منگل , 26 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 14 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا) اقعش (رضی اللہ عنہ)

  سلمہ کے بیٹے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں مسلمہ کے بیٹیہیں۔ حنفی سحیمی ہیں۔ ان کا شمر اہل یمامہ میں ہے۔ نبی ﷺ کے حضور میں یہ اور طلق بن علی ور سلم بن حنظلہ اور علی بن شیبان وفد بن کے آئے تھے یہ سب لوگ قبیلہ بنی سحیم ابن مرہ بن حنیفہ بن نحم بن صعب بن علی بن بکر بن وائل کے ہیں جو بنی حنیفہ کی ایک شاخ ہے ان کی حدیث منہال بن عبداللہ بن صبرہ بن ہوذہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے ہ انھوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوںکہ اقس بن سلمہ ی اس پیالہ کو لائے تھے جسے نبی ﷺ نے مسجد قران کیچھڑکنے کے لئے بھیجا تھا اس حدیث کو اور لوگوں نے بھی لکھا ہے اور انھوں نے (بجائے اقعش کے) قیصر بن سلمہ لکھا ہے مگریہ صحیح نہیں۔ انکا تزکرہ تینوںنے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اقرم (رضی الہ عنہ)

  آخر میں میم ہے۔ یہ اقرم زید کے بیٹیہیں کنیت ان کی ابو عبدالہ۔ قبیلہ خزاعہ کے یں۔ ان کی حدیث دائود بن قیس نے عبید اللہ بن عبداللہ بن اقرن خزاعی سے انوںنے اپنے والد عبید اللہ سے روایت کی ہے ہ انھوں نے کہا میں اپنے والد کے ہمراہ نمرہ کے جنگل میں تھا کچھ سور ہماری طرف سے گذرے اور انھوں نے اپنے اونٹوں کو راستہ کے کنارے پر بٹھلایا میرے والد نے مجھ سے کہا کہ تم اپنے اسباب کے پاس بیٹھو تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جائوں اور ان سے کچھ پوچھوں وہ کہتے ہیں کہ پھر وہ گئے اور میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل گیا تو وہاں رسول خدا ﷺ کو دیکھا۔ ہمیں ابو القاسم یعنی یعیش بن صدقہ بن علی بن حجر نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں اسماعیل نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں دائود نے قیس سے انھوں نے عبید اللہ بن اقرم سے نھوں نے اپنے والد سے نقل کر کے خبر دی کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خداھ کے ہمراہ نمازپڑھی تو میں نے دیکھا کہ جب آپ۔۔۔

مزید

سیدنا) اقرع (رضی اللہ عنہ)

  غفاری۔ ان کے صحابی ہونے میں کلام ہے۔ ان کی حدیث عاصم احول نے ابو حاجب سے انھوںنے اقرع غفاری سے روایت کی ہے ہ نبی ﷺ نے اس بت سے منع فرمایا ہے ہ عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی ے مرد وضو کرے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اقرع (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبداللہ حمیری۔ انھیں رسول خدا ﷺ نے ذی مران کی طرف اور یمن کے ایک گروہ کے پاس بھیجا تھا۔ ابو عمر نے ان کا تذکرہ ایس طرح اختصر کے ساتھ لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اقرع (رضی اللہ عنہ)

  ابن شفی عکی۔ مقام رملہ میں آکے رہے تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی یہ ضمرہ بن ربیعہ کا قول ہے۔ ان کی حدیث مفضل بن ابی کریم بن لفاف نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا لفاف سے انھوںنے اقرع بن شفی عکی سے رویت کی ہے ہ انھوں نے کہا کہ رسول خدا ﷺ میری بیماری کی حالت میں یرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میں مر جائوں گا نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں تم ابھی زندہ رہو گے اور ملک شام کی طرف ہجرت کرو گے اور وہیں مرو گے اور فلسطینکے علاقہ میں ایک مقام ربوہ ہے وہاں مدفون ہوگے۔ اس حدیث کو ضمرہ بن ربیعہ نے قادم بن میسور قرشی سے انھوں نیقبیلہ عک کے کچھ لوگوںسے نھوںنے اقرع سے اسی طرح رویت کیا ہے۔ انکا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اقرع (رضی اللہ عنہ)

  ابن حابس بن عفال بن محمد بن سفیانبن مجاشع بن دارم بن مالک بن حنظلہ بن مالک بن زید مناۃ بن تمیم سب لوگوںنے ان ک نسب اسی طور پر بیانکای ہے مگر ابن مندہ اور ابو نعیم نے حنظلہ کے بدلے جندلہ لکھا ہے ور یہ غلط ہے صحیح حنظلہ ہے۔ یہ نبی ﷺ کے حضور ہیں عطارہ بن صاجب بن زرارہ اور زبر قان بن بدر اور قیس بن عاصم وغیرہ چند اشراف قبیلہ تمیم کے ساتھ بعد فتح مکہ کے حاضر ہوئے تھے اور اقرع بن حابس تمیمی اور عینیہ بن حصن فزاری رسول خدا ﷺ کے ہمراہ فتح مکہ میں اور حنین میں شریک تھے وار جنگ طائف میں بھی حاضر تھے پھر جب قبیلہ تمیم کے لوگ آئے تو یہ بھی ان کے ساتھ آئے جب مدینہ پہنچے تو اقرع بن حابس نے جب پکارا کہ اے محمد تو یہ کہا کہ میری تعریف باعث زینت ہے اور میری مذمت باعث نقص ہے تو رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سبحانہ تمہیں ذلیل کرے۔ بعض لوگوںکا بیان ہے کہ صرف اقرع بن حابس نے نہیں بلکہ تمام لوگوںنے اسی طر۔۔۔

مزید

سیدنا) افلح (رضی اللہ عنہ)

  کنیت ان کی ابو فکیہہ۔ قبیلہ بنی عبد الدار کے غلامت ھے اور بعض لوگ کہتے ہیں صفوان ابن امیہ کے غلام تھے بہت پہلے مکہ میں اسلام لے آئے تھے اور منجملہ ان لوگوں کے ہیںجن کو خدا کی راہ میں سخت تکلیف (٭مکہ میں جو لوگ ابتدائے رسلت میں اسلام لائے تھے انھیں کفار نہایت سخت سخت ایذائیں دیتے تھے جن کو سن کر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں کسی کو گرم ریگ پر لٹا کر سینے پر گرم پتھر رکھ دیتے تھے کسی کے ساتھ یہاں تک نوبت پہنچ جتی تھی کہ اس کی شرمگاہ میں نیزہ وگیرہ داخل کر دیتے تھے مگر یہ لوگ اسی استقلال کے ساتھ اسلام پر قائم رہتے تھے) دی جاتی تھی۔ یہ اپنی کنیت سے زیادہ مشہور ہیں اور انساء الہ کنیت کے باب میں ان کا ذکر ہوگا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام یسار ہے۔ ان کا ذکر طبری نے کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) افلح (رضی اللہ عنہ)

  حضرت ام سلمہ کے غلام ہیں۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ حضرت ام سلمہ کی حدیث میں ان کا ذکر ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے میرے ایک غلامکو دیکھا جس کا نام افلح تھا جبوہ سجدہ کرتا تھا تو زمیں کو پھوکتا (٭چونکہ اس زمانے میں مساجد وغیرہ کی زمیں گچ نہ ہوتی تھی لہذا سجدہ کے مقام پر کچھ سنگریزہ وغیرہ آجاتے ہوں گے ان کے دور کرنے کے واسطے یہ پھونکتے ہوں گے) تھا تو حضرت نے فرمایا کہ تیرا ہرہ خاک آلود (٭یہ کلمہ بددعا کا نہیں ہے بلکہ اکثر مقام تہدید میں اس کا ستعمال ہوا کرتا ہے) ہو جائے ابو نعیم نے ان افلح کو اور ان افلح کو جو انس ے پہلے مذکور ہوئے ایک کر دیا ہے اور کہا ہے کہ افلح رسول خدا ﷺ کے غلامت ھے اور انھیں کو حضرت ام سلمہ کا بھی غلام کہا جاتا ہے۔ ابو نعیم نے کہا ہے کہ بعض لوگوںنے ان کو علیحدہ علیحدہ کر کے دو کر دیا ہے اور پہلے کی نسبت کہا ہے کہ یہ وہی شخصہیں جن کی نسبت نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ ت۔۔۔

مزید

سیدنا) افلح (رضی اللہ عنہ)

  رسول خدا ﷺ کے غلامہیں۔ ابن مندہ نے کہا ہے میں ان کو وہی شخص سمجھتا ہوں جنھیں نبی ﷺنے فرمایا تھا کہ تمہارا چہرہ خاک آلود ہو جائے ور ابو نعیم نے ان کے متعلق حضرت ام سلمہ کی حدیث رویتکی ہے ہ انھوں نے کہا نبی ﷺ نے ہمارے ایک غلام کو دیکھا جس کا نام افلح تھا وہ سجدے میں زمیں پھوگتا تھا تو حضرت نے اس سے فرمایا کہ تیرا منہ خاک آلود ہو جائے۔ اور حبیب مکی نے افلح سے جو رسول خدا ﷺ کے غلامت ھے روایتکیا ہے ہ حضرت نے فرمایا مجھے اپنی امت پر اپنے بعد اس بات کا خوف ہے کہ وہ اپنے خواہش نفسانی (٭اس حدیث کا ظہور اس زمانے میں بوجہ احسن ہو رہا ہے خواہش نفسانی کی پیروی بھی خوب ہو رہی ہے اور غفلت کی بھی کچھ انتہا نہیں رہی) کی پیروی کرنے لگیں گے اور بعد علم کے غفلت اختیار کر لیں گے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) افلح (رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی القیس۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں افلح کی کنیت ابو القعیس ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ابو القعیس کے بھائی ہیں ہمیں ابو المکارم فتیان بن احمد بن محمد بن سمیںہ جوہری نے اپنی سندکے ساتھ قصبنی سے انھوں نے امام مالکس ے انھوں نے ابن شہاب سے انھوںنے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کر کے خبر دی کہ افلح جو ابو لقعیس کے بھئی تھے حضرت عائشہ رضی الہ عنہ اکے پاس آنیکے لئے اجازت مانگنے لگے اور وہ ان کے رضاعی چچا تھے پردہ فرض ہوچکا تھا لہذا حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے انھیں جازت نہیں دی پھر جب رسول خدا ﷺ تشریف لائے تو میں نے یہ واقعہ آپ سے بیانکیا آپ نے مجھے حکم دیا کہ انھیں اجازت دے دوں۔ اس حدیث کو اسی طرح سفیان بن عینیہ نے اور یونس نے اور معمر نے زہری سے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو ابن نمیر نے ور حماد بن زید نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنیوالد سے روایت کیا ہے انھوں نے ب۔۔۔

مزید