پیر , 18 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 06 April,2026

پسنديدہ شخصيات

مولانا محمد ذاکر بگوی چشتی قدس سرہ

            مولانا محمد ذاکر ابن مولانا عبد العزیز بگوی(م۱۳۲۵ھ؍۱۹۰۷ئ) اپنے وطن بگہ ضلع جہلم میں ۱۲۹۳ھ؍۱۸۷۲ء میں پیدا ہوئے،تاریخی نام گل رنگین محمد ذاکر(۱۲۹۳ھ)تمام ظاہری اور باطنی علوم والد ماجد سے حاصل کئے،مدرسہ طبیہ دہلی میں حاذق الملک حکیم عبد المجید خاں سے علم طب حاصل کیا۔عم محترم مولانا غلام محمد بگوی سے تصوف کی کتابیں پڑھیں۔۱۶سال کی عمر مین پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کیا،بعد ازاں مدرسہ حمیدیہ،قائم کردہ انجمن حمایت اسلام لاہور میں بحیثیت صدر مدرس مولوی فاضل کے طلباء کو پڑھانے پر مامور ہوئے اور سالہاسال تک پڑھاتے رہے۔           حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی سے آپ کے خصوصی تعلقات تھے۔حضرت خواجہ صاحب آپ کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔۱۹۰۴ء میں حضرت خواجہ محمد ۔۔۔

مزید

امام المعقولات مولانا محمد دین بدھوی ﷫

            منطق و فلسفہ کے مسلم استاذ مولانا محمد دین بدھوی ابن مولانا قاضی سید رسول موضع بدھو ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی،صرف ونحو کی تحصیل فتح جنگ،ضلع کیمبلپور میں کی،بعد ازاں رام پور میں مولانا فضل حق رامپوری اور ٹونک میں غالباً مولانا حکیم برکات احمد ٹونکی کی خدمت میں کسب فیض کرتے رہے۔رام پور اور ٹونک میں مجموعی طور پر سات سال رہ کر تکمیل کی اور واپس وطن تشریف لائے۔گمان غالب ہے کہ آپ حضرت پیر سید مہرعلی شاہ گولڑوی قدس سرہ کے مرید تھے۔           پہلے چند سال بدھو میں درس دیا جس میں بخارا،کاہل اور علاقہ غیر کے طلباء شریک ہوئے،بد ازاں امر تسر،مکھڈ شریف،ملتان،سیال شریف،وزیر آباد،بھیرہ شریف،وڑچھہ،شرق پور،بندیال،ہری پور،چکوال وغیرہ مقامات پت تشنگان علوم کو ۔۔۔

مزید

آقائے سرہندی حضرت مولانا محمد حسین جان قدس سرہٗ

           حضرت مولانا محمد حسین جان ابن حضرت خواجہ عبد الرحمن (م ۱۳۱۵ھ) ابن حضرت خواجہ عبد القیوم (قدست اسراہم) ۱۲۸۸ھ؍۲۔۱۸۷۱ء میں بمقام ارغستان قندھار میں پیدا ہوئے۔ہوئے آپ کا سلسلۂ نسب حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ تک پہنچتا ہے۔آپ ک ے بڑے بھائی حضرت خواجہ محمد حسین جان سرہندی نے تمام علوم اپنے والد ماجد اور فضلائے عصر سے حاصل کئے،پانچ سال تک مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں تعلیم حاصل کی،شب وروزمطالعہ میں منہک رہتے،تمام علوم م یں یدطولیٰ رکھتے تھے،خاص طور پر علم ادب اور تاریخ پا کامل عبور رکھتے تھے جوانی ہی شعرو سخن کا آغاز کیا اور ھالات زمانہ کے دگر گوںہونے کے با وجود فارسی شاعری کو بام عروج تک پہنچایا،آپ کوفی البدیہ شعر کہتے میں کمال حاصل تھا،طریقت میں حضرت خواجہ عبد الرحیم قدس سرہ (م ۱۳۱۵ھ) سے بیعت تھے۔       ۔۔۔

