پیر , 25 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 13 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا) انیس (رضی اللہ عنہ)

  انس کی تصغیر ہے۔ یہ انیس انصاری ہیں شامی ہیں ان سے شہر بن حوشب نے روایت کی ہے۔عباد بن راشد نے میمون بن سیاہ سے انھوں نے شہر بن حوشب سے انھوں نے انیس انصاری سے رویت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں قیامت کے دن اس سے بہت زیادہ لوگوںکی شفاعت کروں گا جتنے پتھر اور مٹی زمیں پر ہیں۔ ان انیسہ سے سوا شہر کے اور کوئی مداوی نہیں ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر اور ابو نعیم نے لکھا ہے اور ابو موسی نے ان کا تذکرہ ابن مندہ پر استدراک کر کے لکھا ہے اور کہا ہے کہ یہ میرے نزدیک انیس بیاضی ہیں۔ واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) انسہ (رضی اللہ عنہ)

  رسول خدا ﷺ کے غلام ہیں۔ غلاموںکی اولاد سے تھے کنیت ان کی ابو مسروح ہے۔ اور بعض لوگ ابو مسرح کہتے ہیں۔ جب یہ بیٹھتے تھے تو نبی ﷺ سے اجازت لے کے بیٹھتے تھے (اس درجہ فرمانبردار تھے) آپ کے ساتھ جنگ بدر میں شریک ہوئے یہ عروہ اور زہری ور ابن اسحاق کا قول ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت میں انھوں نے وفات پائی۔ دائود بن حصین عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس سے راوی ہیں کہ یہ جنگ بدر میں شہید ہوئے۔ واقدی نے لکھا ہے کہ یہ ہمرے نزدیک صحیح نہیں انھوں نے کہا ہے ہ میں نے اہل علم کو دیکھا ہے کہ وہ اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ یہ جنگ احد میں بھی شریک ہوئے تھے اور جنگ احد کے بعد بھی بہت دنوں تک زندہ رہے اور نبی ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر کی خلافت میں انھوںنے وفات پائی۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) انس (رضی اللہ عنہ)

  ابن ہزلہ نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تھے۔ ان سے ان کے بیٹے عمرو بن انس روایت کرتے ہیں ان کا تذکرہ ابو عمر نے مختصر لکھا ہے۔ اور ابو احمد عسکری نے کہا ہے ہ انس بن ہزلہ کو لوگ انس بن حارث بھی کہتے ہیں ان کا صحابی ہونا ثابت ہے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ہمراہ یہ بھی شہید ہوئے تھے۔ انس بن حارث کا ذکر تو اوپر ہوچکا ہے مگر یہ میں نہیں جانتا کہ یہ دونوں ایک ہیں یا دو ہیں۔ ابو احمد ایک عالم فاضل شخص ہیں اگر انھیں یہ نہ معلوم ہوتا کہ یہ دونوں ایک ہیں تو وہ ایسا نہ کہتے اور خیال بھی یہی ہوتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہیں کیوںکہ انس بن حارث کے بیان میں بھی یہ مذکور ہوچکا ہے کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ہمراہ شہید ہوئے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) انس (رضی الہ عنہ)

  ابن معاذ جہنی انصاری۔ ان کا شماراہل مدینہ میں ہے۔ انکی حدیث سہل بن معاز بن انس نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ ہمیں احمد بن حسن بن عتبہ نے خبر دی وہ کہتیتھے ہمیں یحیی بن عثمان بن صالح نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمس ے نعیم بن حماد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں رشد بن سعد نے زبان بن فائد سے انھوں نے سہل بن معاذ بن انس سے نھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے انھوں نے رسول خدا ﷺ سے اللہ تعالی کے قول والارض (٭ترجمہ قسم ہے زمیں کی جو پھٹنے والی ہے) ذات الصدع کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ زمیں خدا کے حکمس ے مال اور گھاس ظاہر کرتی ہے اور نیز ایکد وسری حدیث عبدالرحمن بن ثابت ابن ثوبان سے مروی ہے انھوںنے سہل بن معاذ بن انس سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے انھوں نے رسول خدا ﷺسے فی سبیل اللہ پاسبانی کے فضائل میں روایت۔۔۔

مزید

سیدنا) انس (رضی اللہ عنہ)

  ابن معاذ بن انس بن قیس بن عبید بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار بن ثعلبہ بن عمرو بن خزرج انصاری خزرجی بخاری۔ بدر میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ تھے۔ ان کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ کہتے ہیں انس اور بعض لوگ کہتے ہیں انیس ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ان کا نام انس ہے اور واقدی نے بھی کہا ہے کہ ان کا نام انس بن معاذ ہے اور ان کا نسب بھی ایسا ہی بیان کیا ہے جیسا م نے ذکر کیا اور انھوں نے کہا ہے کہ یہ جنگ بدر میں اور میں خندق میں شریک ہوئے اور حضرت عثمانکی خلافت میں وفات پائی۔ یہ کلام ابو عمر کا تھا اور ابن مندہ ور ابو نعیم نے اپنی سند سے زہری سے رویت کیا ہے کہ انھوں نے کہا انس بن معاذ بن انس قبیلہ بنی عمرو بن مالک بن نجار سے ہیں۔ ان کی کوئی اولاد نہں رہی بدر میں شریک ہوئے تھے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) انس (رضی اللہ عنہ)

  بن ابی مرتذ غنوی انصاری۔ کنیت ان کی ابو یزیہ۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ایسا ہی لکھا ہے۔ مگر یہ انصاری نہیں ہیں غنوی ہیں حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے اور ان سے حلف کی دوستی تھی۔ ابو مرتذ کا نام کناز بن حصین بن یربوع بن طریف بن خرشہ بن عبید بن سعد بن عوف بن کعب بن جلان بن غنم بن غنی بن اعصر بن سعد بن قیس غیلان بن مضر ہے۔ اور اعصر کا نام منبہ ہے ان کا لقب دغان ہے لوگ کہتے ہیں کہ باہلہ اور غنی یہ دونوں دخان کے بیٹے تھے۔ ان کو دخان اس سبب سے کہتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں عرب کے کسی بادشاہ نے ان پر تاخت کی پھر وہ اپنے لشکر کو یل کے پہاڑ کے ایک کہوہ میں جا کے ٹھیرا تو قبیلہ بنی معد کے لوگ اس کے پیچھے پیچھے گئے اور منبہ نے ان کی طرف دہوان کرنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ مرگئے اسی سبب سے ان کو دخان کہتے ہیں۔ اور اعصر ان کے ایک شعر کے سببس ے کہتے ہیں وہ شعر یہ ہے۔ قالت عمیرۃ المراسک بعد ما ۔۔۔

مزید

(سیدنا) انس (رضی اللہ عنہ)

  ابن مدرک۔ ابو موسینے کہا ہے کہ ابن شاہین نے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیا ہے ہمیں محمد بن ابی بکر بن عیسی اصفہانی نے کتابۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حسن بن احمد نے اجازۃ ابو احمد عطار کی کتاب سے خبر دی وہ کہتے تھے کہ ہمیں عمر بن احمد بن عثمان نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن ابرہایم نے محمد بن یزید سے انھوں نے پنے راویوں سے رویت کی کہ وہ کہتے تھے انس بیٹے ہیں مدرک بن کعببن عمرو ابن سعد بن عوف بن عتیک بن حارثہ بن عامر بن نیم اللہ بن مبشر بن کلب بن ربیعہ بن عفرس بن خلف بن افتل کے افتل کا نام خثم بن انمار ہے بعض لوگ کہتے ہیں خثم بحیلہ کے اخیافی بھائی تھے ان کا نام خثعم ایک پہاڑ خثم نامی کی وجہس ے رکھا گیا کہا جتا ہے کہ یہ بوجہ اٹھا کے پہلے تھے اور خثعم کے پاس اترے تھے۔ ان انس کی کنیت ابو سفیان ہے یہ شاعر تھے اور اپنی قوم کے سردار تھے مجھے ان کی کوئی حدیث معلوم نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ کلام۔۔۔

