ابراہیم[1] بن عبدالرحمٰن بن اسمٰعیل کر کی قاہری: آباء واجداد آپ کے رہنے والے تھے جو ایک گاوں کو ہ لنبان کے پاس واقع ہے مگر آپ شہر قاہرہ میں پیدا ہوئے۔آپ نے تقی حصنی اور تقی شمنی سے ملاقات کی اور کافیجی کے درس میں ھاضر ہوکر تلمذکیا اور یز امام ابن ہمام مصنف فتح القدیر سے استفادہ کیا۔سخاوی نے کتاب ضوء میں آپ کا مفصل حال لکھا ہے اور بیان کیا ہے کہ آپ نے فقہ میں ایک فتاویٰ المسمی بہ فیض المولیٰ الکریم علیٰ عبدہ ابراہیم دو جلد میں تصنیف کیا اور اس کے خطبہ میں لکھا ہے کہ جو قوی اور معتبر روایت ہے وہ اس میں لکھی گئی ہے۔ علاوہ اس کے توضیح ابن ہشام پر حاشیہ تصنیف کیا اور قاہرہ میں ۹۲۳ھ میں انتقال کیا۔ ’’شاہنشاہ دوراں‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔ برہان الدین ابو الوفاء ابراہیم بن زین ا۔۔۔
مزید
یوسف بن احمد بن ابی بکر نجم الدین خاصی: امام فاضل فقیہ کامل تھے۔ فقہ وغیرہ ابی بکر محمد بن عبداللہ اقران عمر نسفی اور صدر شہید حسام الدین عمر تلمیذ حسن قاضی خاں سے اخذ کی اور ایک فتاویٰ اور کتاب مختصر فصول نام اصول میں تصنیف فرمائی اور ۶۳۴ھ میں وفات پائی۔’’جلوہ اوج شرف‘‘ تاریخ وفات ہے۔ خاصی طرف خاص کے منسوب ہے جو خوار زم کے قصبات مین سے ایک قصبہ کا نام ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
یوسف بن احمد بن ابی بکر نجم الدین خاصی: امام فاضل فقیہ کامل تھے۔ فقہ وغیرہ ابی بکر محمد بن عبداللہ اقران عمر نسفی اور صدر شہید حسام الدین عمر تلمیذ حسن قاضی خاں سے اخذ کی اور ایک فتاویٰ اور کتاب مختصر فصول نام اصول میں تصنیف فرمائی اور ۶۳۴ھ میں وفات پائی۔’’جلوہ اوج شرف‘‘ تاریخ وفات ہے۔ خاصی طرف خاص کے منسوب ہے جو خوار زم کے قصبات مین سے ایک قصبہ کا نام ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
مولانا الہداد جونپوری: اعاظم علماء وکبر فقہاء جونپور سے گذرے ہیں، تحریر رتنقیح مطالب علمیہ میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔علوم ظاہری آپ نے شیخ فاضل عبداللہ تلبنی سے حاصل کیے۔ہدایہ بزدوی وقنیہ و مدارک اورکافیہ کی شرحیں تصنیف کیں اور حواشی ہندیہ پر حواشی لکھے۔آپ ایک واسطہ سے قاضی شہاب الدین کے شاگردوں میں سے تھے اور طریقت میں سید راجی حامد شاہ کے مرید ہوئے۔کہتے ہیں کہ جب شیخ حسن طاہر نے جو آپ کے یار ہمدم اور رفیق جانی تھے۔ سید راجی حامد شاہ سے بیعت کی توآپ نے شیخ حسن کو فرمایا کہ تم نے حامد شاہ کے مرید ہوکر طالب علموں کی عزت کو برباد کردیا۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ بھی ان کی خدمت میں چلیں اور امتحان کریں توہم کو معذوررکھیں۔آپ دوسرے روز چند مسائل ہدایہ و بزدوی سے جو مشکل تھے تصور کر کے شیخٰ حسن کے ہمراہ ان کی خدمت میں پہنچے۔سید ۔۔۔
مزید
اسعدی بن ناجی بیگ الشہیر بہ ن اجی زادہ: علم قاسم المعروف بہ قاضی زادہ سے پڑھا یہاں تک کہ رتبہ فضل و کمال کو پہنچے اور شہر بروسا میں مدرس مقرر ہوئے پھر قسطنطیہ کے آٹھ مدارس میں سے ایک مدرسہ پر مقرر ہوئے۔سید شریف کی شرح مفتاح اور شرح وقایہ کے باب الشہید پر آپ نے خوب حواشی لکھے اور نسفی کی کتا ب کو منظوم کیا اور قضائد عربی وغیرہ تصنیف کیے اور ۹۲۲ھ میں وفات پائی۔آپ کا ایک بھائی جعفر چلپی نام تھا جو انشاء پر دازی میں ید طولیٰ رکھتا تھا جس سے سلطان با یزید کاں نے اس کو اپنا درباری بنالیا تھا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبد الحکیم بن علی قسطمونی: شہر قسطمون میں پید اہوئے اور وہیں نشو و نما پایا پہلےوہاں کے علماء سے پڑھتے رہے پھر علاؤ الدین عربی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بعد ان کی وفات کے شام اور مصر کو تشریف لے گئے اور وہاں کے علماء و فضلاء سے استفادہ کیا اور حج کر کے بلادِ عجم میں آئے اور وہاں کے علماء سے پڑھا پھر روم کو واپس ہوئے اور سلطان سلیم خاں نے آپ کو مختلف فنون میں مضبوط دیکھ کر خاص اپنا امام و مصاحب بنایا۔وفات آپ کی ۹۲۲ھ میں ہوئی۔’’تاج ادبستان‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبدالرحمٰن بن علی بن موید اماسی المعروف بہ مویدزادہ: شہر اماسیہ میں جو روم کی ولایت میں واقع ہے ۸۶۰ھ میں پیدا ہوئے جوانی کی حالت میں سلطان با یزید خاں سے بڑی مصاحبت رکھتے تھے اس لیے حاسدوں نے بایزید خاں کے باپ محمد خاں سے آپ کی چغلی کھائی جس پر اس نے آپ کے قتل کا حکم دیا لیکن ۸۸۱ھ میں بایزید خاں نے آپ کو بلا د حلبیہ کی طرف پوشیدہ نکلوادیا،وہاں سے آپ عجم مین آئے اور شیراز میں جلال الدین دوانی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سات برس تک ان کی خدمت میں رہ کر علومِ نقلیہ و عقلیہ اخذ کیے اور صدر الدین شیرازی سے بھی کچھ پڑھا۔ جب سلطان با یزد خاں تخت نشین ہوا تو آپ ۸۸۸ھ میں روم میں گئےاور قسطنطیہ میں مدرسلہ قلندر خانہ کے مدرس مقررہوئے۔۸۹۱ھ میں اور نہ کے قاضی ہوئےپھر ۹۰۷۔۔۔
مزید
محمد بن محمود بن حسین استروشنی: مجد الدین لقب تھا۔امام فاضل،عارف مذہب اور اپنے زمانہ کے مجتہد تھے۔علوم اپنے باپ اور ان کے استاد صاحب ہدایہ اور سید ناصر الدین شہید سمر قندی اور ظہیر الدین محمد بن احمد بخاری تلمیذ ظہیر الدین حسن بن علی مرغینانی سے حاسل کیے اور تصانیف مقبرہ کیں جن میں سے کتاب فصول تیس فصلوں میں(جس میں مسائل قضاء و دعاوی اور وہ باتیں جو قاضیوں پر وارد ہوتی ہیں،بیان کیں) اور کتاب جامع احکام صغار ہے۔وفات آپ کی ۶۳۲ھ میں واقع ہوئی۔’’آرائش جہانیاں‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
شیخ عبداللہ بن الہداد العثمانی التلبنی: شہر تلنبی میں جو ملتا کے پاس واقع ہے،پیدا ہوئے،اپنے ملککے علماء و فضلاء سے علوم حاسل کر کے فاضل ماہر فقیہ متجر اس العلوم نقلیہ و عقلیہ ہوئے۔مدت تک اپنے وطن میں مدرس رہے پھر دہلی کو ہجرت کر گئے جہاں سلطان اسکندلودی نے آپ کی بڑی عزت کی اور وہاں کے لوگوں کو آپ سے بڑا فیض حاصل ہوا یہاں تک کہ ۹۲۲ھ میں وفات پائی اور دہلی میں مدفون ہوئے۔آپ کی تاریخ وفات’’اولٰئک لم الدرجٰت العلیٰ‘‘ سے نکلتی ہے، شرح میزان المنطق آپ کی تصنیفات سے یادگار ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید