بن ولید بن مغیرہ مخزومی: خالد بن ولید کے بھائی اور مولفہ القلوب سے تھے لیکن اس میں اشتباہ پایا جاتا ہے۔ ابو عمر نے اختصار سے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن زیاد بن عطیف: ایک روایت میں یوں آیا ہے ملحان بن عطیف بن حارثہ بن سعد بن خزرج بن امرو القیس بن عدی بن اخرم طائی۔ عدی بن حاتم کے بھائی تھے اسلام لائے اور حضور کی خدمت میں حاضر ہُوئے۔ حضرت ابو بکر صدیق کی گفتگو سُنی۔ مہماتِ شام اور فتح دمشق میں موجود تھے۔ ابو عبیدہ بن جراح نے انہیں خالد بن ولید کے ساتھ حمص روانہ کیا تھا، یہ بلا ذری کا بیان ہے۔ معرکہ صفین میں یہ امیر معاویہ کے لشکر میں تھے۔ اور عدی بن حاتم حضرت علی کے لشکر میں۔۔۔۔
مزید
بن شبل البکری: ایک روایت میں قیسی آیا ہے۔ یہ عبد الملک کے والد تھے، ایک روایت میں قتادہ بن طحان مذکور ہے اور ان سے صرف ایک حدیث مذکور ہے۔ ابو احمد بن سکینہ نے باسنادہ ابو داؤد سے، انہوں نے محمد بن کثیر سے، انہوں نے ہمام سے انہوں نے انس بن سیرین سے انہوں نے ابن ملحان قیسی سے، انہوں نے اپنے والد سے سُنا، کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض کے روزے کی تاکید فرمایا کرتے اور کہتے کہ بارہویں، تیرہویں اور چودہویں تاریخوں کے روزے، عمر بھر کے روزوں کا حکم رکھتے ہیں۔ شعبہ اور انس بن سیرین کے ناموں میں اختلاف ہے، ابو الولید طیاسی، مسلم بن ابراہیم اور سلیمان بن حرب نے شعبہ سے انہوں نے عبد الملک بن ملحان سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی۔ مگر ابو الولید کی روایت میں عبد الرحمٰن بن ملحان مذکور ہے، جو غلط ہے۔ یزید بن ہارون کی روایت میں یوں آیا ہے، شعبہ نے انس سے انہوں نے عبد الملک بن منہال سے انہوں۔۔۔
مزید
بن ربیعہ: انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی لیکن ان کی حدیث مرسل ہے عبد الرحمان بن بشیر نے محمد بن اسحاق سے انہوں نے عبد اللہ بن ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے انہوں نے ہلال بن ربیعہ سے روایت کی کہ بنو عائد مخزومی کی تلوار غزوۂ بدر میں ان کے ہاتھ لگ گئی۔ جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کی واپسی کا حکم دیا تو میں نے اسے مالِ غنیمت کے ڈھیر میں پھینک دیا جسے ارقم بن ابی ارقم نے پہچان لیا چنانچہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگ لی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عطا فرمادی۔ یہ ابن مندہ کا قول ہے۔ ابو نعیم نے بھی ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ بعض متاخرین نے بھی ان کا ذکر کیا ہے ابو نعیم لکھتے ہیں کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی لیکن ان کی حدیث مرسل سے جسے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے نیز وہ مالک بن ربیعہ ابو اسید ا۔۔۔
مزید
بن سعد: انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شہد بطور تحفے کے پیش کیا جو آپ نے قبول کرلیا۔ دوبارہ اسی طرح شہد پیش کیا اور کہا کہ یہ صدقے ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے صدقات میں شامل کردیا جائے اس سے علماء نے استنباط کیا کہ شہد سے بھی زکات وصول کیا جاسکتی ہے لیکن یہ حدیث منقطع الاسناد ہے ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
سمعان نے بیان کیا کہ انہیں عبد الوہاب بن علی نے باسنادہ سلیمان بن اشعت سے انہوں نے احمد بن شعیب حرانی سے انہوں نے موسیٰ بن اعین سے انہوں نے عمرو بن حارث المصری سے انہوں نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی کہ بنو سمعان کے ایک آدمی جن کا نام ہلال تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شہید کا عشر لے کر آئے اور درخواست کی، کہ وادی سلبہ ان کی تحویل میں دے دی جائے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست قبول فرمالی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا، تو سفیان بن وہب نے خلیفہ سے اس وادی کے بارے میں دریافت کیا خلیفہ نے لکھا کہ اگر ہلال تمہیں بھی وہ مواجبات ادا کرتا رہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتا تو وادی کو اس کی تحویل میں رہنے دو ورنہ اسے شہد کی مکھی سمجھو جو چاہے، اس سے فائدہ اٹھائے اصحاب ابو حنیفہ نے اس واقعہ کو کتب فقہ میں نقل کیا ہے ۔۔۔
مزید
بن عامر از بنو نمیر: ان کی کنیت ابن سحیم تھی ان کے والد کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی یہ ابن مندہ کا قول ہے اور انہوں نے با سنادہ وہب سے انہوں نے ایوب سے انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے قبیصہ سے روایت کی اور ان کے سوا باقی لوگوں نے ہلال بن عامر سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک دفعہ سورج کو گرہن لگا اور حدیث بیان کی اور ایک دوسرے اسناد سے جریر بن حازم سے روایت کی کہ ایک آدمی مجلس ایوب میں بیٹھا ہوا تھا کہ مجھ سے قرہ بن دعموص نمیری نے بیان کیا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضحاک بن قیس کو صدقات جمع کرنے کو روانہ کیا جب وہ واپس آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نمیر بن عامر، ہلال بن عامر اور عامر اور عامر بن ربیعہ کے ہاں گئے ہو اور ان کے بہترین جانور ہانک لائے ہو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے آپ کو جہاد کا ذکر کرتے سنا۔ اس ۔۔۔
مزید
بن ابی ثعلبہ: ان سے یہ حدیث مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہروز کی مذی کے سیلاب کے بارے میں فرمایا کہ پانی ٹخنوں تک پہنچ جائے تو اسے روک کر باقی پانی نچلے کھیت کو دیا جائے ان سے (مالک بن ابی ثعلبہ) سے محمد بن اسحاق نے روایت کی ہے۔ جعفر کا قول ہے کہ اس کی روایت یحییٰ بن یونس نے کی۔ یحییٰ کا قول ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے۔ کیونکہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ جناب مالک کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی تھی، کیونکہ ابن اسحاق کی کسی صحابی سے ملاقات ثابت نہیں، زیادہ سے زیادہ اس کی ملاقات تابعین سے منقول ہے۔ ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عامر المزنی: محمد بن عبید الطنافسی نے بنو فزارہ کے شیخ سے، جس نے ہلال بن عامر المزنی وغیرہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر یا اونٹ پر سوار دیکھا ابو موسیٰ نے مختصراً ذکر کیا ہے نیز وہ لکھتے ہیں کہ ہم ہلال بن عامر کا ذکر نمیر بن عامر کے ترجمے میں کر آئے ہیں۔۔۔۔
مزید
بن علفہ: جنگ قادسیہ میں شہید ہوئے حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ جس شخص نے سب سے پہلے دریائے دجلہ کو عبور کیا وہ ہلال بن علقہ تھے شعبی کہتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے دریائے دجلہ میں گھوڑا ڈالا۔ وہ سعد تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق دریا کو عبور کرنے والے بنو عبد القیس کے ایک آدمی تھے ابو عمر نے ہلال بن علقہ کا ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ مجھے ان سے کوئی روایت نہیں پہنچی۔ ابن اثیر کہتے ہیں کہ عبور دجلہ کا واقعہ جنگ قادسیہ کے موقعہ جنگ قادسیہ کے موقعہ پر پیش نہیں آیا کیونکہ دریائے دجلہ اور قادسیہ میں بڑا فاصلہ حائل ہے ان دونوں کے درمیان جو نہریں حائل ہیں ان میں سے ایک تو وہ نہر ہے جو اس قرب و جوار کی زمینوں کو سیراب کرتی ہے جن میں قادسیہ، حیرہ اور آس پاس کے علاقے شامل ہیں نیز دریائے فرات اور دریائے نیل بھی درمیان میں حائل ہیں(نہ معلوم دریائے نیل سے ابن اثیر کی کیا مراد ہے کیونکہ نیل تو براعظم افریقہ میں۔۔۔
مزید