مزید

سبحان زماں مولانا علامہ ابو الفیض محمد حسن فیضی﷫

            ادیب اریب،فاضل علوم دینیہ ،ماہر فنون عربیہ مولانا ابو الفیض محمد حسن فیضی ابن جناب نور حسین بھیں ضلع جہلم کے رہنے والے تھے،اپنے وقت کے مشہور زمانہ افاضل سے اکتساب علم کیا،اساتذہ میں سے آپ کے ماموں مولانا قاضی عبد الحلیم ساکن ڈھاب قاضیاں کا نام معلوم ہو سکا ہے۔آپ مولانا ابو الفضل کرم الدین (مؤلف آفتاب ہدایت و تازیانۂ عبرت) کے چچا زاد بھائی اور اپنے دور کے بے مثل فاضل تھے،عربی شعرو شاعری میں متقدمین شعراء کے ہم پلہ تھے،ایک زمانہ تک جامعہ نعمانیہ (لاہور) میں مدرس رہے۔آپ نے سورئہ فاتحہ کی مکمل تفسیر بے نقط الفاظ میں لکھی تھی جو طبع نہ ہو سکی۔آپ کی تصانیف میں سے روض الربی فی حقیقۃ الربو(جس میںہندوستان کو دار الحرب(کہ اس کا فرمانروامسلمان نہیں) قراردے کر غیر مسلموں سے سود لینا جائز قرار دیاہے) اور میراث،ولاء اور وصیت کے مسائل &۔۔۔

مزید

محقق جلیل مولانا محمدا عظم قادری نو شاہی قدس سرہ العزیز

            حضرت مولانا محمد اعظم المعروف بہ حضرت با باجی ابن مولانا محمد یار موضع دانگلی ضلع جہلم میں پیدا ہوئے[1] سن ولادت ۱۲۶۱ھ؍۱۸۴۵ء ہے[2] فارسی کی تعلیم چودھری شہباز خاں مصنف وقائع پنوں سے حاصل کی۔فقہ،حدیث شریف اور علوم قرآنیہ کی زیادہ تر تعلیم والد ماجد سے حاصل کی،کچھ عرصہ قصبہ فتح گڑھ، چوڑیاں(ضلع گورد اسپور) اور امر تسر میںپڑھتے رہے علم ادب اور طب مولوی دوست محمد ہاشمی قریشی فتح گڑی سے حاصل کیا۔حضرت سید فقیر اللہ شاہ باشاہ مشہدی رضوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور سلسلۂ عالیہ قادریہ نوشاہیہ میں خلافت سے مشرف ہوئے۔           مروجہ علوم سے فارغ ہونے کے بعد کچھ عرصہ محکمہ مال لدھیانہ میں کام  کرتے رہے لیکن حضرت شیخ کی محبت نے آپ کو کھینچ لیا اور حضرت شیخ کی حیا ت ظاہ۔۔۔

مزید

محقق جلیل مولانا محمد اعظم قادری نو شاہی قدس سرہ العزیز

            حضرت مولانا محمد اعظم المعروف بہ حضرت باباجی ابن مولانا محمد یار موضع انگلی ضلع جہم میں پیدا ہوئے[1]  سن ولادت ۱۲۶۱ھ؍۱۸۴۵ے ہے[2]  فارسی کی تعلیم چودھری شہباز خاں مصنف حاصل کی،فق،حدیث شریف اور علوم قرآنیہ زیادہ تر تعلیم والد ماجد سے حاصل کی،کچھ عرصہ قصبہ فتح گڑھ،چوڑیاں(ضلع گورادسپور) اور امر تسر میںپڑھتے رہے،علم ادب او ر طب مولوی دوست محمد ہاشمی قریشی فتح گڑھی حاصل کیا۔حضرت سید فقیر اللہ شاہ بادشاہ مشہدی رضوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے دست پر بیعت ہوئے اور سلسلۂ عالیہ قادریہ نو شاہیہ میں خلافت سے مشرف ہوئے۔           مروجہ علوم سے فارغ ہونے کے بعد کچھ عرصہ محکمہ مال لدھیانہ میں کام کرتے رہے لیکن حضرت شیخ کی محبت نے آپ کو کھینچ لیا اور حضرت شیخ کی حیات ظاہری تک آپ آستانۂ شیخ کے۔۔۔

مزید

سیبویہ زمانہ حضرت مولانا قاضی  محمد اسماعیل قادری ہزاروی قدس سرہ

            صرف ونحو کے مشہور فاضل حضرت مولانا مفتی قاضی محمد اسمعٰیل قادری، ہزارو ابن مولانا الحاج مدد خاں ابن ملک بوستان خاں رحمہم اللہ تعالیٰ بمقام نور پور نزد سرائے نعمت خاں میں پیدا ہوئے۔آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام محمد ابن الحنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک پہنچتا ہے۔آپ کے جد مادری مولانا غلام محمد نور پوری بھی صاحب علم و فضل تھے۔ آپ نے ابتدائی کتابیں والد ماجد سے پڑھیں،پھر کشمیر کی مشہور درس گاہ ڈنہ کچیری اور گنچھتر شریف (آزاد کشمیر ) میں تحصیل علمکرتے رہے، بعد ازاں مراد آباد اور سہانپور کے مدارس میں تعلیم حاصل کی اور سند فراغت حاصل کر کے وپاس واردو طن ہوئے۔ان دنوں والد ماجد قصبہ کو کل تحصیل ایبٹ آباد(ہزارہ) میں قیام پذیر تھے۔ والد گرامی انہیں اپنی جگہ مقرر کر کے خود بمقام بر سین (ضلع ہزارہ) چلے گئے۔      &۔۔۔

