ہفتہ , 20 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 06 June,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا) اسفع (رضی اللہ عنہ)

  بکری (یعنی قبیلہ بکر کے ہیں) ہمیں ابو موسی نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے حسن بن احمد نے بیان کیا وہ کہتے ہیں ہمیں احمد بن عبداللہ نے خبر دی۔ نیز ابو موسیکہتے تھے ہمیں ابن طبا طبا اور کوشیدی اور فرانی نے خبر دی یہ لوگ کہتے تھے ہمیں ابن ربذہ نے خبر دی یہد ونوں کہتے تھے ہمیں طبرانی یعنی سلیمان بن احمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو یزید قراطیسی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں یعقوب بن ابی عباد مکی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابن جریج نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھے عمر ابن عطا نے جو ابن اسفع کے غلام تھے اور ایک سچے آدمی تھے حضرت اسفع بکری سے نقل کر کے خبر دی کہ وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ جب ہجرت کر کے تشریف لائے تو آپ سے کسی شخص نے پوچھا کہ قرآن میں سب سے بزرگ تر کون آیتہے نبی ﷺ نے فرمایا اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم لاتخذہ سنۃ ولا نوم یہاں تک کہ اپ نے پوری آیت ختم کر دی۔ ان کا تذکرہ طبرای اور اب۔۔۔

مزید

سیدنا) اسعر (رضی اللہ عنہ)

  اخیر میں رے ہے۔ بعض لگ ان کو ابن اسعر کہتے ہیں اور بعض لوگ سعر کہتے ہیں۔ انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے۔ ابو مرارہ جہنی نے ابن اسعر سے انھوں نے اپنے والد سے رویت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مکہ کے کسی جانب میں اپنی بکریوں کو چرا رہا تھا یکایک رسول خدا ﷺ تشریف لائے میں نے کہا مرحبا برسول اللہ ﷺ آپ کیا چاہتے ہیں حضرت نے فرمایا تمہارے مال کا صدقہ (وصول کرنے آی ہوں) اسعر کہتے ہیں میں ایک گابھن بکری نہایت عمدہ لے کر آیا جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا ہ اس میں ہمارا حق نہیں ہے ہمارا حق تو سال بھر یا چھ مہینے ی بکری میں ہے۔ ابن مندہ نے تو ان کا تذکرہ یہیں (یعنی اسعر کے بیان میں) کیا ہے مگر ابو نعیم نے ور ابو عمر نے ان کا تذکرہ سعر کے بیان میں لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اسعد (رضی اللہ عنہ)

  ابن یزید بن فاکہ بن یزید بن خلدہ بن عامر بن زریق بن عبد حارثہ بن مالک بن عضب بن جشم بن خزرج یہ ابو عمر اور ہشام کلبی کا قول ہے۔ کلبی نے اور موسی بن عقبہ نے بیان کیا ہے کہ یہ بدر میں شریک تھے مگر ابن اسحاق نے ان کا تذکرہ  بدریوں میں نہیں کیا ابو نعیم نے (انکا نام اس طرح) بیان کیا ہے اسعد بن یزید انصاری اور بعض لوگ کہتے ہیں (اسعد) بن زید اور ابن شہاب سے ان لوگوںکے نام میں جو انصار کے قبیلہ بنی نجار کی شاخ بنی زریق سے جنگ بدر یں شریک ہوئے اسعد بن یزید بن فاکہ ک نام بھی مروی ہے ان کا تذکرہ ابو نعیم نے اور ابو عمر نے اور ابو موسینے کیا جو میں کہتا ہوں کہ ابو نعیم کے قول میں اعتراض ہے کیوں کہ زریق نجار کی شاخ نہیں ہے کیوں کہ نجار ثعلبہ بن عمرو بن خزرج کی اولاد میں ہیں پس ان کے اور نجار کے درمیانہ میں علاقہ ولدیت کا نہیں ہے اور بعض لوگوں نے ان کا نام سعد بن زید بن فاکہ بتایا ہے اور بع۔۔۔

مزید

سیدنا) اسعد (رضی اللہ عنہ)

  ابن یربوع انصاری خزرجی ساعدی۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے ابو عمر نے اسید بن یربوع کے بیان میں لکھا ہے کہ وہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے پس یہ اگر دونوں بھائی ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان دونوںیں سے ایک نام غلط ہے سیف بن عمر نے ان کا نام اسعد لکھا ہے۔ واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اسعد (رضی اللہ عنہ)

  ابن عطیہ بن عبید بن بجالہ بن عوف بن ودم بن ذیبان بن ہمیم بن ذہیل بن ذہیل بن ہنی بن علی بن عمرو بن الحاف بن قضاعۃ قضاعی بلوی۔ انھوں نے رسول خدا ﷺ سے درخت کے نیچے بیعۃ الرضوان کی تھی ان کا ذکر (روایتوں میں) ہے مگر ان کی کوئی حدیث مروی نہیں ہے ابن مندہ نے ابو سعید بن یونس سے روایت کی ہے کہ وہ فتح مصر میں شریک تھے۔ انکا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اسعد (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبداللہ خزاعی۔ ہمیں ابو موسینے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو نعیم یعنی عبید اللہ بن حسن حداد نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں اسماعیل بن عبد النخار نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں احمد بن حسین بن علی نے خبر دی وہ کہتے تھے میں محمد بن عبداللہ حاکم نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھے جعفر بن لاہزبن قریط نے سلیمان بن کثیر خزاعی سے (یہ جعفر کے نانا ہیں) اپنے والد کثیر سے انھوں نے اپنے والد اسعد بن عبداللہ بن مالک بن افصی خزاعی سے نقل کر کے خبر دی کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ سب دینوں سے زیدہ پسند اللہ کو دین ابراہیمی ہے جو نہایت سہل دین ہے اور ب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کو یہ نہ ہیں کہ تو ظالم ہے تو (سمجھ لو کہ) بے شک یہ دین ان سے رخصت ہوگیا۔ ان کا تذکرہ ابو موسی اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ مں کہتا ہوں کہ اس اسناد میں میرے نزدیک اعتراض ہے کیوں کہ سلیمان بن ثیر بنی عباس کے نقیبوں میں سے تھے ۔۔۔

مزید

سیدنا) اسعد (رضی اللہ عنہ)

  ابن سہل بن حنیف۔ انکا باقی نسب ان کے والد کے ذکر میں انشاء اللہ بیان کیا جائے گا۔ یہ نبی ﷺ کی زندگی میں آپ کی وفات سے دو برس پہلے پیدا ہوئے تھے ان کے والد انھیں نبی ﷺ کے حضور یں لائے آ نے ان کی تحنیک فرمائی اور ان کے نانا اسعد بن زرارہ کے نام پر ان کا نام رکھا اور انھیں کی کنیت پر ان کی کنیت تجویز فرمائی (یعنی ابو امامہ)۔ پیشوائوں اور علما میں سے ایک یہ بھی ہیں۔ ان سے ان کے دونوں بیٹے محمد اور سہل اور زہری اور یحیی بن سعید انصاری اور سعد بن ابراہیم روایت کرتے ہیں۔ انھوں نے نبی ﷺ سے ایک حدیث بھی روایت نہیں کی۔ ابن ابی دائود نے کہا ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ کی صحبت اٹھائی ہے اور آپ سے بیعت کی ہے آ نے ان کے لئے برکت کی دعا کی تھی اور ان کی تحنیک فرمائی تھی مگر پہلا ہی قول زیادہ صحیح ہے۔ سفیان بن عینیہ نے اور یونس نے اور معمر نے زہری سے انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے رویت کی ہے کہ عامر۔۔۔

مزید

سیدنا) اسعد (رضی اللہ عنہ)

  ابن سلامہ اشہلی انصری۔ واقعہ جسر کے دن شہید ہوئے ان کا تذکرہ ابو نعیم اور ابو موسی نے کیا ہے۔ اور ان دونوں نے اس اسناد کے ساتھ جو اسعد بن حارثہ کے بیان میں گذر چکی ابن شہاب سے نقل کیا ہے کہ یہ اسعد بھیجسر کے دن شہید ہوئے اور ہشامبن کلبی نے ان کو سعد بغیر الف کے کھا ہے (اور انک ا نسب اس طرح بیان کیا ہے) ابن سلامیہ بن وقش بن زعنبہ بن زعوبین عبدالاشہل اور کہا ہے کہ یہ جسر کے دن شہید ہوئے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم اور ابو عمر نے حرف سین میں سعد کے بیان میں یا ہے۔ یہ بھی ابن کلبی کے قول کی تائیدکرتا ہے۔ واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اسعد (رضی اللہ عنہ)

  ابن زرارہ بن عدس بن عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار۔ نجار کا نام یتیم اللہ ہے ان کو نجار اس وجہ سے کہتے ہیں کہ انھوںنے ایک آدمی کو بسولے سے مارا تھا اور اسے لکڑی کی طرح چھیل دیا تھا اور بعض لوگوںنے اور کچھ بھی بیان کیا ہے نجار بیٹیہیں ثعلبہ بن عمرو بن خزرج کے یہ اسعد انصاری خزرجی نجاری ہیں۔ بعض لوگ انکو اسعد الخیر بھی کہتے ہیں کنیت ان کی ابو امامہ۔ انصار میں سب سے پہلے یہی اسلام لائے تھے انکے اسلام کا سبب جیسا کہ واقدی نے ذکر کیا یہ ہوا کہ اسعد بن زرارہ مکہ گئے ہوئے تھے وہ اور ذکوان بن عبد قیس دونوں کسی کامس ے عتبہ بن ربیعہ کے پاس گئے وہاں انھوں نے رسول خدا ﷺ کا ذکر سنا پس یہ دونوں آپ کے پاس گئے آپ نے انھیں اسلام کی ترغیب دی اور انھیں قران پڑھ کے سنایا چنانچہ یہ دونوں مسلما نہوگئے پھر عتبہ کے پاس نہیں گئے اور مدینہ لوٹ آئے اور یہی دونوں سب سے پہلے مدینہ میں اسلام لے کے آئے ابن ۔۔۔

مزید

سیدنا) اسعد الخیر(رضی اللہ عنہ)

  انھوںنے ملک شام میں سکونت اختیار کی تھی۔ بخاری نے ان کا ذکر وحدان میں کیا ہے۔ اور بعض لوگوںکا بیان ہے کہ یہ اسعد الخیر نہیں ہیں بلکہ ابو سعد الخیر ہیں۔ اور صحیح یہمعلوم ہوتا ہے کہ ان کا نام احمد ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اسی طرح مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید