جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

سیّدنا عمر ابن سعد رضی اللہ عنہ

   انباری کنیت ان کی ابوکبشہ تھی ان کا شماراہل شام میں ہے ان کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگوں نے عمربن سعد بیان کیاہے اوربعض نے سعدبن عمراوربعض نے عمروبن سعد۔ہم انشاء اللہ تعالی ان کاتذکرہ آئندہ اس سے زیادہ لکھیں گے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر ابن سراقہ رضی اللہ عنہ

   بن معمربن انس قریشی عذدی۔غزوہ بدرمیں  یہ اوران کے بھائی عبداللہ بن سراقہ دونوں شریک تھے اورمصعب نے بیان کیاہے کہ ان کانام عمروبن سراقہ ہے ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے میں کہتاہوں کہ ابن اسحاق وغیرہ نے بہت سندوں کے ساتھ ان کا نام عمربیان کیاہے اوریہی صحیح ہے اورابن مندہ اورابونعیم نے عمرہی کے نام میں ان کا تذکرہ لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر ۱بن سالم رضی اللہ عنہ

   خزاعی اوربعض لوگ ان کانام عمربتاتےہیں یہ قبیلہ خزاعہ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔حکم بن عتبہ نے مقسم سے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ عمرابن سالم خزاعی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے تویہ شعرآپ کے سامنے پڑھا۔ ۱؎        لاہم انی ناشد محمدا                                     حلف ابینا وابیہ الاتلدا ۱؎ترجمہ۔کچھ غم میں محمد کو ؟دلاؤنگا۔اوران کے باپ دادا کی اس کے ساتھ اورشعربھی تھےہم ان کوعمروبن سالم کے نام میں انشاءاللہ تعالیٰ ذکرکریں گے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اورابونعیم نے کہاہے کہ بعض متاخ۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر ابن حکم رضی اللہ عنہ

   سلمی۔امام مالک بن انس نے ہلال ابن اسامہ سے انھوں نے عطاء بن یسارسے انھوں نے عمر بن حکم سلمی سےروایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں(ایک مرتبہ)رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوااورمیں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میری ایک لونڈی میری بکریاں چرایا کرتی  تھی میں ایک روز چراگاہ توایک بکری میں نے کم پائی اس سے پوچھا تواس نے کہاکہ اے بھیڑیا لے گیامجھے بہت رنج ہوااورآخرمیں بھی آدمی تھا میں نے اس لونڈی کو ایک طمانچہ ماردیا اور میں نے ایک (مسلمان)غلام آزاد کرنے کی نذرکی تھی۔کیااس لونڈی کوآزادکردوں تووہ نذرپوری ہوجائے گی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس لونڈی کوبلاکرپوچھا کہ اللہ کہاں ہے لونڈی نے کہاآسمان میں پھر آپ نےپوچھامیں کون ہوں اس نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں پس آپ  نے عمربن حکم سے فرمایا کہ یہ مومن ہے اس کو آزاد کردو۔اس کے بعدپھرراوی نے کاہنوں کااورفال بد ک۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر جمعی رضی اللہ عنہ

۔ان کا نام ابن مندہ اورابونعیم نے اسی طرح لکھاہےاوردونوں نے کہاہے کہ یہ غلط ہے صحیح نام ان کاعمروبن حمق ہے۔بقیہ بن ولید نے بحیرا بن سعدسے انھوں نے خالد بن معدان سےانھوں نے جبیربن نفیرسے انھوں نے عمرجمعی سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے ساتھ بھلائی کرناچاہتاہے تواس سے کچھ کام لیتاہے تم لوگ جانتےہوکہ کیونکرکام لیتاہےسنواس کوکسی نیک عمل کی توفیق دیتاہے قبل اس کے کہ وہ مرے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور نعیم نے لکھاہے۔اورابوعلی عسانی نے ابوعمرپراستدراک کرنے کےلئے ان کاتذکرہ لکھاہےاورکہا ہے کہ نام ان کاعمرجمعی ہے۔اورابوعلی نے مالک بن سلیمان الہانی سے انھوں نے بقیہ سے انھوں نے ابن ثوبان سے انھوں نے مکحول سے انھوں نے جبیربن نفیرسےانھوں نے عمرجمعی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب اللہ کسی بندہ کے ساتھ بھلائی کرناچاہتاہے تواس کو مر۔۔۔

مزید

سیّدنا عمراسلمی رضی اللہ عنہ

  اوربعضوں نے کہاجہنی بدون نسبت کے ان کاذکرحضرمی نے وحدان میں کیاہے۔محمد بن عثمان بن ابی شیبہ نے اپنے چچاقاسم سے روایت کی انھوں نے وکیع سے انھوں نے اپنے چچامبارک سے انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انھوں نے یزیدبن نعیم سے انھوں نے جہنیہ کے ایک شخص سے جس کو عمر کہاجاتاتھاروایت کی کہ وہ اسلام لانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسناآپ فرماتے تھے جس نے ایام جاہلیت کے اپنے بیٹے کوپہچاناتواس کےمعاوضہ میں ایک غلام ہےایک غلام دے کراس کوچھڑالے۔اس کو سفیان بن وکیع نے اپنے باپ سے اپنی اسناد کے ساتھ روایت کیاہے اورکہاہے کہ عمراسلمی نے اسلم کے ایک شخص کی جس کانام عبیدبن عمیرتھاملازمت کی اوراس کی لونڈی سے زناکیاوہ حاملہ ہوگئی اورلڑکاجنا جس کو حمام کہاجاتاتھا۔یہ واقعہ جاہلیت میں ہوا۔پھرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکراسلام لائے اورآپ سے اپنے بیٹے کی ۔۔۔

مزید

سیّدنا عمارہ ابومدرک رضی اللہ عنہ

بن عمارہ۔ان سے ان کے بیٹے مدرکے کے سواء کسی نے خلوت والی حدیث نہیں روایت کی جس میں یہ ذکرہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے بیعت نہیں لی یہاں تک کہ انھوں نے اپنے ہاتھ نہ دھوڈالےان کاشمار اہل بصرہ میں ہے۔ان کاتذکرہ ابوعمر نے لکھاہے میں کہتاہوں ابوعمرو کواس میں وہم ہوگیاہے اس لیے کہ مدرک  بیٹے ہیں عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط کے۔نیز ان کا تذکرہ ابوعمرنے عمارہ بن عقبہ کے ذکرمیں لکھاہے مگرانھوں نے یہاں کوئی حدیث ان سے نہیں روایت کی اورنہ ان کے بیٹے مدرک کاذکرکیاتاکہ یہ معلوم ہوتاکہ یہ وہی ہیں یاکوئی اورحالاں کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں اورابن مندہ اورابونعیم نے عمارہ بن عقبہ کے ذکرمیں جو حدیث ان کی لکھی ہے اس سے ظاہرہوتاہے کہ وہ یہی ہیں واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمارہ بن معاذ رضی اللہ عنہ

  بن زرارہ انصاری ابونملہ۔بعضوں نے کہاکہ ان کا نام ہے صحابی تھے۔یہ ذکرابوحاتم بستی نے کیا۔اورابن ابن خثیمہ نے کہاکہ ان کا نام عمارہے۔اوران کا ذکرہم کرچکے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عکرمہ ابن عبیدخولانی رضی اللہ عنہ

  ۔ان کاذکرصحابہ میں کیاگیاہے مگران کی کوئی روایت نہیں۔فتح مصر میں شریک تھے ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عکرمہ ابن عامر رضی اللہ عنہ

  بن ہاشم بن عبدمناف بن عبدالداربن قصی قریشی عبدری۔یہی ہیں جنھوں نے دارالندوہ (نامی مکان کو)حضرت معاویہ کے ہاتھ ایک لاکھ روپیہ کے عوض میں فروخت کیاتھا۔ان کا شمار مولفتہ القلوب میں تھاان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید