مرتبہ آپ علاقہ سیالکوٹ میں بمعہ درویشوں کے گئے۔مریدوں نے آپ کی گھوڑیاچَرنے کے لیے کھلی چھوڑ دین۔انہوں نے سکّھوں کے کھیت کا اجاڑاکیا۔توس۔۔۔
مزید
آپ میاں سلطان محمد بن میاں محمد اکرم نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرےبیٹے اورمریدو خلیفہ اور سجادہ نشین تھے۔آپ نوجوان ۔شاہزور۔فنونِ سپاہ گری کے واقف بہادری اور شجاعت میں بے مثل تھے۔ ملازمت سکھاں آپ نے اوائل میں سردارصاحب سنگھ اسلام گڑھی کے ہاں ملازمت اختیار کی تھی۔سپاہ گری کے جوہر دکھاکرموردِ الطاف و انعامات رہےاورخلعت پائی۔ جاذبہ الٰہی آخر محبّت الٰہی نے کشش کی توآپ ملازمت چھوڑ کرآباؤاجدادکے راستہ پر گامزن ہوئےاوردرویشی میں مقام راسخ پایا۔ بیویاں اوراولاد آپ کی چار بیویاں تھیں۔جن سے پانچ بیٹے ۔بتفصیل ذیل پیداہوئے۔ ۱۔مسمات بخت بھری قوم چبھہ راجپوت ساکن کوٹ کمیلہ ریاست جمّوں ۔ان کے بطن سے تین بیٹے میاں سلطان علی اور میاں سلطان اشرف اور میاں سلطان بھاگن لاولدپیداہوئے۔ ۲۔مسمات نوربھری قوم کھوکھرساکن وزیرآباد ۔ان کے بطن سےایک فرزند میاں الٰہی بخش پیداہوئے۔جن کاذکر چھٹے باب۔۔۔
مزید
آپ میاں محمد اکرم بن میاں عبدالجلیل نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے فرزند اور مرید وخلیفہ تھے۔ اخلاقِ حسنہ آپ اپنے زمانہ میں ولایت کےنشان۔صاحب دردوذوق و شوق۔اہل راز و نیاز تھے۔بحر توحیدمیں مستغرق رہتے۔مسکینوں غریبوں کی خدمت کرتے۔حلیم الطبع۔مشفق رحیم و کریم تھے۔توحید کی رنگت آپ کے چہرہ پر نمایاں تھی۔خدا کے مقبول بندوں سے تھے۔ حاجی والہ میں ورود آپ اپنے سُسرال کے گاؤں حاجی والہ ضلع گجرات میں چلے گئے۔اوروہیں سکونت اختیارکی۔ اولاد آپ کانکاح مسمات بیگم بی بی دختر ملک محمد غازی اعوان ساکن حاجی والہ سے تھا۔اُن کے بطن سے اولاد ہوئی۔ آپ کے پانچ بیٹے تھے۔ ۱۔میاں سلطان سکندر۔ ۲۔میاں سلطان صاحب جی لاولد۔ ۳۔میاں سلطان حاجی۔ ۴۔میاں سلطان عالم۔ ۵۔میاں سلطان فضل۔ ؎ میاں سلطان سکندر۔علم ظاہر وباطن میں یگ۔۔۔
مزید
آپ میاں محمد اکرم بن میاں عبدالجلیل نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے فرزند اور مرید وخلیفہ تھے۔ اخلاقِ حسنہ آپ اپنے زمانہ میں ولایت کےنشان۔صاحب دردوذوق و شوق۔اہل راز و نیاز تھے۔بحر توحیدمیں مستغرق رہتے۔مسکینوں غریبوں کی خدمت کرتے۔حلیم الطبع۔مشفق رحیم و کریم تھے۔توحید کی رنگت آپ کے چہرہ پر نمایاں تھی۔خدا کے مقبول بندوں سے تھے۔ حاجی والہ میں ورود آپ اپنے سُسرال کے گاؤں حاجی والہ ضلع گجرات میں چلے گئے۔اوروہیں سکونت اختیارکی۔ اولاد آپ کانکاح مسمات بیگم بی بی دختر ملک محمد غازی اعوان ساکن حاجی والہ سے تھا۔اُن کے بطن سے اولاد ہوئی۔ آپ کے پانچ بیٹے تھے۔ ۱۔میاں سلطان سکندر۔ ۲۔میاں سلطان صاحب جی لاولد۔ ۳۔میاں سلطان حاجی۔ ۴۔میاں سلطان عالم۔ ۵۔میاں سلطان فضل۔ ؎ میاں سلطان سکندر۔علم ظاہر وباطن میں یگ۔۔۔
مزید
آپ میاں محمد اکرم بن میاں عبدالجلیل نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے اور مریدو خلیفہ تھے۔ہردم یادِ خدا میں محو اورنشہ توحید میں سرشار رہتے ۔سوائے سخت ضرورت کے کلام نہ کرتے ۔ ذکرہُو میں دائمی اشتغال تھا۔ مسکین پروری منقول ہے کہ آپ زیادہ تر حالت سکرمیں رہتے تھے۔اپنی زراعت سے جو غلّہ آتا۔وہ فقیروں درویشوں کوتقسیم کردیاکرتے تھے۔چھوٹے بچّوں کو دانے بُھنا کر دیاکرتے۔ تا کہ وہ چباکرخوش ہوں۔ کرامات نماز کے لیے بیدارکرنا شیخ پیر کمال لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کتاب تحائف قدسیہ میں لکھتے ہیں کہ ایک رات میں غفلت کی نیند سویاہواتھا۔خواب میں زیارت ہوئی۔آپ نے فرمایااُٹھ اور فجر کےسلام کومحفوظ رکھ۔میں بیدارہواتودیکھا کہ فجر کی نماز کا وقت اخیرہوچکاتھا۔میں نے جلدی سے وضو کرکے نمازاداکی۔پھر فوراً سورج نکل آیا۔اُس وقت آپ کی عمر چودہ سال تھی۔ اولاد کے حق میں دعاکرنا منقول ہے کہ آپ کے بھت۔۔۔
مزید
حضرتِ سلطاں محمد مظہرِ فیضِ اتم حامئیِ اہلِ معاصی ساقیِ جامِ قِدَم آشنائے بحرِعرفاں مہبطِ نورِ الٰہ مخزنِ سِرّالٰہی معدنِ لطف و کرم چہرۂ نورانیِ شاں ہمچوماہِ چاردہ دُورکردازلطفِ ایشاں دردوعالم محترم گرکسےباشدذلیل از رنجِ دہربیوفا مے شودازلطفِ ایشاں دردوعالم محترم نیست اشرف رازآسیب حوادث روزگا ازنگاہِ لطفِ پاکش بیم جورداشتلم آپ میاں محمد اکرم بن میاں عبدالجلیل نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے اور مرید و خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔آپ کا شہرہ دُوردُورتک تھا۔قندھاراور ہندوستان سے خلقت آکر مستفید ہوتی تھی خلائق زقندھارو ہندوستاں بیایندبہرِ زیاراتِ شاں حق کی طرف رجوع آپ امیرانہ طبع اور خوبصورت تھے۔جو شخص آپ کو دیکھتا فریفتہ ہوجاتا۔ایک دن بعالم شباب گھوڑے پرسوارہوکرشکارکوجارہے تھے۔سامنے سے سکّھوں کی ایک فوج آتی ملی۔اُن کا افسرسِکھ آپ پ۔۔۔
مزید
حضرت اکرم برہِ قربِ حق بُردزمیدانِ سعادت سبق ازلطفِ پیر بمعراجِ قرب برزنہ ٔ عشق فگندہ دہق مصحفِ آیاتِ الٰہی مدام خواندہ تمامی ورقاً باورق مادرِ ایّام نزادہ دگر ثانی شاں ماند برنجِ رتق اشرف خاکِ درشاں سُرمہ کن تابرتنِ توبودازجاں رمق آپ میاں عبدالجلیل بن حضرت سچیار نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے تھے۔بیعت وخلافت بلاواسطہ اپنے جد بزرگوار حضرت شیخ پیر محمد سچیاررحمتہ اللہ علیہ سے رکھتے تھے۔ مولوی محمد اشرف فاروقی رحمتہ اللہ نے مناقب نوشاہی میں اور مولوی حاجی سید غلام نبی حسینی جالندھری رحمتہ اللہ علیہ نے مثنوی اسراروارثی میں آپ کواپنے داداکامرید لکھاہے۔ اخلاق وعادات آپ صاحب خلق عظیم۔حلیم الطبع۔مستجاب الدعوات ۔حسین و جمیل تھے۔ آپ کے چہرہ سے تجلّیاتِ نورچمکتے تھے۔یادِ الٰہی میں محو و مستغرق رہتے۔صوفیائے معاصرین میں عالی مرتبہ تھے۔ ۔۔۔
مزید
مظہرِ نورِ الٰہی حضرت عبدالجلیل یافت قرب لِی مع اللّٰہپیش حق بے قال وقیل سینۂ بے کینہ اش کانونِ نارِ عشق بود گمرہانِ دو جہاں راذاتِ پاکِ اودلیل آشنائے بحرِ عرفاں واقفِ لوح وقلم بانئے کارِ دوعالم درسخاوت بے عدیل یکدم ازیادِ خداہرگزنمے بودے جدا صرف کردے دا؟رہِ حق از کثیروازقلیل! از حسابِ روزِ محشر نیست بیم ازہیچ رُو زانکہ لطفِ پاک ایشاں باشد اشرف راکفیل؟ آپ حضرت شیخ پیر محمد سچیارنوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے اور مریدو خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ حرارتِ عشق منقول ہے کہ جس وقت حضرت سچیار رحمتہ اللہ علیہ کاوقت وفات قریب ہوا تو آپ کوبلاکراپنے سینہ پر لٹایااور اپنی نعمت باطنی سے بہرہ ورکیا۔اُس دن سے آپ کو عشقِ الٰہی کی حرارت اس قدر بڑھ گئی کہ گرمی شوق سے ہر وقت جسم جلتارہتااور اضطراب وبیقراری غالب رہتی۔ روزانہ دو آدمی پانی کی مشکیں بھرکرآپ پر ۔۔۔
مزید