مزید

سیدنا) انس (رضی اللہ عنہ)

  خادم رسول خدا ﷺ ابن مالک بن نضر بن ضمضم بن زید بن صرام بن جندب بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار۔ نجار کا نام تیم اللہ بن ُلبہ بن عمرو بن خزرج بن حارثہ ہے۔ انصاری ہیں خزرجی ہیں نجاری ہیں قبیلہ بنی عدی بن نجار ہے۔ رسول خدا ﷺ کے خادم ہیں اور اسی نام سے اپنے کو نامزد کرتے تھے ور اس پر فخر کیا کرتے تھے۔ یہ انس اور عبدالمطلب کی والدہ جو نبی ﷺ کی پردادی تھیں جن کا نام سلمی بنت عمرو بن زید بن اسد بن خداشبن عامر ہے عامر بن غنم میں جا کے مل جاتے ہیں۔ کنیت ان کی ابو حمزہ تھی یہ کنیت ان کی نبی ﷺ نے رکھی تھی حمزہ نام ایک ترکاری کا ہے یہ اس کو نہ کھاتے تھے۔ ان کی والدہ ام سلیم بنت ملحان ہیں ان کا نسب ان کے نام میں بیان ہوگا۔ حضرت انس زرد خضاب لگایا کرتے تھے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ مہندی کا خضاب لگاتے تھے اور بعض لوگ کہتے ہیں ورس (٭ورس ایک قسم کی خوشبودار گھاس ہے) کا۔ اور اپنی دونوں کہنیوںمیں خلوق (٭۔۔۔

مزید

سیدنا) انس (رضی اللہ عنہ)

  ابن مالک۔ کنیت ان کی ابو مالک قشیری اور بعض لوگ کہتے ہیں کعبی۔ لوگوں نے بیان کیا ہے کہ کعب قسیر کے بھائی تھے۔ ان کا صحابی ہونا ثابت ہے۔بصرہ میں آکے رہے تھے۔ ان سے ابو قلابہ نے رویت کی ہے۔ ان کا نسب ابن منادہ نے بیان کیا ہے اور کہا ے کہ انس ابن مالک کعی۔ کعب بیٹیہیں ربیعہ بن عامر بن صعصعہ قشیری کے۔ کعب بھائی ہیں قشیر کے ہمیں ابو احمد عبدالوہاب بن علی امیں صوفی نے اپنی سند سے ابودائود و سجستانی تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں ابو ہلال راسی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابن سودہ قشیری نے انس بن مالک سے رویت کر کے خبر دی جو بنی عبداللہ بن کعب میں سے تھے جن کے بھائی قشیر تھے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ کے سواروں نے ہم پر تاخت کی تو میں رسول خدا ﷺ کے پاس گیا آپکھانا کھا رہے تھے فرمایا کہ بیٹھ جائو ور ہمارے ستھ کھائو۔ میں نے عرض کیا کہ میں روزہ دار ہوں۔ حض۔۔۔

مزید

سیدنا) انس (رضی اللہ عنہ)

  ابن قتادہ باہلی۔ بعض لگ ان کو انیس کہتے ہیں۔ انیس کے بیان میں انشاء اللہ ان کا پورا ذکر ہوگا۔ ابوعمر نے کہا ہے کہ بعض لوگوںنے ان کو انیس کے بیان میں ذکر کیا ہے ور بعض لوگ ان کو انس کہتے ہیں مگر پہلا ہی قول زیدہ مشہور ہے ابو موسی پر غالب تھا کہ اس جگہ ابن مندہ پر استدراک کرنے کیوں کہ ایسے ہی مواقع ہیں وہ استدراک کیا کرتے ہیں۔ ان کا تذکرہ اس نام میں کسی نے نہیں کیا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید