شمس العلماء، زبدۃ الاصفیاء حضرت مولانا شاہ عبدالحق محدث، کان پور کے مشہور بزرگ حضرت مولانا شاہ سید غلام رسول معروف بہ دادامیاں المتوفی ۱۲۲۱ھ کے بڑے فرزند تھے، کانپور میں ولادت ہوئی اور نشوونماپائی، علامہ فضلحق خیر آبادی سےلکھنؤ میں تحصیل علم کیا، فراغت کے بعد حج وزیارت کے لیےگئے۔ واپسی میں ایک مدت تک کان پور میں درس دیتےرہے، ۔۔۔۔ آپ نہایت ذکی و زہین اور صائب الرائے اور شیریں کلام اور صاحب تقویٰ تھے۔ نواب کلب علی خاں دائی رام پور کی دعوت پر رام پور گئے اور ایک مدت تک وہاں مقیم رہے، پھر حیدر آباد کا سفرکیا، نواب وقار الامراء نے اپنے محل فلک نما میں آپ کے مواعظ کا انتظام کیا اور آپ سے بیت کی، ۱۳۱۲ھ میں حیدر آباد دکن میں آپ کا وصال ہوا، وہیں مدفن ہے۔ ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا عبدالقادر بن فضل اللہ ۱۲۵۱ھ میں حیدر آباد میں پیدا ہوئے اعلیٰ حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ معین الحق، فضل رسول حضرت مولانا شاہ محمد زماں صاحب شاہجہانپوری وغیرہ سے علوم و فنون پڑھا، بعدہٗ حج وزیارت سےمشرف ہوئے، علمائے ھرمین سے سندیں حاصل کیں، فقہ واصول میں مہارت تامہ رکھتے تھے، تدریس کے ساتھتصنیف کا بھی ذوق تھا، سوط الرحمٰن علی ظھر الشیطان، نور الایمان وغیرہ آپ کی تصانیف ہیں ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ میں حیدر آباد میں فوت ہوئے۔ ۔۔۔
مزید
رسٹرا ضلع بلیا وطن پیدائش اور نشوانما ابتدائی تعلیم وتربیت وہیں پائی، دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور ضلع اعظم گڈھ کے اساتذہ سےاخذ علوم کر کے سند فراغت حاصل کی، فرائض راقم سطور کےاستاذ علامہ محمد نظام الدین سابق صدر المدرسین مدرسہ عالیہ رام پور سے سیکھا کٹیہار۔ ضلع پورنیہ کے مدرسہ بحرالعلوم میں چھ ماہ قیام کر کے حضرت ملک العلماء مولانا شاہ محمد ظفر الدین فاضل بہار سے ہئیت وتوقیت کا درس لیا، تقریباً بیس۲۰برس سے دارالعلوم اشرفیہ میں مدرس دوم کے منصب پر فائز ہیں، اور اس کے علمی روح رواں ہیں، درس نظامی کے پورے نصاب پر یکساں مہارت ہے مانداز تفہیم خوب پایا ہے۔۔۔ مجدد مأتہ اربع عشر مولانااحمد رضا بریلوی کے مجموعۂ فتاویٰ ‘‘فتاویٰ رضویہ’’ کی ضخیم مجلدات جلد سوم، چہارم کی تصحیح وطباعت آپ کی ہمت کو توجہ سے ہوئی۔۔۔۔۔ جلد پنجم بھی جلد ہی چھپنے والی ہے۔ ہیعت واردات حضرت صدر الشریعہ امام امجد علی اعطمی قدس ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا عبید اللہ مکی ابن حضرت مولانا شیخ عبد الکریم مکی، کبار علماء حرمین شریفین سے اخذ علوم کیا، تصوف کی کتابیں اعلیٰ حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ معین الحق فضل رسول بد ایونیقدس سرہٗ سے پڑھیں، اپنے زمانہ کے جلیل القدر عالم اور استاذ الاساتذہ تھے علم نواز روساء بمبئی و مہر وفتویٰ تھے، پیر ومرشد کی محبت والفت میں شیدا تھے، خود کو بد ایونی تحریر فرماتے، ہر سال حج کےلیے تشریف لےجاتے، مولانا سید شاہ غلام حسین جونا گڈھی آپ کے مشہور خلیفہ تھے، اور نامور ہزاروی فاضل جلیل حضرت علامہ محمد عمر الدین قادری ہزاروی آپ کے شاگرد رشید تھے۔ (اکمل التاریخ حصہ دوم) ۔۔۔
