منگل , 18 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 05 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا مدرک ابو الطفیل الغفاری رضی اللہ عنہ

  ان کی حدیث کا ذریعہ ان کی اولاد ہے۔ ہمیں یحییٰ بن ابو الفرج نے جیسا کہ انہیں باسنادہ ابو بکر احمد بن عمر و نے انہیں یعقوب بن حمید نے انہیں عثمان بن حمزہ نے بتایا کہ انہیں کثیر بن زید نے خالد بن طفیل بن مدرک سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی کہ انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کو مکے سے لانے کے لیے بھیجا اور اسی اسناد سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے بعد سر اُٹھاتے تو مندرجہ ذیل دعا مانگا کرتے۔ اَللَّھُمَّ اَعُوْذُ بِرَضْاکَ مِنْ سَخطِکَ وَاَعْوُذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عَقُوُبِتکْ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْکَ لَا اُبَلِغَ ثَنَاءً عَلَیْکَ کَمَا اثنیت عَلٰی نَفْسِکَ۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔

مزید

سیّدنا مدرک بن عمارہ رضی اللہ عنہ

یہ صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے آئے تو آپ نے ہاتھ کھینچ لیا، کیونکہ انہوں نے ہاتھوں پر خوشبو لگائی ہوئی تھی۔ چنانچہ جب انہوں نے ہاتھ دھوئے، تو بیعت فرمائی۔ لیکن اس حدیث میں کچھ گڑبڑ ہے اور ان کی صحبت کے بارے میں شبہ ہے۔ اگر اس سے مراد مدرک بن عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط ہے تو ان کی صحبت ثابت نہیں۔ اور نہ ملاقات اور رویت ہی ثابت ہے۔ اور اس حدیث کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اور اگر اس روایت کا انتساب ان کے والد عمارہ بن عقبہ سے کیا جائے جب بھی درست نہیں اور ہم نے اس کی وضاحت ولید بن عقبہ کے ذکر میں کردی ہے۔ یہ ابو عمر کا قول ہے اور اسی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مدرک بن عوف رضی اللہ عنہ

البجلی احمسی: انہیں صحبت میّسر آئی، جعفر نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ یہی ابو موسیٰ کا قول ہے۔ ابو عمر کا قول ہے کہ ان کی صحبت کے بارے میں اور نیز اتصال حدیث کے متعلق اختلاف ہے اور ان سے قیس بن ابی حازم نے روایت کی ہے۔ قیس کبار صحابہ سے بھی روایت کرتے ہیں۔ جنابِ مدرک نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مدعم رضی اللہ عنہ

یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ حبشی غلام ہیں، جنہیں رفاعہ بن زید الجذامی نے آپ کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا تھا۔ اور جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد فرما دیا تھا، اور ایک روایت میں ہے کہ آزاد نہیں فرمایا تھا انہوں نے غزوۂ خبیر میں مالِ غنیمت سے ایک چادر ہتھیا لی تھی۔ اور قتل ہوگئے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اس چادر نے جہنم کی آگ کو ضرور بھڑکایا ہوگا۔ ہمیں عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس بن بکیر سے اُنہوں نے ابو ہریرہ سے روایت کی کہ مجھے ثور بن زید نے سالم مولی عبد اللہ بن مطیع سے انہوں نے ابو ہریرہ سے روایت کی کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر سے واپسی پر وادی قری میں پہنچے، تو جب یہ حبشی غلام جو رفاعہ نے حضور کو دیا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ ایک اور آدمی کے ساتھ اتار رہے تھے کہ انہیں ایک تیر جو۔۔۔

مزید

سیّدنا مدلج الانصاری رضی اللہ عنہ

ابو صالح نے عبد اللہ بن عباس سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین اوقت میں پردہ پوشی کا حکم یوں نازل فرمایا، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری غلام مدلج نامی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے بھیجا۔ وہ سوئے ہوئے تھے۔ غلام نے دروازہ کھولا تو حضرت عمر بیدار ہوئے۔ اور ان کی شرمگاہ ننگی ہوگئی اور غلام کی نظر پڑگئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوگیا۔ دل میں کہا۔ کاش اللہ تعالیٰ ہمارے بیٹوں، عورتوں اور نوکروں کو ان اوقات میں ہمارے تخلیے میں دخل انداز ہونے سے روک دے۔ چنانچہ وہ آیت نازل ہوئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو دعا دی۔ ابن مندہ ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مدلج بن عمر و السلمی رضی اللہ عنہ

یہ نبو عبد الشمس کے حلیف تھے اور ایک روایت میں ان کا نام مدلاج بن عمر مذکور ہے، یہ حضور اکرم کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک ہوئے اور ۵۰ ہجری میں وفات پائی۔ ابن کلبی لکھتا ہے کہ مالک، ثقف اور صفوان بنو عمر و جونبو حجر بن عباد بن یشکر بن عدوان سے تھے۔ سب غزوۂ بدر میں موجود تھے اور وہ بنو عدوان سے تھے۔ جو بنو غنم بن دو دان بن اسد سے تھے۔ اور اسی وجہ سے انہیں اور ان کے بھائیوں کو بنو عبد شمس کا حلیف شمار کیا جاتا ہے۔ کیونکہ بنو غنم بن دودان بنو عبد شمس کے حلیف تھے اور یہ ان کے حلیف تھے۔ واللہ اعلم۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے لیکن ابو عمر اور ابن مندہ نے انہیں سلمی، اسلمی یا اسدی شمار کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مدلوک ابو سفیان الفزاری رضی اللہ عنہ

ان کے مولی اسلم باقی موالی کی معیت میں حضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ مطر بن علاء الفزاری نے اپنی چچی آمنہ بنت ابی الشعشاء کی زبانی ابو سفیان مدلوک سے بیان کیا ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موالی کے ساتھ حاضر ہوئے۔ حضور نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعائے برکت فرمائی چنانچہ جہاں ان کے سر پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ رکھا تھا۔ وہاں بال عمر بھر سیاہ رہے اور باقی آہستہ آہستہ سفید ہوگئے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مذعوربن عدی العجلی رضی اللہ عنہ

اہل عراق سے تھے کہتے ہیں، انہیں صحبت میّسر آئی۔ حضرت خالد بن ولید کے ساتھ دمشق کے محاصرے اور یرموک کی جنگ میں موجود تھے۔ ایرانیوں کے خلاف جنگ میں انہوں نے بعض کار نامے انجام دیے تھے۔ ابوالقاسم دمشقی نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مذکور العذری رضی اللہ عنہ

انہیں حضور اکرم کی صحبت نصیب ہوئی۔ وہ حضور کے ساتھ غزوہ دومتہ الجندل میں شریک تھے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ابوالقاسم نے اپنی تاریخ میں ان کا ذکر کیا ہے۔ حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس دومتہ الجندل پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ بلکہ خالد بن ولید کی کمان میں لشکر روانہ فرمایا تھا۔ اکثر اس لشکر ہی کو دلیل مان لیا جاتا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مذکور القبطی رضی اللہ عنہ

جعفر نے ان کا ذکر کیا ہے اور باسنادہ اعمش سے انہوں نے سلمہ بن کہیل سے انہوں نے عطا سے انہوں نے جابر سے روایت کی کہ ایک انصاری نے ایک قبطی غلام کو جو دبر کا باشندہ تھا، آزاد کیا یہ محتاج تھا اور مقروض تھا۔ غلام کا نام مذکور تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سو درہم سے خرید کر قیمت اسے دے دی اور فرمایا کہ یہ رقم لے لو اور قرض ادا کر کے باقی اپنے اہل خانہ پر خرچ کرو۔ ابو الزہیر نے جابر سے روایت کی ہے اور بتایا ہے کہ غلام کا نام یعقوب تھا، اور جس انصاری نے آزاد کیا تھا۔ اس کنیت ابو مذکور تھی۔ یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ ابو موسی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید