جمعہ , 05 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 16 October,2026

عبداللہ شطاری، شیخ

عبداللہ شطاری، شیخاسمِ گرامی:     عبداللہ شطاری۔نسب:          شیخ عبداللہ شطاری کا سلسلۂ نسب  حضرت سیّدنا شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے ملتاہے۔بیعت وخلافت:                        شیخ عبد اللہ شطاری شیخ محمد طیفوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت بھی انہیں سے حاصل کیا۔سیرت وخصائص:حضرت عبداللہ شطاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سلسلۂ شطاریہ کے بانی اور امامِ طریقت اور پیشوائے حقیقت تھے۔ آپ نے رسالہ’’ اشغالِ شطاریہ‘‘  میں اپنے سلسلۂ عالیہ کے مقامات و احوال قلم بند کیے ہیں۔ سلسلۂ طیفوریہ میں جو شخص سب سے پہلے شطاریہ طریقت پر اٹھا وہ حضرت شیخ عبداللہ تھے۔ شطار اصطلاح میں ’’تیز  رو‘‘  کو کہتے ہیں، م۔۔۔

مزید

حضرت امیر الدین گجراتی

حضرت امیر الدین گجراتی (سہارنپوری) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ سراج الدین چشتی

حضرت شیخ سراج الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ کمال الدین علامہ رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے صاجزادے تھے، خواجہ چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے چار سال کی عمر میں بیعت ہوگئے تھے مگر جوان ہو کر اپنے والد گرامی سے نسبت چشتیہ حاصل کی، صاحب علم و کمال تھے، مولانا احمد تھانسیری رحمۃ اللہ علیہ (جو عربی زبان کے مایہ ناز شاعر تھے)، مولانا عالم پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا عالم سنگریزہ سے علوم حاصل کیے اور ایک لائق اعتماد تبحر حاصل کیا، سلطان فیروز شاہ جو بہمنی حکومت کا نامور تاجدار تھا، نے دکن آنے کی دعوت دی کہا جاتا ہے کہ سات ہزار کی رقم بطور زادِراہ بھی پیش کی مگر صوفی بے ریانی نہایت استغناء کا اظہار فرماتے ہوئے رقم واپس کر دی۔ (مخزن چشت: ص ۲۸۸) اور فرمایا: ’’حق تعالیٰ مراد گجرات ہر چہ ضرورت است عطامی فرماید۔‘‘ (تاریخ مشائخ چشت: ص ۲۶۴)و۔۔۔

مزید

حضرت شیخ رکن الدین فردوسی

حضرت شیخ رکن الدین فردوسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ خواجہ بدرالدین سمر قندی کے مرید تھے، دہلی آپ کا مسکن تھا اور جب سلطان کیقباد نے کیلو کہری میں نئی شہری آبادی کرنا چاہی تو آپ بھی وہاں تشریف لائے اور دریائے جمنا کے کنارے مقیم ہوگئے۔ غالباً آپ کے اور شیخ نظام الدین اولیاء کے درمیان چنداں محبت و اخلاص نہ تھا۔ سیرالاولیاء میں لکھا ہے کہ شیخ رکن الدین کے نوجوان بیٹے اور دوسرے مرید اکثر و بیشتر کشتی میں بیٹھ کر ناچتے گاتے اور سماع کرتے ہوئے خواجہ نظام الدین اولیاء کے مکان کے نیچے سے گزرا کرتے تھے۔ ایک روز اسی طرح گزر رہے تھے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء کی ان پر نظر پڑی تو (اپنے حجرے سے) سر باہر نکالا اور فرمایا کہ ایک وہ ہے جو برسوں سے خون جگر پی رہا ہے اور اس راہ پر فدا ہوچکا ہے اور دوسرے یہ نوجوان ہیں جو کہتے ہیں کہ تو کیا ہے جو ہم نہیں (یعنی وہ کہتے تھے کہ خواجہ نظام اور ہم میں کیا فرق ہے) او۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ غلام محمد تونسوی

حضرت خواجہ غلام محمد تونسوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

امین قادری نقشبندی، فقیہ العصر بقیۃ السلف امین الملت علامہ مفتی محمد

فقیہ العصر بقیۃ السلف امین الملت علامہ مفتی محمد امین قادری نقشبندی  نام :                                          محمد امین والد گرامی :                                  الحاج غلام محمد نسب: محمد امین بن الحاج غلام محمد بن میاں غلام محی الدین تجویز کیا گیا۔ ولادت: 1342ھ، شعبان المعظم یکم مارچ 1921ء، سوموار کے دن لاہور کے نواحی علاقے نوازش آباد میں پیدا ہوئے ، اور   پیاسوں کے خوابیدہ بخت جاگ اٹھے۔ ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبدالعزیزتمیمی

حضرت شیخ عبدالعزیزتمیمی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا عبدالہادی بلوچ

حضرت مولانا عبدالہادی بلوچ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مولانا الحاج عبدالہادی بن محمد سعید شر بلوچ گوٹھ نگر خان شر تحصیل فیض گنج ضلع خیر پور میرس میں ایک اندازے کے مطابق ۱۸۹۵ء کو تولد ہوئے۔ چھ ماہ کی عمر میں والد صاحب انتقال کر گئے ، والدہ ماجدہ اور برادر اکبر و سان خان کی کفالت میں تعلیمی مراحل طے کئے ۔ تعلیم و تربیت : مولانا رحمت اللہ شر آپ کے چچا زاد بھائی تھے اور حضرت شیخ طریقت حافظ محمد صدیق قادری ؒ بانی درگاہ بھر چونڈی شریف کے مرید و مستفیض تھے۔ مولانا صاحب ان دنوں ضلع بدین کے گوٹھ میں میاں محمد عثمان کے مدرسہ میں مدرس تھے ۔ مولانا رحمت اللہ نے عبدالہادی کو اسی مدرسہ میں داخل کر کے خود تعلیم دی ۔ وہیں ناظرہ قرآن حکیم ، فارسی میں سکندر نامہ اور عربی میں صرف بہائی تک تعلیم حاصل کر چکے تو آپ کے استاد محترم مولانا رحمت اللہ کی طبیعت نا ساز ہو گئی جس کے سبب گھر واپس چلے گئے او رعلالت کے بعد ۔۔۔

مزید

حضرت تقی الدین السبکی الشافعی

حضرت شیخ الاسلام تقی الدین السبکی الشافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شاہ ابوالمعالی چشتی انبیٹھوی

حضرت شاہ ابوالمعالی چشتی انبیٹھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  آپ ہندوستان کے سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شیخ داؤد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے اگرچہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے تربیت ملی تھی مگر آپ نے شیخ داؤد سے تکمیل پائی اور اُن سے خرقۂ خلافت حاصل کیا آپ کے والد سید محمد اشرف سہانپور کے قریب قصبہ امٹہ میں رہتے تھے جب اُن کی وفات ہوئی تو شاہ ابو المعالی ابھی چھوٹے تھے آپ کی والدہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئیں اور التجاء کی کہ آپ اس کی تربیت کریں آپ نے انہیں اپنے پاس رکھ لیا اور ظاہری علوم مکمل کروائے وفات کے وقت اُنہیں شیخ داؤد رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے کردیا حضرت شیخ داؤد نے آپ کی تربیت بھی کی اور خرقۂ خلافت بھی دی۔شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ہمسایہ بھی تھا جو بڑا بدطنیت اور بد خُو تھا آپ سے حسد کرتا اور ہر وقت آپ کے خ۔۔۔

مزید