بن اجمل حارثی: بنو سدوس کے وفد کے ہمراہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ابو موسیٰ نے اختصاراً ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
الاسلمی: ایک روایت میں ہیفان مذکور ہے عبد اللہ بن زجر نے یزید بن ابی منصور سے انہوں نے عبد اللہ بن ہیبان سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مسلمان جسے وسعت و مقدرت حاصل ہے اگر فی سبیل اللہ صدقہ کرے، تو خالص کستوری کی طرح اس کی خوشبو ایک دن کی مسافت پر سونگھی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی غریب اور فاقہ زدہ مسلمان صدقہ کرے، تو خالص کستوری کی طرح اس کی خوشبو ایک سال کی مسافت پر سونگھی جاسکتی ہے ابو مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
یہ وہ مخنث ہے جس کا نام ماتع تھا اور جو کبھی کبھی ازواج مطہرات کے حجروں میں چلا جاتا تھا اور جسے بوجہ مخنث ہونے کے بے ضرر سمجھا جاتا تھا ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو یہ مخنث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی بی بی کے سامنے کسی خاتون کی تعریف کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا اسے سامنے سے دیکھو تو چار جتنی اور پیچھے سے دیکھو تو آٹھ جتنی معلوم ہوتی ہے یہ سُن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ ان باتوں کو سمجھتا ہے آئندہ اسے اندر مت آنے دو ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صحرا میں بھیج دیا۔ ہر جمعہ کو آتا کھانا کھاتا اور پھر لوٹ جاتا ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن جابر: حماد عمرو النصیبی نے عطاف بن حسن سے انہوں نے ہیکل بن جابر سے روایت کی کہ ایک موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد حرام کا طواف کرتے دیکھا اور وہ اس دوران میں خدا سے مخاطب ہوکر کہہ رہے تھے، اے خدا، اس مبارک گھر کے واسطے سے بھی تونے میرے گناہ معاف نہیں کیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا تیرا بھلا نہ ہو کیا تیرے گناہ زمین و آسمان سے زیادہ ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! معاملہ کچھ ایسا ہی ہے مجھے اللہ نے کافی مال و دولت سے نوازا ہے لیکن میری حالت یہ ہے کہ جب بھی کوئی سائل مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا مجھ سے دُور ہٹ کر کھڑا ہو خدا تجھ سے سمجھے اس کے بعد آپ نے بخل کی مذمت میں ایک حدیث بیان کی۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن معبد بن مالک بن عبید السدی(جن کا تعلق بقولِ ابو عمر، اسد بن خزیمہ سے ہے) ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا سلسلۂ نسب یوں بیان کیا ہے: وابصہ بن معبد بن عتبہ بن حارث بن مالک بن حارث بن بشیر بن کعب بن سعد بن حارث بن ثعلبہ بن دو دان بن اس بن خزیمہ اسدی ان کی کنیت ابو سالم تھی انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اولاً کوفہ میں سکونت اختیار کی پھر رقہ چلے گئے اور وہیں وفات پائی انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں ہیں ان سے ان کے دو بیٹوں عمرو اور سالم، نیز شعبی زیاد بن ابو الجعد وغیرہ نے روایت کی۔ کئی راویوں نے باسنادہ ہم جو ابو عیسیٰ ترمذی تک پہنچتا ہے بتایا کہ انہوں نے ہناد سے انہوں نے ابو الاحوص سے انہوں نے حصین سے انہوں نے ہلال بن سیاف سے روایت کی کہ زیاد بن جعد نے جب ہم رقہ میں تھے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک عمر رسیدہ آدمی کے پاس جس کا نام وابصہ بن معبد تھ۔۔۔
مزید
محلہ رکاب گنج خیر آباد میں ۱۲۶۲ھ میں ولادت ہوئی،آپ کے والد لطف حسین صدیقی فوجی قیادت اور امور سیاست کے ماہر تھے،اور پھول میں ملازم تھے،۲۲؍ربیع الاول ۱۳۱۲ھ میں وہ بھوپال ہی میں فوت ہوئے،لطف حسین صدیقی کے والد حضرت حسین ابن محمد پناہ اپنے وقت کے بڑے عالموں میں سے تھے،اور سلسلۂ قادریہ کے مشہور مرشد اور عبداللہ ابن عتیق محمد ابن عبد الرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہم کی اولاد میں تھے،اور سلسلۂ قادریہ کے مشہور مرشد اور عبداللہ ابن عتیق محمد ابن عبد الرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہم کی اولاد میں تھے، یہ وہ شجرۂ نسب ہے جس کو آپ کے فرزند حضرت فرد افراد مولانا محمد علی حسین علیہ الرحمۃ نے‘‘سیرت محمد اعظم’’ میں نقل فرمایا ہے۔۔۔۔۔ ‘‘تذکرۂ شعراء حجاز اردو’’ میں امداد صابری دھلوی صاحب نے مؤلف تذکرہ آثار الشعراء کے حوالے سے حضرت حسین صدیقی کا نام حکیم کادم حسین اور بحوالہ مؤلف تاریخ تاج الاقبال حضرت حسی۔۔۔
مزید
آپ غازی پوری کے نامور مشائخ خاندان کے ممتاز فرد تھے،علوم کی تکمیل اپنے بزرگ والد شاہ محمد فصیح علیہ الرحمۃ سے کی،آپ کو وعظ و تذکیر میں زبردست قبول عام حاصل تھا،آپ فصیح اللّسان تھے،غیر مقلدین کا آپ شدید رد فرماتے تھے،اسی بناء پر حکیم عبد الحئی مؤلف ‘‘نزہۃ الخواطر’’ نے آپ کو قلیل العلم وغیرہ قسم کی و شنام دی ہے،۱۶؍رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ کو غازی پور میں آپ کا وصال ہوا،مدفن بھی وہیں ہے اہل سنّت کے اسٹیج کے نامور فصیح اللّسان مقرر علامہ ابو الوفا فافصیحی غازی پوری ناظم اعلیٰ کل ہند جماعت رضائے مصطفیٰ آپ کے پوتے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
بن زرا الکلبی۔ یحییٰ بن یونس لکھتے ہیں کہ وازم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن مجھے کوئی سند یاد نہیں۔ محمد بن یزید بن زبان بن واسع بن علی بن وازم بن زر الکلبی نے روایت بیان کی کہ وازم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عائشہ بنت سعد کے بارے میں ایک طویل حدیث بیان کی ابن ماکولا نے بھی یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے اور اسی طرح جعفر نے ابن ماکولا نے ان کا نام و دان بن زر لکھا ہے اور محمد ن یزید کی حدیث میں ان کا ذکر کیا ہے اور ان کی بعض روایات میں اختلاف کا بھی ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن حبان بن منقذ الانصاری: ہم ان کا نسب ان کے والد اور دادا کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں بغوی نے الوحدان میں ان کا ذکر کیا ہے انہوں نے مدینہ میں سکونت اختیار کرلی تھی لیکن ان کی صحبت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ابو موسیٰ نے اذناً ابو علی سے، انہوں نے ابو نعیم سے، انہوں نے احمد بن یوسف سے انہوں نے عبد اللہ بن محمد البغوی سے، انہوں نے ہاشم بن ولید سے، انہوں نے ابن دہب سے انہوں نے عمرو بن حارث سے روایت کی کہ حبان بن واسع نے اپنے والد سے انہیں یہ روایت سنائی کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر اسی پانی سے مسح کیا، جس سے ہاتھ تر تھے۔ ہاشم بن ولید بن طالب نے ابن وہب سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے، انہوں نے حبان سے اور علی بن خشرم نے ابن وہب سے روایت کی کہ حبان نے اپنے والد سے اور انہوں نے عبد اللہ بن زید سے روایت کی اور یہ اسناد اصح ہے۔ عدوی لکھتا ہے کہ جناب ۔۔۔
مزید
بن مُشَہَّرْ: ایک روایت میں وبرہ مذکور ہے۔ یحییٰ بن محمود نے اجازۃً باسنادہ ابو بکر بن ابی عاصم سے انہوں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے انہوں نے عبد الرحمان بن شیبہ سے انہوں نے ابن ابی فدیک سے انہوں نے موسیٰ بن یعقوب سے انہوں نے حاجب بن قدامہ(جو عبد الرحمان بن قدامہ کے سوتیلے بھائی تھے) اور عبد الحمید سے(جو عبد اللہ بن سعید بن نوفل بن مساحق کے اخیانی بھائی تھے) انہوں نے عیسیٰ بن خیثم الحنفی سے انہوں نے وبر بن مشہر الحنفی سے روایت کی کہ مسیلمہ کذاب نے انہیں ابن نواحہ اور ابن شعاف کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔ آخر الذکر دونوں جناب وبر سے عمر میں بڑے تھے، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوکر اقرار کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام نبوت میں پہلا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسیلمہ کا نمبر آتا ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف توج۔۔۔
مزید