حضرت مولانا سید قطب علی شاہ قادری ابن سید امام شاہ بخاری قدس سرہما ساکن سندیلیا نوالی(پیر محل) ضلع لائل پور،حسینی سادات سے تھے اور بیعت وخلافت حضرت سید چراغ علی شاہ قدس سرہ(م ۱۳۰۶ھ؍۱۸۸۹ئ) سے تھی جن کا سلسلۂ طریقت حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے۔ حضرت سید قطب علی شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ ماہ بھادوں سمہ ۱۹۰۶ برویک شنبہ متولد ہوئے۔حضرت موصوف اپنے زمانے کے جلیل القدر عالم و عارف تھے۔ آپ سے ہزاروں لوگ فیضیاب ہوئے۔ ظاہری علوم میں بھی با کما ل تھے۔آپ کے فضل و کمال پر آپ کی تصانیف شاہد عدل ہیں۔ آپ کی تصانیف یہ ہیں:۔ ۱۔ اسرار المعرفت(مسائل سلوک پر) ۲۔ &۔۔۔
مزید
ادیب یگانہ، فاضل اجل مولانا فیض الحسن ابن مولانا علامہ محمد حسن فیضی قدس سرہما۲۷؍جمادی الاول ،۶؍اپریل (۱۳۰۰ھ؍۱۸۸۳ئ) کو بمقام بھیں تحصیل چکوال(ضلع جہلم) میں پیدا ہوئے ۔ علوم دینیہ کی تحصیل اپنے والد ماجد فاتح قادیانت مولانا محمد حسن فیضی سے کی،۱۳۲۵ھ؍۱۹۰۷ء میںپنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا ۔ آپ ایک عرصہ تک لاہور کی مشہور دینی درس گاہ جامعہ نعمانیہ میں مدرس رہے،امیر خرب اللہ پیر سید فضل شاہ جلالپوری آپ کے تلامذہ میں سے تھے۔ مولانا فیض الحسن رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے والد گرای کی طرح ادب عربی کی بینظیر فاضل اور قادر الکلام شاعر تھے۔ امام الائمہ مالک الازمہ سراج الائمہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی منقبت میں ایک قصیدئہ عربیہ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں &nb۔۔۔
مزید
حضرت مولانا فقیر محمد جہلمی ابن حافظ محمد سفارش ۱۲۶۰ھ؍۱۸۴۴ء میں جمعرات کی راتر کو موضع چتن (جہلم کی غربی جانت دومیل کے فاصلے پر واقع ہے) میں پیدا ہوئے ۔ قرآ پاک پڑھنے کے بعد میاں قطب الدین (موضع ٹالیا نوالہ) سے تعلیم حاصل کرتے رہے پھر مولانا نور محمد (موضع کھائی کوٹلی ضلع جہلم) تلمیذ مولانا رحم اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس جاکر کئی سال تک استفادہکرتے رہے اور صرف، نحو ، فقہ اور دیگر علومکی کتابیںپڑھیں،بعد ازاں راولپنڈی جاکر مولانا عبد الکریم اورمولانا محمد حسن فیروز والہ سے تعلیم حاصل کی۔۲۷۶ھ میں دہلی گئے، پہلے مولوی نذیر حسین دہلوی کے پاس پنجابی کٹرہ میں پہنچے ، انہوں نے عذر کیا کہ ہم معقولات نہیں پڑھا سکتے اس لئے مولانامفتی محمدصدر الدین خاں آزردہ ، صدر الصدور دہلی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ڈیڑھ سال کے عرصہ م۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ خواجگاں فقیر محمد ابن حضر ت خواجہ نور محمد قدس سرہما اپنے دور کے اکابر مشائخ سے ہوئے ہیں ۔آپ کا لقب حاجی گل تھا اور عام لوگ عقیدت و محبت سے با با جی صاحب کے نام سے پکارتے تھے۔آپ کی ولادت با سعادت تیز ئی شریف مضافات تیراہ میں ہوئی۔ ولادت کے بعد جد امجد حضرت خواجہ محمد فیض اللہ تیرا ہی قدس سرہ کو پتہ چلا کہ آپ دودھ نہیں پیتے آپ تشریف لائے اور فرمایا : یہ ابھی سے اپنا حصہ طلب کر تے ہیں چنانچہ اپنی زبان مبارک نو مولود بچے کے من میں ڈال دی جسے حضرت خواجہ محمد فیض اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ لڑکا برا نیک سخت ہوگا اور اس کے وجود سے خلق خدا کو بہت فیض پہنچے گا۔ حضرت خواجہ فقیرمحمدنے تمام ظاہری او ر باطنی علوم حضرت والد ماجد سے حاصل کئے ، بچپن ہی سے آپ کی۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ خواجگاں فقیر محمد ابن حضر ت خواجہ نور محمد قدس سرہما اپنے دور کے اکابر مشائخ سے ہوئے ہیں ۔آپ کا لقب حاجی گل تھا اور عام لوگ عقیدت و محبت سے با با جی صاحب کے نام سے پکارتے تھے۔آپ کی ولادت با سعادت تیز ئی شریف مضافات تیراہ میں ہوئی۔ ولادت کے بعد جد امجد حضرت خواجہ محمد فیض اللہ تیرا ہی قدس سرہ کو پتہ چلا کہ آپ دودھ نہیں پیتے آپ تشریف لائے اور فرمایا : یہ ابھی سے اپنا حصہ طلب کر تے ہیں چنانچہ اپنی زبان مبارک نو مولود بچے کے من میں ڈال دی جسے حضرت خواجہ محمد فیض اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ لڑکا برا نیک سخت ہوگا اور اس کے وجود سے خلق خدا کو بہت فیض پہنچے گا۔ حضرت خواجہ فقیرمحمدنے تمام ظاہری او ر باطنی علوم حضرت والد ماجد سے حاصل کئے ، بچپن ہی سے آپ کی۔۔۔
مزید
حضرت مولانا فتح الدین اذبرؔ ابن حکیم میاں غلام محمد رحمہا اللہ تعالیٰ ۱۲۹۱ھ؍ ۵۔۱۸۷۴ء میں خوشاب ضلع سر گودھا میں پیدا ہوئے ، ااپ کا سلسہ نسب حضرت اسید بن حضیر القاری الصحابی سے ملتا ہے ۔ ابتدائی تعلیم خوشاب میں حاصل کی ، منشی فاضل کا امتحان دیا ، پھر موراں والی مسجد ، لاہور میں کچھ عرصہ پڑھتے رہے بعد ازاں حیدر آباد ، دکن جاکر مولاا نوار الحق سے معقول و منقول کی تعلیم حاصل کی ،انہوں نے آ پ کی قابلیت کے پیش نظر اپنی صاحبزادی کا عقد آپ سے کردیا۔ مزید تعلیم کے لئے جامعہاز ہر ، مصر بھی گئے۔سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت سید ابرہیم قادری قدس سرہ (بغداد شریف سے بیعت ہوئے اور سلوک قادریہ کی منازل طے کر کے اجازت و خلافت سے مشرف ہوئے ۔شیخ الد لائل مدنیمولانا شیخ ممتاز احمد المعروف بہ عارف اللہ شاہ نقشبندی قادری چشتی سے دلائل الخیرات شریف ۔۔۔
مزید
آپ طبقات ناصری کے مولٔف ہیں، علاوہ ازیں بڑے جلیل القدر بزرگ اور اپنے زمانہ کے مشہور فاضل تھے، وجد و سماع کا ذوق رکھتے ہیں، جب آپ شہر کے قاضی مقرر کیے گئے تو سماع کو بڑی استقامت نصیب ہوئی، خواجہ نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ میں تقریباً ہمیشہ آپ کی مجلس وعظ میں جایا کرتا تھا ایک روز میں حاضر ہوا تو آپ نے یہ رباعی پڑھی۔ رباعی لب بر لب لعلِ دلبراں خوش کردن داہنگ سرِ زلف مشوش کردن امروز خوش است و لیک فردا خوش نیست خودرا چوخسی طعمہ آتش کردن ترجمہ: (اپنے لب کو معشوقوں کے لب لعلاں پر خوشی کرنا اور ان کی پریشان زلفوں سے کھیلنا آج تو اچھا نظر آتا ہے لیکن کل کو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا، اپنی ذات کو گھاس وغیرہ کی مانند آگ کے سپرد کردینا کوئی اچھا کام نہیں) (محبوب الٰہی) نے جب یہ اشعار سنے تو ایک طویل عرصہ تک بےخودی کے عالم میں رہا اور ایک مدت کے بعد ہوش میں آیا، اللہ ان پر رحمتیں نازل کرے۔ اخبار۔۔۔
مزید
استاذ الا فاضل ، عارف کامل حضرت مولانا فتح محمد ابن سجاول خاں ابن تبر یز خاں بمقام موضع حبیب کے ، بہاول نگر ۱۳۰۴ھ؍۱۸۸۶ء میں پیدا ہوئے آپ کے والد ماجد زاعت پیشہ اور وٹو خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے مولانا سلطان محمود (بیراں بدھی ضلع حصار) ،مولانا سلطان محمود افغانی ، مولانا سلطان محمود مدرس مدرسہ فتح پوری دہلی اور اجمیر شریف مدرسہ معینیہ میں مولانا علماہ مدین الدین اجمیری سے علوم کی تحصیل کی حدیث شریف مدرسہ عبد الرب دہلی میں مولانا عبد العلی محدث پڑھی، ۲۴؍ذوالقعدہ المبارکہ ، (۱۳۳۰ھ؍۱۹۱۲ئ) کو تمام علوم کی تحصیل سے فارغ ہوئے۔ حضرت خواجہ غلام رسول توگیروی کے خلیفۂ مجاز حضرت خواجہ عبد الحلیم (حویلی لکھا ،ضلع ساہیوال ) سے بیعت ہوئے اور سلسلۂ چشتیہ نظامیہ میں خلافت سے ۔۔۔
مزید
خواجہ نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ کیتھل میں ایک بزرگ رہتے تھے جنہیں لوگ صوفی بدھنی کہا کرتے تھے وہ اس قدر تارک الدنیا تھے کہ ستر پوشی تک نہ کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا کہ جو اس قدر کھائے کہ اس سے بھوک ختم ہوجائے اور قوائے بدن برقرار رہیں، نیز اتنا کپڑا پہنتا ہو کہ اس سے ستر پوشی ہوجاتی ہو تو ایسے آدمی کی اتباع کرنی چاہیے لیکن اس قول کے خلاف ان کا اپنا عمل یہ تھا کہ نہ خود کھاتے اور نہ ہی پیتے تھے، فوائد الفواد میں بھی ان کی یہی کیفیت لکھی گئی ہے۔ خیرالمجالس میں شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی سے نقل کیا گیا ہے کہ صوفی بدھنی کو عبادت کا بے اتہا ذوق و شوق تھا، مسجد میں رہتے اور شب و روز محراب کے سامنے نماز پڑھتے رہتے، اس کے علاوہ آپ کا اور کوئی کام نہ تھا آپ کے پاس لوگوں کا ہجوم لگا رہتا تھا ایک دن کچھ علمائے کرام آپ کی خدمت میں تشریف لائے آپ نے ان سے دریافت ۔۔۔
مزید
آپ اپنے زمانے کے بڑے فاضل بلکہ صدرالافاضل تھے اور اپنے زمانے میں علم و فضل کی وجہ سے مشہور تھے، شیخ نظام الدین اولیاء کے اساتذہ میں سے تھے اور خواجہ نظام الدین نے مقامات حریری انہیں سے پڑی تھی شہر کے اکثر و بیشتر علماء آپ ہی کے شاگرد تھے، خواجہ نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ جب میں کسی عذر سے ناغہ کرکے دوسرے دن حاضر ہوتا تو آپ فرماتے آخر کم از آنکہ گاہے گاہے آئی و بماکنی نگا ہے! ترجمہ: (کبھی کبھی ہمارے ہاں آکر ہمارے حال پر نظر کرلیا کرو) اس وقت کی مشہور شاعر تاج زمرد نے آپ کی شان میں کہا ہے صدر اکنوں بکام دل و دوستاں شوی مستونی ممالک ہندوستان شوی ترجمہ: (اے صدر! اب آپ دوستوں کے دل کے مطابق ہوگئے ہیں، یعنی ہندوستان کے بلاد کے آپ سربراہ مقرر ہوگئے ہیں) اخبار الاخیار۔۔۔
مزید