بدھ , 05 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 22 April,2026

میاں بوٹے شاہ رحیمی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں فتح محمد بن میاں مراد بخش کے بڑے بیٹے تھے۔بیعت وخلافت شیخ پھلّے شاہ بن شیخ فتح الدین سلیمانی رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ سےرکھتے تھے۔ اولاد آپ کی اولاد نرینہ نہیں تھی۔صرف دو بیٹیاں تھیں۔ ۱۔       مسمات جواہر بی بی ۔منکوحہ میاں پیر بخش بن میاں قادر بخش زمانی رحمتہ اللہ علیہ           آپ نے اپنے نواسہ میاں نبی بخش بن پیربخش کو اپنامتبنّٰی بنایااور اپنی جائیداد پر قابض کیا۔ ۲۔       مسمات بھری ۔منکوحہ امیر یاران طریقت آپ کے خواص مریدیہ تھے۔ ۱۔میاں قاسم شاہ بن میاں پیر بخش زمانی نواسہ                   بھڑی شریف        ضلع گوجرانوالہ ۲۔میاں نبی بخش بن۔۔۔

مزید

میاں جمعیّت شاہ مجذوب زمانی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں امام شاہ بن میاں نورشاہ زمانی رحمتہ اللہ علیہ کے چھوٹے بیٹے اورمریدتھے۔بچپن سے ہی سادہ اطواراورمجذوب طبع تھے۔ کرامات مویشیوں کابیہوش ہوجانا آپ ابھی بچّہ تھے کہ والد نے آپ کو مویشی چرانے کے واسطے بھیجا۔آپ دوپہرکوان کو پانی کی طرف ہانکتے۔وہ چراگاہ کو دوڑتے۔آپ نے غصّہ میں آکرکہامر جاؤ۔ سب مویشی بیہوش ہو کر گرپڑے۔آپ کے والد کو پتہ چلا تو انہوں نے جھڑکاکہ اگرمویشی مر گئےتوتم کو بھی ماردیں گے۔آپ نے کہااچھانہیں مریں گے۔چنانچہ وہ ہوش میں آگئے۔ والدہ کی نظر بندہونا آپ کے سرپر بال تھے۔ژولیدہ مورہتےاور ان میں اکثر جوئیں پڑجاتیں۔اگرکوئی جُوں گرپڑتی ۔تو اٹھاکر سرپر رکھ دیتے۔ایک دن آپ کی والدہ نے دو جوئیں سر سے نکالیں۔آپ نے کہامائی جی ۔اگرآپ کی نظربندہوتی تو آپ جوئیں نہ نکال سکتیں۔چنانچہ مائی صاحبہ کی نظربند ہوگئی۔ لاہور چلاجانا جب  آپ سے ایسے واقعات ظہورمیں آنے لگےتو۔۔۔

مزید

میاں پیر شاہ زمانی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ کانام پیربخش المعروف پیرشاہ تھا۔آپ میاں امام شاہ بن میاں نورشاہ زمانی بھڑیوالہ کے فرزند اکبراور مریدو خلیفہ  تھے۔صاحب کمالات ظاہری وباطنی ۔سیف اللسان تھے۔ جاگیر معافی آپ  بڑے لائق و بااقبال تھے۔گورنمنٹ برطانیہ کی طرف سے آپ کو پندرہ گھماؤں زمین معافی ملی ہوئی تھی جو آپ کے بعد آپ کے بیٹوں کومنتقل ہوئی۔جیساکہ مندرجہ ذیل سرکاری تحریر سے ثابت ہوتاہے۔ "نقل معافی رُوبکار ضلع گوجرانوالہ  مشمولہ نقل واگذاری معافی پیر بخش متوفی واقعہ بھڑی شاہ رحمان صاحب گوجرانوالہ۔بنام  محمد الدین و علم الدین پسران پیربخش مذکور۔ ڈاکٹ۲۹۸؎ مورخہ ۱۲نومبر۱۸۷۲ء؁ صاحب کمشنر بہادر معہ نقل چٹھی صاحب فنانشل کمشنربہادر ۷۴۸؎ مورضہ ۲۹اکتوبر۱۸۷۲ء؁ بجواب ڈاکٹ ۳۷۲؎ مورخہ ۱۵اکتوبر ۱۸۷۲ء؁ بدین مضمون صدور ہواکہ کہ رجسٹر معافی ۱۵؎ گھماؤں اراضی واقعہ موضع بھڑی اُونچی واسطے وارثانِ پیر بخش معافیدار مت۔۔۔