مزید
سال پیدائش تقریباً ۱۹۰۹ء، اگر ہرا،ضلع بستی وطن، مولد ومنشا، اُستاذ العلماء حضرت مولانا مشتاق احمد کان پوری سے مدرسہ شمس العلوم بد ایوں، دارالعلوم کانپور میں تعلیم پائی، حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم سید نعیم الدین فاضۂ مراد آبادی سے بیعت کا تعلق قائم کیا فراغت کے بعد تلسی پور میں مدرسہ انوار العلوم قائم کیا، گونڈہ، بستی، بہرائچ میں علم دین کا اُجالا آپ ہی کی ذات سے پھیلا، آپ نے غیر مقلدین کے ساتھ مختلف مقامات پر مناظرے کیے، اور اُن کے رد میں آپ نے متعدد رسالے تالیف کیے، آپ کی شخصیت وجیہہ، بارعب، پروقار ہے، ۔۔۔
مزید
حضرت علامہ مولانا حکیم عزیز غوث بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام ونسب: آپ علیہ الرحمہ کا اسمِ گرامی حکیم عزیزغوث بریلوی بن شاہ فضل غوث بریلوی بن شاہ آل احمد اچھے میاں ہے۔(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم) آپ کا سلسلہ ٔ نسب چند واسطوں سے امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ تحصیلِ علم : آپ نے تمام مروجہ علوم اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں رہ کر حاصل کئے۔حکیم عزیز غوث صاحب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے خاص تلامذہ میں سے تھے۔ بیعت وخلافت: تحصیلِ علم کے ساتھ ساتھ آپ نے اعلیٰ حضرت سے ہی بیعت کی اور خلافت واجازت بھی عطا فرمائی۔ سیرت وخصائص:حضرت مولانا حکیم عزیز غوث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ جامع کمالات ظاہری وباطنی، متقی، متورع اور جوادو سخی تھے۔آپ نے اپنے استادِ محترم اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت کو اپنایا۔ جس طرح آپ کے ش۔۔۔
مزید
حضرت مولانا شاہ محمد عمر وارثی رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا ہدایت رسول رام پوری کے صاحبزادے، عالم و فاضل، حافظ وقاری ادیب وشاعر و واعظ، لکھنؤ میں مذہب اہل سنت کےروشن مینار تھے، اور آپ کے دم سے لکھنؤ میں سُنّیت کی روشنی قائم تھی، آپنے پریس واخبار کی طاقت کا اندازہ کرتےہوئےمؤقر ماہنامہ سُنی جاری فرمایا، کاتب سطور کے والد ماجد اور پیر و مرشد فضیلت مآب، امین شریعت بُرہان الاصفیاء مولانا شاہ الحاج رفاقت حسین صاحب قبلہ مدظلہ اس کے سر پرست تھے راقم سطور تعطیل کلاں کی رخصت کے بعد رام پور جاتےہوئے لکھنؤ رک کر ملاقات کےلیےآپ دولت کدہ آریہ نگر پہونچا تو معلوم ہوا کہ ابھی حضرت موصوف کو سپرد خاک کرنے کے لیے قبرستان لےجایا گیا ہے، خدا کی آپ پر بےشمار رحمتیں ہوں، آپکےدل میں دین کا بڑا درد تھا، دامے درمے، قدمے، سخنے دین کی خدمت فرماتے تھے، 11-اپریل 1962ء 6ذی قعدہ 1381ھ کو وصال ہوا۔۔۔۔
مزید
سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ القرشی: طبرانی نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اجازۃً حسن بن احمد سے، انہوں نے احمد بن عبد اللہ سے (ابو موسیٰ کہتے ہیں) انہوں نے ابو طالب کوشیدی سے، انہوں نے ابوبکر بن ربذہ سے۔ ان دونوں نے سلیمان بن احمد سے انہوں نے اسحاق بن ابراہیم دہری سے، انہوں نے عبد الرزاق سے انہوں نے اسرائیلی یعنی ابن یونس سے، انہوں نے سماک بن حرب سے انہوں نے معبد القرشی سے روایت کی: کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قدید میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا۔ آیا آج تم نے کچھ کھایا ہے؟ اس نے عرض کیا۔ کھایا تو کچھ نہیں، لیکن پانی ضرور پیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آج یوم عشورہ ہے۔ اس لیے اب کچھ نہ کھانا اور باقی وقت کے لیے روزہ رکھ لینا اسی طرح تمہارے آگے پیچھے جو لوگ ہیں، انہیں بھی کہنا کہ وہ روزہ رکھ لیں۔ ابو نعیم۔۔۔
مزید
: طبرانی نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اجازۃً حسن بن احمد سے، انہوں نے احمد بن عبد اللہ سے (ابو موسیٰ کہتے ہیں) انہوں نے ابو طالب کوشیدی سے، انہوں نے ابوبکر بن ربذہ سے۔ ان دونوں نے سلیمان بن احمد سے انہوں نے اسحاق بن ابراہیم دہری سے، انہوں نے عبد الرزاق سے انہوں نے اسرائیلی یعنی ابن یونس سے، انہوں نے سماک بن حرب سے انہوں نے معبد القرشی سے روایت کی: کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قدید میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا۔ آیا آج تم نے کچھ کھایا ہے؟ اس نے عرض کیا۔ کھایا تو کچھ نہیں، لیکن پانی ضرور پیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آج یوم عشورہ ہے۔ اس لیے اب کچھ نہ کھانا اور باقی وقت کے لیے روزہ رکھ لینا اسی طرح تمہارے آگے پیچھے جو لوگ ہیں، انہیں بھی کہنا کہ وہ روزہ رکھ لیں۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا۔۔۔
مزید
حضرت شاہ قیام الحق قدس سرہٗ کے بیٹے، مولانا معشوق علی جون پوری المتوفی ۱۲؍رمضان ۱۲۶۸ھ اور مولانا محمد شکور مچھلی شہری المتوفی ۲۱؍ذی الحجہ ۱۳۰۰ھ سے اخذ علوم کیا، فراغت کے بعد آخر عمر تک درس کا شغل جاری رکھا، طلبہ کےخوردو نوش کا انتظام اپنے پاس سے کرتےتھے۔ اپنےوالد ماجد کے مرید تھے اور اجازت وخلافت بھی انہیں سے رکھتے تھے، والد کی وفات ۹؍محرم ۱۲۶۵ھ کے بعد خانقاہ رشیدیہ جون پور کے سجادہ نشین ہوئے، حج وزیارت کے لیے جب مکہ معظمہ حاضر ہوئے تو حضرت شاہ امدامد اللہ مکی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اجازت وخلافت حاصل کی،۔۔۔۔۔ آپ میں توکل، استغناء، غیرت، شفقت اور مروت بہت تھی، غرباء ومساکین کی آپ کے یہاں بہت قدر ومنزلت تھی۔۔۔۔۔ میانہ قد، آفتابی چہرہ، کشاں پیشانی، دوہرایدن، گورا چٹارنگ تھا، کہ لوگوں کو سامنے ج انے یا بات کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی ۶؍ذی الحجہ۱۳۰۷ھ کو جان جاں آفریں کے سپرد کی، مزار ۔۔۔
مزید