آں نشانہ خد نگ عشق مطلق، آن، بودہ جمال الحق، آں مستِ الست نغمات بے ساز، آں در خلوت کنت کنزاً محرم راز، آں قائل لا احب الافلین مانند خلیل، آں آثار ولائتیش ظاہر برخاص وعام بے دلیل، اں جمیع طالبان حق را موصل بہ مقصود، قطب مادر زاد شیخ المشائخ حضرت شیخ داؤد قدس سرہٗ مرید بر حق اور خلیفہ وجانشین مطلق پدر عالی قدر حجرت شیخ محمد صادق گنگوہی الحنفی تھے آپ بڑے صاحب ریاضت و مجاہدہ اور کشف وکرامات تھے۔ آپکی ہمت بلند، حال قوی تھا۔ آپکے کمالات آپکی پیشانی مبارک سے ہر خاص وعام پر اظہر من الشمس تھے۔ آپ نغمات الست میں مدہوش اور شان بقا باللہ میں باہوش تھے آپکی توجہ میں وہ اثر تھا کہ ایک نظر سے آپ باویۂ گفلت کے افرسدہ دلوں سے علائق دنیا کو دھوکر جمال تجلیات ذات وٖات سے منور کردیتے تھے۔ کسی نے خوب کہا ہے؎ دلے افسرد گی یا بد بہ گفت ہر کے گرمی۔۔۔
مزید
آپ کے خلیفہ اول واعظم آپکے فرزند ارجمند مستِ جمال و دود حضرت شیخ داؤد قدس سرہٗ ہیں کہ جن کا نور ہدایت تا قیامت افزوں رہے گا۔ روایت ہے کہ ایک دن حضرت شیخ محمد صادق قدس سرہٗ نماز فجر میں بیٹھے التحیات پڑھ رہے تھے جب آپ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّاللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدہٗ ورَسُولہٗ پر پہنچے تو شہادت کی انگلی اٹھائی۔ انگلی کا اٹھنا تھا کہ اس میں ایسا نور طلوع ہوا جو ان کی آن میں مغرب سے مشرق تک پھیل گیا اور دنیا کے تمام شہروں اور قصبوں سے گھوم پھر کر اُسی انگلی میں گم ہوگیا۔ اسکے بعد آپ کی سامنے والی دیوار شق ہوئی اور اس میں آنحضرتﷺ کی روحانیت معہ اصحاب کرام ظاہر ہوئی آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ یہ نور جو تم نے دیکھا ہے تمہارے بیٹے داؤد کی ولایت کا نور ہے جسکے رشد وہدایت کا سلسلہ مشرق سے مغرب تک پھیلے گا اور ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ولایت سے۔۔۔
مزید
اسی طرح شیخ شیخ جمال ساکن کا چھوی بھی جو حضرت شیخ محمد صادق کے دوست تھے۔ اشارۂ باطنی سے آپکے مرید ہوئے اور مرتبۂ کمال وتکمیل کو پہنچے۔ انکے م رید ہونے کا واقعہ یہ ہے کہ وہ دیہات کے رہنے والے تھے اور موضع کا چھ وہ میں جو کرنال سے چار کوس کے فاصلہ پر غربی جانب واقع ہے کھیتی باڑی کیا کرتے تھے ایک دن ہلا چلارہے تھے کہ غیب سے ہاتف نے آواز د یعنی حق تعالیٰ نے اسے بلا واسطہ خطاب کر کے فرمایا کہ اے جمال تو اس کام کیلئے نہیں پیدا کیا گیا۔ بلکہ تم ہمارے مشاہدہ کیلئے پیدا کیلئے گئے ہو۔ تم گنگوہ جاکر شیخ محمد صادق کی خدمت میں پہنچو اور اصل کام میں مشغول ہوجاؤ۔ شیخ جمال غیب سے یہ آواز سن کر غفلت سے بیدار ہوئے اور گنگوہ جاکر حضرت شیخ محمد صادق قدر سرہٗ سے شرط بیعت حاصل کیا۔ آپ نے انکو اپنی بھینسوں کی خدمت پر مامور فرمایا اور کافی مدت تک وہ یہ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ عبدالجلیل الٰہ آبادی بھی جو حضرت شیخ محمد صادق قدس سرہٗ کے اکابر خلفائیں سے بھی آنحضرتﷺ کے باطنی حکم سے آپ کے مرید ہوئے۔ واقعہ اس طرح ہے کہ شیخ عبدالجلیل دہلی میں ملک العلماء حضرت شیخ عبدالحق قدس سرہٗ کے ہاں تحصیل علوم اسلامیہ مشغول تھے اور فراغت ہونے والی تھی کہ ایک رات خواب میں اپنے آپکو ایک وسیع نورانی صحرا میں پایا وہاں یہ دیکھا کہ آنحضرتﷺ ایک ابلق گھوڑے پر سوا رہیں جب انہوں نے پابوسی کا شرف حاصل کیا تو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ علم قیل وقال کسی کام نہیں آتا اس وقت حضرت شیخ محمد صادق کی صورت انکو دکھائی گئی اور فرمانہوا کہ گنگوہ میں اس شخص کے پاس جاؤ کیونکہ میری امت کے اکابر اولیائیں سے ہیں۔ ان سے بیعت کرلو اور علم قیل وقال کو چھوڑ کر حال میں مشغول ہوجاؤ۔ جب شیخ عبدالجلیل بیدار ہوئے تو فوراً دہلی سے گنگوہ پہنچ۔۔۔
مزید
شیخ عبدالسبحان سہارنپوری کی بیعت بھ ی حضرت رسالت پناہﷺ کے حکم کےمطابق حضرت شیخ محمد صادق سے ہوئی۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت شیخ عبدالسبحان بڑے لطیف طبع تھے۔ آپ سہارنپور میں رہتے تھے لیکن فقراء کے ساتھ آپکو زیادہ اعتقاد نہ تھا۔ بلکہ طریقۂ درویشی کو پسند ہی نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے ایک رات کواب دیکھا کہ انکا بخت بیدار ہوا ہے اور رسولﷺ کی زیارت نصیب ہوئی ہے۔آنحضرتﷺ اپنے اصحاب سمیت تشریف لائے ہیں اور حضرت شیخ محمد صادق بھی ساتھ ہیں۔ آنحضرتﷺ نے شیخ عبدالسبحان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہارے پیر یہ ہیں۔ اسکے ساتھ ہی شیخ محمد صادق کی طرف اشارہ بھی فرمایا۔ آنحضرتﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ گنگوہ جاکر اُن سے بیعت کرواور مطلوب حقیقی تک رسائی حاصل کرو۔ اُن سے رہانہ گیا اور اُسی وقت روتے ہوئے گنگوہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر حضرت شیخ محمد صادق قدس سرہٗ۔۔۔
مزید
ان میں سے ایک حضرت شیخ ابراہیم مراد آادی ہیں جو حضرت شیخ کے اکابر خلفا میں سے ہیں اور انہوں نے شغل سہ پایہ کو اس حد تک پہنچایا تھا کہ تین مرتبہ ذکر اسم ذات یعنی اللہ اللہ کر کے ایک تسبیح کا دانہ گراتے تھے اور اس طرح آپ چار سوتسبیح کرتے تھے (یعنی ایک سانس میں چار سو تسبیح) آپ پٹھان تھے اور ولایت درہ کے رہنے والے تھے۔ آپ تلاش شیخ میں پھرتے پھراتے قصبۂ بنور پہنچے۔ اس وقت حضرت شیخ آدم بنوری وہاں موجود تھے اور مدینہ منورہ نہیں گئے تے۔ شیخ ابراہم نے ان کی خدمت میں رہ کر ایک مدت تک ریاضت و مجاہدہ کیا لیکن جو کچھ انکا دل چاہتا تھا میسر ہو نہ ہوا۔ حضرت شیخ آدم بنوری انکی بڑی عزت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ انہیں خلافت دیں کہ ناگاہ ان کا سویا ہوا بخت بیدار ہوا ایک رات نیند اور بیداری کی کیفیت م یں جمال جہاں آرائے سرورِ کونینﷺ کی زیار۔۔۔
مزید
یہ دونوں بھائی شریف خصلت اورصالح تھے ان کے باپ دادا بطور وراثت بادشاہان دہلی کے ملازم تھے ان کے اخلاق کریمہ اور اوصاف حمیدہ لکھنے کے لیے دفاتر درکار ہیں، سلطان سکندر کے چچا زاد بھائی سے کچھ کدورت سی پیدا ہوئی اس نے زمانہ سازی اور برادرانہ تعلق کی بنا پر ظاہر نہیں فرمایا، بارہ ہزار سوار فوج اور حکومت و گورنری وغیرہ انہی کے تفویض میں رہنے دی البتہ ان کے وکیل ملک زین الدین کو خود خفیہ طور سے کہا اور اپنے ہاتھ سے ایک حکم نامہ لکھا کہ خان جہاں کے مال و دولت پر قبضہ کرکے جس طرح چاہو خرچ کرو لیکن خان جہاں کو بالکل خبر نہ ہو اور یہ بھی حکم لکھ بھیجا کہ وکیل زین الدین سے حساب لیا گیا ہے کسی کو اس سے تعرض کا حق نہیں ہے جوکچھ اس سعادت مند کے اختیار میں تھا صدقات و میراث وغیرہ سب کو نیک مقاصد میں صرف کیا کرتے تھے۔ اکثر و بیشتر علما و صلحا آپ کو دوست رکھتے تھے اور آپ کی طرف رجوع کرتے تھے، وزیرالدین آپ ۔۔۔
مزید
لطافت طبع میں بے نظر دنیا کے اہل دلوں کے نزدیک پسندیدہ و دلپذیر خواجہ ضیاء الملۃ والدین برنی رحمۃ اللہ علیہ خاص و عام میں قبولیت عام رکھتے اور بے حد لطافت بے اندازہ ظرافت کے ساتھ مشہور تھے جس مجلس میں آپ رونق افروز ہوتے تمام حضار جلسہ آپ کی روح افزا لطائف پر کان لگائے رہتے۔ آپ مجمع الطائف اور جوامع الحکایت تھے اور علماء مشائخ و شعرا کی صحبت سے کافی حصہ رکھتے تھے علاوہ ازیں ہمت بلند اور حوصلہ فراخ رکھتے تھے اور یہ نتیجہ اس کا تھا کہ ابتدائی زمانہ سے اپنے والد بزرگوار کی شفقت و مہربانی کی وجہ سے جو اپنے سارے خاندان میں ایک نہایت محترم و معزز بزرگ تھے سلطان المشائخ کی سعادت ارادت سے مشرف ہوئے تھے اور اخلاص کا سر آپ کے آستانہ مبارک پر رکھا تھا۔ سلطان المشائخ کی الفت و محبت میں غیاث پور میں رہنا اختیار کیا اور آپ کے حضور میں مرتبۂ قربت تمام و کمال حاصل۔۔۔
مزید
صوفیوں کے جمال متقیوں کے شرف خواجہ تاج الملۃ والدین رحمۃ اللہ علیہ وادری زہد و تقویٰ کی مجسم تصویر تھے۔ آپ شروع شروع میں دنیا اور اہل دنیا کے ساتھ تعلق رکھتے تھے لیکن جب سعادت ابدی نصیب ہوئی تو آپ نے اس ذلت و خواری کو یک لخت ترک کر دیا اور سلطان المشائخ کی دولت ارادت سے مشرف و ممتاز ہوئے۔ سلطان المشائخ کی الفت و محبت آپ کے دل مبارک میں اس طرح متمکن اور جاگیر ہوئی کہ تمام دنیاوی تعلقات یکبارگی قطع کر دئیے اور فقر و مجاہدہ اور فاقہ کو اپنی دولت و ثروت جان لیا شیخ سعدی نے کیا خوب فرمایا ہے۔ بپائے سر در افتادہ چو لالۂ و گل کہ او شمائل قد نگار من دارد (سرو کے قدموں میں مثال لالۂ و کل پڑا ہوا ہوں کہ وہ میرے نگار سے قد میں مماثلت رکھتا ہے۔) اے سرو بتو شادم شکلت بفلان ماند اے گل زتو خوشنو دم تو بوے کسے داری (اے سرو میں تجھے دیکھ کر شاد کام ۔۔۔
مزید
مالک دنیا، طالب عقبی خواجہ مؤید الدین رحمۃ اللہ علیہ جن کا ظاہر صفا سے آراستہ اور باطن وفا سے پیراستہ تھا زہد و تقوی میں معروف اور اعتقاد خوب میں مشہور تھے۔ آپ ابتدا میں دنیاوی کاموں میں مصروف تھے امور سلطنت کی بجا آوری کو فرض منصبی سمجھتے اور بادشاہ زادہ معظم کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے جس زمانہ میں سلطان علاؤ الدین ولی عہدی کے منصب پر ممتاز تھا اسے شاہ وقت کی طرف سے جاگیر ملی تھی تو خواجہ مؤید الدین اس کی پیشی میں نہایت اہم اور عظیم الشان امور کو انجام دیتے۔ چونکہ سعادت ابدی روز ازل سے آپ کی قسمت میں لکھی جا چکی تھی لہذا آپ سلطان المشائخ کے غلاموں کی سلک میں داخل ہوئے اور بالا ختیار دنیاوی تجملات سے ہاتھ اٹھا لیا۔ جب سلطان علاؤ الدین تخت شاہی پر جلوہ آرا ہوا اور مستقل طور پر سلطنت کی باگ اس کے ہاتھ میں دی گئی تو اس نے خواجہ کو یاد کیا اور جب سنا کہ وہ تارک دنیا ہوگئے ہیں اور ۔۔۔
مزید