مزید

حضرت مولانا پیر سید محمد اسماعیل شاہ قدس سرہ (کرنوالہ)

            مرشد شہیر حضرتمولانا سیدمحمد اسمٰعیل ابن سید علی شاہ بخاری کاظمی قدس سرہما ۱۳۰۷ھ؍۱۸۸۹ء میں موضع کر مانوالہ مضافات فیروز پور میںپیدا ہوئے،آپ کاسلسلۂ نسب مرکز سیادت حضرت سید مخدوم جہانیاں جہاں شت بکاری قدس سرہ (اچ شریف) تک پہنچتا ہے۔قرآن پاک سید مخدوم قطب الدین رحمہ اللہ تعالیٰ سے پڑھا،فارسی کی کتابیں مولانا رحمت علی جویہ(کرنوالہ) سے پڑھیں،پھرموضع پنچکے پنڈ شاہ جلالپوری قدس سرہ کے مدرسہ میںعلم ظاہری کا اکتساب کیا اور حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے فیض صحبت سے مستفیض ہوئے۔کچھ دن مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور قیام کیا لیکن جلدی لاہور تشریف لے گئے اور مولانا مفتی عبد القادر جہانگیر وی رحمہ اللہ تعالیٰ صدرمدرس جامعہ نعمانیہ لاہور اور دیگر اساتذہ سے مروجہ علوم کی تحصیل و تکمیلکر کے علم حدیث حاصل کرنے کے لئے مدرسۃ الاسلام،دہلی میںمو۔۔۔

مزید

فاضل اجل حضرت مولانا  محمد احسن پشاوری المعروف حافظ دراز قدس سرہ

            فاضل یگانہ استاذ العلماء حضرت مولانا محمد احسن ابن مولانا حافظ محمد صدیق ابن محمد اشرف،قدست اسراہم،۱۲۱۲ھ؍۸۔۱۸۸۷ء میں خوشاب(پنجاب) میں پیداہوئے۔آپ کا خاندان علم و فضل  میںبلند مقام کا حامل تھا[1]اکثر علوم اپنی والدہ ماجدہ سے حاصل کئے جو برے علم و فضل کی مالک تھیں[2] حافظ دراز کے نام سے شہرت کی وجہ یہ تھی کہ آپ نہ صرف علوم عقلیہ و نقلیہ میں بلند مرتبہ رکھتے تھے بلکہ جسمانی طور پر بھی بلند قامت اور سروقد تھے چنانچہ ایک دفعہ جو تا بنوانے کی غرض سے موضع چمکنی تشریف لے گئے،موچی مکان کی چھت پر بیٹھا جوتے بنارہا تھا،آپ نے سر اونچا کر کے پوچھا کہ میرے پائوں کے سائز کا جوتا مل جائیگا؟ اس نے کہا مولانا! گھوڑے سے اتر کر اوپر آجائیں۔آپ نے فرمایا گھوڑا کہاں میں تو اپنے پائوں پر کھڑا ہوں ! موچی نے آج تک اتنا طویل آدمی نہیں دیکھا ت۔۔۔

مزید

استاذ الاساتذہ حضرت مولانا علامہ محب النبی

استاذ الاساتذہ حضرت مولانا علامہ محب النبی قدس سرہ            بحر العلوم حضرت مولانا محب النبی ابن حضرت مولانا احمد ابن حضرت مولانا امیر حمزہ (قدست اسرار ہم) ۱۳۱۴ھ؍۱۸۹۷ء میں بھوئی ضلع کیمبلپور میں پیدا ہوئے۔آپ خاندان علم و فضل کے اعتبار سے مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔آپ نے فارسی کی کتابیں والد ماجد سے پڑھیں، صرف ونح کی کتابیں پانوں ڈھیری ہزارہ میں مولانا نواب علی سے پڑھیں،پھر اکثر و بیشتر علوم و فنون اپنے والد گرامی سے پڑھے، درس حدیث مدرس عالیہ مسجد فتح پوری ،دہلی میں مولانا عبد اللطیف محدث سے لیا، بعد ازاں بعض فنون عالیہ کی تکمیل کے لئے مدرسہ معینیہ،اجمیر شریف میںمولانا علامہ مشتاق احمد کانپوری ابن استاذ من مولانا احمد حسن کانپوری کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان سے تصریح،شرح چغپینی او صدر اکے کچھ اسباق پڑھے تھے کہ آپ کے بھائی مولانا فرید الدین بیما۔۔۔

مزید