آپ قاضی خان ہشتمی کے خلیفہ خاص تھے۔ زہد و تقوی میں بے مثال تھے تجرید و تفرید میں باکمال تھے علم و رضا صبر و تحمل میں درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے جس پر نگاہ ڈالتے خدا رسیدہ بنا دیتے تھے حالت وجد و سماع میں حالت اضطراب میں رہتے تھے آپ نے مجلس سماع میں ہی جان دے دی اس آیت کریمہ فَسبُحان الذی بیدہ الملکوت کل شی والیہ ترجعون کی سماعت پر جان دے دی۔ آپ کو جو شخص ایک بار دیکھتا سبحان اللہ سبحان اللہ پکار اٹھتا۔ آپ کی ولادت جونپور میں ۸۹۸ھ میں ہوئی اور وفات چھ مجاوی آلاخر ۹۷۵ھ کو ہوئی شیخ عبدالحق دہلوی نے اخبار الاخیار میں آپ کا قطعہ وصال اس طرح لکھا ہے۔ شیخ کامل عارف دَورانِ خود عبدالعزیز آنکہ می داد اہل دل رامجلسش یا داز بہشت ہرچہ از اوصاف اہل اللہ در عالم بود حق تعالیٰ را دل فطرت بذات اوسرشت یاد گار اہل حقیقت او بود ور دورانِ خویش گشت زاں تاریخ خوئش یادگار اہل چشت ۸۹۸ھ۔۔۔
مزید
آپ حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی قدس سرہ کے خلیفہ تھے بچپن میں اپنے والد مکرم کے ساتھ حضرت خواجہ محبوب الٰہی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہوئے۔ حضرت خواجہ کے وصال کے بعد آپ کے خلفائے کرام سے استفادہ کیا مولانا برہان الدین غریب، شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہما کے علاوہ دوسرے خلفاء سے سلوک چشتیہ میں تربیت پائی حضرت شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی کے ملفوظات میں ایک کتاب بحرالمجالس ترتیب دی یہ کتاب ۷۵۰ھ سے ۷۶۰ھ کی مجالس کے احوال پر مشتمل ہے۔ آپ بڑے کامل شاعر اور سخنور تھے۔ اگرچہ آپ قلندری سلوک کے بھی واقف تھے مگر قلندرانہ زندگی بسر نہیں کی تھی۔ ایک دن آپ بچپن میں اپنے والد کے ساتھ حضرت خواجہ محبوب الٰہی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضرت خواجہ نے دستر خوان بچھایا تو آپ نے ایک روٹی کے دو حصے کرکے ایک حصہ آپ کو دیا، شیخ حمید نے یہ روٹی کھانے کی بجائے اپنے پاس رکھ لیا ور باپ کے ساتھ باہ۔۔۔
مزید
آپ حضرت شیخ بہاؤالدین جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے تھے اور وقت کے بڑے مشائخ میں سے مانے جاتے تھے آپ کی عمر سو سال سے بھی زیادہ تھی آپ اس قدر ناتواں اور ضعیف تھے کہ جب تک آپ کو دونوں بازوؤں سے سہارا نہ دیا جاتا تھا اٹھ نہ سکتے تھے مگر اس ناتوانی کے باوجود مجلس سماع میں جب آپ پر رقت طاری ہوتی تو بغیر کسی سہارے کے اُٹھ کھڑے ہوتے وجد میں آجاتے اور یوں دکھائی دیتا کہ آپ پوری طرح تندرست ہیں۔ جن دنوں آپ کے والد حضرت شیخ بہاء الدین اپنے پیر و مرشد شیخ عیسیٰ قدس سرہ کی خدمت میں رہا کرتے تھے تو ہر روز صبح کی نماز حضرت شیخ کے پیچھے ادا کیا کرتے تھے آپ نے کبھی تکبیر اولیٰ قضا نہ کی ایک بار حضرت شیخ بہاء الدین کا ایک لڑکا فوت ہوگیا آپ تجہیز و تکفین میں مصروف رہے تو آپ کی تکبیر اولیٰ قضا ہوگئی اور آپ صبح کی نماز کی جماعت میں تشہد میں جا کر ملے نماز کے بعد حضرت۔۔۔
مزید
آپ شیخ نصیرالدین محمود کے بڑے خلیفہ تھے اور سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید تھے۔ اگرچہ آپ نے بچپن میں سلطان مشائخ سے بیعت کرلی تھی، لیکن تکمیل کے مراحل شیخ نصیرالدین کی نگرانی میں گزرے اس طرح آپ سلطان المشائخ کے اویسی تھے اور کئی بار خواب میں اُن کی زیارت بھی کی تھی اور ان سے خواب میں بیعت بھی کی، آپ کے والد اور دادا بھی حضرت شیخ کے مقربین میں سے تھے۔ مبارک بن سید محمد کرمانی سیرالاولیاء کتاب لکھی، یہ اتنی بے مثال اور مستند کتاب ہے جس میں چشتی بزرگوارانِ دین کے احوال درج ہیں، یاد رہے چشتی بزرگوں کے تذکرے میں سیرالاولیاء کے نام سے دو کتابیں مشہور و معروف ہیں۔ ایک بدرالدین اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی، جس میں حضرت خواجہ فرید شکر گنج کے ملفوظات ہیں، دوسری اسی نام کی کتاب سید محمد بن مبارک کرمانی کی ہے۔ شجرۂ چشتیہ میں آپ کا سن وفات سات سو ستر ہجری ہے۔ جبکہ فیروز شاہ ت۔۔۔
مزید
آپ بھی شیخ محمود چراغ دہلوی کے خلیفہ اور مرید تھے ظاہری علوم فقہ حدیث تفسیر میں بڑے ماہر تھے، آپ کی ایک مشہور کتاب تحفۂ نصائح ہے۔ اس میں احکام شرع فرائض اور سنتیں درج ہیں بڑی خوبصورت نظم میں لکھی گئی ہے اُس کا ہر ایک شعر لفظ پر ختم ہوتا ہے۔ کتاب کے آخر میں اپنے پیر کی یوں تعریف لکھتے ہیں: شیخ معظم پیر ما محمود آں صاحب قرآن چوں اونبا شد ہیچ کس ہم محتشم ہم معتبر عالم بعالم مثل او ہرگز ندیدہ مردمی اندر کرامت مثل او خیز و کجا دور قمر او بود شیخ مقتدا اور جائے مقتدا گشتند داعمی دیدہا چوں رفت آں اہلِ نظر گوہد یمی یوسف گدا در وعظ سخنے چند را از بر خلف خوش لقابو الفتح آں ابوالنصر آپ کی وفات ۷۷۴ھ میں ہوئی تھی۔ یوسف دین احمدی یوسف کرد چوں از جہاں بخلد مکان رحلتش یوسف حقیقت گو یوسف حسن ماہ تاباں داں ۔۔۔
مزید
آپ پیشہ کے اعتبار سے جولاہے تھے مگر حضرت شیخ سلیم فتح پوری کے مرید تھے ریاضت زہدو تقویٰ سے زندگی بسر کی اور صاحب کرامت و استقامت ہوگئے۔ آپ کا نام زہریلے جانوروں کے حملہ کے خلاف اکسیر کا کام کرتا ہے خصوصاً سانپ کا زہر آپ کے نام سے ہی معدوم ہوجاتا ہے آپ کوہ مانک پور میں رہا کرتے تھے۔ صاحب شجرہ چشتیہ نے آپ کا سال وفات ۹۸۲ھ لکھا ہے۔ با ہزاں اتقا شد در بہشت چوں تقی روشن ضمیر حق پرست بہر سال ارتحال آنجناب شد نداز عقل پیر حق پرست ۹۸۲ھ۔۔۔
مزید
آپ شیخ علی متقی کے مرید خاص تھے آپ گجرات میں بسنے والی قوم بوہڑہ سے تعلق رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو علمی اور روحانی کرامات سے نوازا تھا حرمین الشریفین میں ایک عرصہ تک رہے وہاں کے علماء مشائخ سے علمی استفادہ کرتے رہے۔ شیخ علی متقی کے بھی خاص شاگرد رہے۔ ایک عرصہ کے بعد واپس وطن آئے وطن میں آکر آپ نے اپنے علاقہ اور خاص کر اپنے قبیلوں میں رائج بدعات کی بیخ کنی شروع کردی اور لوگوں کو علم حدیث کی تعلیم دینے کے لیے کئی مدارس قائم کیے پھر تشریح احادیث پر بڑی مفید کتابیں لکھیں ان میں ایک کتاب صحابۂ کرام کے ذکر خیر میں ہے جس کا نام مجمع الجار ہے ایک اور کتاب جس میں اسماء الرجال کی تصحیح کی گئی ہے لکھی یہ بڑی مختصر مگر چند کتابیں ہیں۔ آپ نے اپنی تصانیف میں اپنے استاد علی متقی قدس سرہ کی بڑی تعریف کی ہے آپ اپنے پیر اور مرشد کی وصیّت کے مطابق اپنے شاگردوں کے لیے خود سیاہی تیار کرتے تھے۔ بعض اوقات س۔۔۔
مزید
آپ شیخ یوسف رحمۃ اللہ کے فرزند ارجمند تھے اور برہان پور کی ولایت کے صاحب منصب تھے بڑے متقی پرہیز گار اور ذوق و شوق کے مالک تھے۔ معارج الولایت میں لکھا ہے کہ آپ اپنی والدہ کے پیٹ میں بارہ سال تک رہے بڑے علاج کروائے گئے بڑے بڑے طبیبوں سے مشورے لیے گئے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا آخر بارہ سال کے بعد شیخ نظام الدین پیدا ہوئے چالیس دن گزرنے کے بعد والدہ نے غسل کیا اور مسکرا کر اپنے بیٹے کو کہنے لگیں میں تمہارے لیے بارہ سال تک کڑوی دوائیاں کھاتی رہی ہوں اور بڑی ہی تکلیف کا سامنا کرتی رہی ہوں ماں کی بات سُنتے ہی شاہ پکہاری نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا ’’اماں آپ سچ کہہ رہی ہیں وہ تمام کڑوی دوائیاں میں ہی بارہ سال آپ کے پیٹ میں رہ کر کھاتا رہا ہوں‘‘ ماں چالیس روزہ بچے کے منہ سے یہ بات سن کر حیران رہ گئیں اور اسی حیرانی اور ڈر میں فوت ہوگئیں آپ کی بڑی بہن بی بی الل۔۔۔
مزید
آپ حضرت مصباح العاشقیں ملاوہ رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے آپ کے والد نے شیر خوار گی کے دنوں میں ہی حضرت ملاوہ رحمۃ اللہ علیہ کی گود میں ڈال دیا تھا جنہوں نے دیکھتے ہی فرمایا یہ بچہ ہمارا مرید ہوگا۔ ابھی آپ کی عمر چار سال تھی کہ آپ کے مرشد حضرت ملاوہ وفات پاگئے۔ سن بلوغت کو پہنچے تواپنے پیر و مرشد کی روحانی تربیت اور فیضان سے بلند مراتب پر پہنچے۔ عشق و محبت میں باکمال ہوئے حضور و استقامت میں یگانہ روز گار ہوئے آپ نے بے شمار سفر کیے بزرگان دین کی مجالس سے فائدہ اٹھایا آپ کا کلام ہندی اور فارسی اشعار سے پُر ہے آپ کی ایک کتاب ہمایٔن وحوت بزنجش بڑی مشہور ہوئی اور ہندی اشعار میں راجن تخلص فرماتے تھے اور فارسی اشعار میں مشاقی فرماتے آپ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے چچا تھے۔ صاحب اخبار الاخیار نے آپ کی تاریخ ولادت ۸۹۷ھ اور وفات سے بستم ربیع ا۔۔۔
مزید
آپ حضرت مصباح العاشقیں ملاوہ رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے آپ کے والد نے شیر خوار گی کے دنوں میں ہی حضرت ملاوہ رحمۃ اللہ علیہ کی گود میں ڈال دیا تھا جنہوں نے دیکھتے ہی فرمایا یہ بچہ ہمارا مرید ہوگا۔ ابھی آپ کی عمر چار سال تھی کہ آپ کے مرشد حضرت ملاوہ وفات پاگئے۔ سن بلوغت کو پہنچے تواپنے پیر و مرشد کی روحانی تربیت اور فیضان سے بلند مراتب پر پہنچے۔ عشق و محبت میں باکمال ہوئے حضور و استقامت میں یگانہ روز گار ہوئے آپ نے بے شمار سفر کیے بزرگان دین کی مجالس سے فائدہ اٹھایا آپ کا کلام ہندی اور فارسی اشعار سے پُر ہے آپ کی ایک کتاب ہمایٔن وحوت بزنجش بڑی مشہور ہوئی اور ہندی اشعار میں راجن تخلص فرماتے تھے اور فارسی اشعار میں مشاقی فرماتے آپ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے چچا تھے۔ صاحب اخبار الاخیار نے آپ کی تاریخ ولادت ۸۹۷ھ اور وفات سے بستم ربیع ا۔۔۔
مزید