مزید

میاں امام شاہ حکیمی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ کا نام امام بخش المعروف امام شاہ تھا۔آپ میاں اکابرشاہ بن میاں غلام رسول حکیمی رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے تھے۔بیعت وخلافت شیخ پُھلّے شاہ بن شیخ فتح الدین سلیمانی رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ سے رکھتےتھے۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند میاں شمس الدین تھے۔ ؎          میاں شمس الدین کے دو بیٹے تھے۔میاں محمد الدین ۔میاں کرم الٰہی۔ ؎         میاں محمدالدین اتوار یکم  رمضان ۱۳۴۲ھ؁ کو لاولدفوت ہوئے۔ان کا ایک مرید سائیں مَتّے شاہ جوگی ساکن جھبّرورکاں تھا۔جوایک سال درگاہِ رحمانیہ کا مجاوررہا۔ ؎         میاں کرم الٰہی المعروف کرم شاہ اخلاق حسنہ رکھتے تھے۔درویش مشرب تھے۔سلسلہ           پیری مریدی بہت تھا۔چٹاگورارنگ اور چہرہ پر چی۔۔۔

مزید

میاں امام شاہ زمانی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ کانام امام بخش المعروف امام شاہ تھا۔آپ میاں نورشاہ  بن میاں محمد زمان رحمتہ اللہ علیہ بھڑیوالہ کے دوسرے فرزندتھے۔ تاریخ ولادت آپ کی ولادت ۱۲۰۴ھ؁ میں ہوئی۔ تربیت وبیعت بچپن سے آپ کا چہرہ پرآثاررشدوہدایت درخشاں تھے۔اپنے دادا میاں محمد زمان بن میاں عبدالرحیم کے آغوش میں پرورش پائی۔وفات کے وقت انہوں نے بیعت کیااور آپ کوسینہ پر لٹاکرفیض روحانی سے مالامال کردیا۔ کثرتِ فیض جس وقت آپ کے داداکاانتقال ہوا۔آپ کی عمرگیارہ سال تھی۔ آپ کے والدمیاں نورشاہ رحمتہ اللہ علیہ ان دنوں دریائے راوی پر تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ آپ کوہمجدی بھائیوں سے کچھ تکلیفیں پہنچیں۔اس لیے آپ دردمنددل لے کر گھرسے روانہ ہوئے۔چلتے چلتے تھک کرایک جگہ لیٹ گئے۔آرام کیا۔آنکھیں لگ گئیں۔خواب میں داداکی زیارت ہوئی۔فرمایابیٹاغمگین نہ ہو۔تمام علاقہ مانجھہ ۔مالوہ۔دوآبہ تمہارامطیع ہوگا۔جب بیدار ہوئے تو لوگوں کی آ۔۔۔

مزید

سید زین الدین رکن آبادی

حضرت سید زین الدین رکن آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شیخ زاہد بن علی مرغابی

حضرت شیخ زاہد بن علی مرغابی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

مولوی غلام حسین قنوجی

          مولوی غلام حسین[1]بن مولوی حسین علی بن شیخ علامہ عبد الباسط قنوجی: فقیہ فاضل،محدث کامل،مفسرِ اکمل،جامع علوم و فنون تھے۔۱۲۲۱ھ میں پیدا ہوئے۔آپ کا تاریخی نام غلام علیم ہے،علوم نقلیہ و عقلیہ شیخ عالم محمد سعادت کان فرخ آبادی مشہور متوکل سےپڑھے اور ۱۲۳۶؁ھ میں علمِ حدیث و تفسیر کو علامہ محمد ولی اللہ مفتی فرخ آبادی سے اخذ کیا اور براہ بڑدودہ حرمین شریفین کو تشریف لے گئے اور ۱۲۵۵ھ میں حج کر کے شیخ عبد اللہ سراج اور شیخ شمس الدین شطا اور سید عمر آفندی وغیرہ کی صحبت کی پھر مدینہ منورہ کو تشریف لے گئے اور وہاں شیخ محمد عابد سندھی سے صحاح ستہ اور سننِ مشہورہ کی سند حاصل کی اور حضرت عثمان کے قرآن کی زیارت کی اور کتب تصوف میں مشغول ہوئے،جب واپس آئے تو بڑدودہ میں سکونت اختیار کی اور اخیر عمر میں پھر حرمین شریفین کو نہضت فرماہوئے اور حج کر کے بمبئی ۔۔۔

مزید

حضرت علامہ عمر حیات قادری

حضرت علامہ مولانا عمر حیات قادری (لاہور)  ۔۔۔

مزید

حضرت علّامہ محمد صفدر سعیدی

علّامہ مولانا محمد صفدر سعیدی( کبیر والہ)  ۔۔۔

مزید