پیر , 22 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 08 June,2026

پسنديدہ شخصيات

شیخ ابوعثمان جیری قدس سرہ

  نیشا پور  کے ایک جیرہ میں پیدا ہوئے اور اسی نام سے مشہور ہوئے، آپ حضرت شاہ شجاع کرمانی﷫ کے مرید ہوئے اور ابوحفص حداد یحییٰ بن مفاذ رازی کی مجالس میں بیٹھتے بڑے صاحب کشف و کرامات تھے آپ اپنے ہم عصر صوفیاء میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ چنانچہ شیخ الشیوخ حضرت مخدوم علی ہجویری لاہوری قدس سرہ اپنی کتاب کشف المحجوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابوعثمان کو اللہ تعالیٰ نے تین بزرگانِ دین سے تین مقامات دیے تھے۔ حضرت یحییٰ بن معاذ سے مقام رجا عطا ہوا، حضرت شاہ شجاع کرمانی﷫ سے مقام عبرت حاصل کیا۔ اور حضرت ابوحفص حداد قدس سرہ سے مقام شفقت حاصل ہوا۔ سفینۃ الاولیاء کے مولف حضرت دار اشکوہ  نے لکھا ہے کہ ابوعثمان جیری نے حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی حضرت رویم، حضرت یوسف ابن حسین اور حضرت محمد فضیل  بلخی رحمۃ اللہ علیہم کی مجالس سے استفادہ کرتے تھے۔ ریاضت میں یگانۂ روزگار تھے ابتدائی عمر کے بیس سا۔۔۔

مزید

سید کریم مشغول سمنانی

حضرت سید کریم مشغول سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شیخ ابوحمزہ بغدادی قدس سرہ

  آپ کا اسم گرامی محمد بن ابراہیم تھا، آپ کو بشر حافی سری سقطی، ابوتراب بخشی﷫ سے بڑی محبت تھی، آپ شیخ حارث مریس کے مرید تھے ایک بار بغداد کے بازار میں سے گزر رہے تھے۔ یاد الٰہی میں اس قدر مستغرق تھے کہ دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہی، سوچتے سوچتے شہر سے باہر جا نکلے جب ہوش میں آئے تو دیکھا کہ ایک وادی میں کیکر کے درخت کے نیچے کھڑے ہیں۔ یہ وادی بغداد سے چار میل دور تھی۔ نفحات الانس کے مؤلف نے آپ کا سن وفات ۲۸۹ھ لکھا ہے۔ شہ روئے زمیں ابوحمزہ بہر تاریخ رحلتش سرور   مرشد اہل دین ابوحمزہ گو محب یقین ابوحمزہ ۲۸۹ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ عباس بن حمزہ قدس سرہ:

  آپ کی کنیت ابولفضل اور اصل نیشاپور تھا۔ مشائخ وقت میں شمار ہوتے تھے۔ حضرت ذوالنون مصری اور با یزید بسطامی سے دوستی تھی۔ ماہ ربیع الاوّل ۲۸۸ھ میں وفات پائی۔ چوزیں دنیائے دو ن فرمود رحلت بجستم سال ترحیلش  خرو گفت   جناب شاہ عالی ابن حمزہ حبیب عباس ہادی ابن حمزہ ۲۸۸ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ احمد بن عیسیٰ خراز

  اسم گرامی احمد بن عیسیٰ لقب خراز اور طریقہ خرازیہ کے بانی تھے۔ آپ علماء شریعت اور مشائخ طریقت اور قطب الوقت زمانۂ خود تھے۔ علم تصوف میں چار سو سے زیادہ کتابیں لکھی تھیں ذوالنون مصری، سری سقطی اور بشر حافی سے صحبت رکھتے تھے۔ سب سے پہلے جس صوفی نے فنا و بقا کی اصطلاحات رائج کیں وہ حضرت ابوسعید ہی تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ عنفوان جوانی میں اللہ تعالیٰ نے مجھے  ظاہری حسن و جمال سے نوازا تھا، ایک شخص میری اس شکل پر عاشق ہوگیا، میں اس سے کنارہ کشی کرتا۔ ایک دن میں ایک وادی میں آیا، تھوڑا سا فاصلہ چلا تو دیکھا کہ وہ شخص میرے پیچھے پیچھے آ راہ ہے، کہنے لگا اس وادی میں مجھ سے کہاں بچ کر جاؤ گے، میرے نزدیک ہی ایک کنواں تھا، میں نے کنویں میں چھلانگ لگادی، اللہ نے مجھے بچالیا، وہ شخص کنویں کے کنارے پر بیٹھ کر رونے لگا، میں نے اللہ سے پناہ مانگی اور کہا اے اللہ تو اس بات پر قادر ہے کہ مج۔۔۔

مزید

شیخ سہیل بن عبداللہ تستری﷫

  آپ کی کنیت ابو محمد تھی آپ اپنے زمانہ کے اکابر علماء کرام اور مقتدر اولیاء عظام میں سے تھے عراق کے روحانی شہنشاہ تھے۔ علوم شریعت، طریقت حقیقت اور معرفت میں یکتائے روزگار تھے۔ حنفی مذہب کے پیروکار تھے۔ حضرت شیخ ذوالنون مصری کے جلیس خاص تھے ۔ سلسلۂ سہیلیہ کا آپ ہی سے آغاز ہوا تھا۔ اس طریقہ کی بنیاد اجتہاد و مجاہدہ نفس پر رکھی گئی ہے۔ آپ مادر زاد ولی تھے، فرمایا کرتے تھے مجھے یاد ہے جب اللہ تعالیٰ نے اَلستُ بربکم فرمایا تھا، تو میں ان لوگوں میں سے موجود تھا، جنہوں نے قالو بلی کہا تھا، مجھے ماں کے پیٹ کے حالات سارے یاد ہیں، آپ فرمایا کرتے میں ابھی تین سال کا تھا کہ قیام اللیل پر کار بند تھا، چھ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا تھا، اور روزہ رکھتا تھا، بارہ سال کی عمر میں علوم شرعیہ میں ممتاز ہوگیا تھا۔ نوعمری میں حضرت سہیل بن عبداللہ سال بھر کے لیے ایک درہم کے جو خریدتے، اور کھاتے رہتے۔۔۔

مزید

شیخ عبداللہ مختار﷫

  آپ کا نام محمد بن احمد تھا اور ہرات کے رہنے والے تھے۔ ہرات کے متقدمین میں سے تھے آپ ابوالمعلی بن مختار  العلوی الحسینی کے مرشد تھے۔ آپ فرمای کرتے تھے کہ کھانا ایسا کھاؤ کہ معلوم ہو کہ تم نے کھایا ہے اتنا نہ کھاؤ کہ ایسا محسوس ہو کہ طعام تمہیں کھا رہا ہے اگر تم کھاؤ گے تو سارا کھانا نور بن جائے گا۔ اگر وہ تمہیں کھاتا رہا تو سارا کھانا دھواں (گیس) بنے گا۔ آپ ۲۷۷ھ میں فوت ہوئے۔ مزار مبارک ہرات میں ہے۔ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید