بن عدی بن عجلان بن حارثہ بن ضبیعہ بن حرام جعل بن عمر و بن جشم البلوی! یہ بنو عمر و بن عوف کے حلیف تھے۔ ابن کلبی نے ان کا نسب بیان کیا ہے۔ طبری نے مری بن حباب بن عدی بن عجلان لکھا ہے۔ غزوۂ احد میں شریک تھے۔ کلبی وغیرہ کہتے ہیں کہ غزوہ بدر میں شریک تھے۔ ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
غزوۂ حنین میں جو مسلمان شہید ہوئے تھے۔ یہ بھی اِن میں شامل تھے۔ ابو عمر نے اس کا اختصاراً ذکر کیا ہے۔ لیکن ابن اسحاق نے ان کا نام ان لوگوں میں شامل نہیں کیا۔ جو حنین اور خیبر میں شہید ہوئے تھے۔ ہاں عروہ بن مرہ بن سراقہ کا ذکر کیا ہے اور ابو عمر نے عروہ کے تحت ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
یعلی بن مرہ کے والد ہیں۔ یہ کوفی ہیں اور باپ بیٹا دونوں کو صحبت میسر آئی اور روایت بھی۔ اس کا نسب بقولِ ابو عمر مرہ بن وہیب بن جابر ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے مرہ بن ابی مرہ ثقفی والد یعلی بن مرہ لکھا ہے۔ ان سے ان کے بیٹے نے روایت کی ہے۔ یونس بن بکیر نے اعمش سے انہوں نے منہال سے، انہوں نے یعلی بن مرہ سے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں۔ مَیں ایک سفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ مَیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عجیب واقعہ کے ظہور کا مشاہدہ کیا۔ ایک عورت ایک آسیب زدہ بچے کو لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے دُشمنِ خدا مَیں اللہ کا رسول ہوں۔ تو دفع ہوجا۔ وہ بچّہ ٹھیک ٹھاک ہوگیا۔ یحییٰ بن عیسیٰ وغیرہ نے اعمش سے اسی طرح نقل کیا ہے اور وکیع نے اعمش سے انہوں نے منہال سے، انہوں نے یعلی بن مرہ سے روایت کی کہ انہوں نے۔۔۔
مزید
ان کا والد اپنے قبیلے کا سردار تھا۔ جناب مرہ نے مسلیمہ کذاب کو فضیح و بلیغ اشعار میں تنبیہ کی۔ ابن اسحاق نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حبیب بن واثلہ بن عمر و بن شیبان بن محارب بن قرشی الفہری جن کا تعلق مسلمۃ الفتح سے ہے۔ یحییٰ نے باسنادہ ابنِ ابی قاسم سے، انہوں نے عمر و بن علی سے۔ انہوں نے سفیان بن عینیہ سے، انہوں نے صفوان بن سلیم سے، انہوں نے انیسہ ام سعید بنتِ مرہ سے روایت کی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ میں اور یتیم کا کفیل (اس کے لیے ہو یا کسی اور کےلیے) جنت میں اکٹھے ہوں گے۔ اور عمر، ابو موسی اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابو بکر اسماعیل نے ان کا ذکر کیا ہے اور باسنادہ محمد بن مطلب سے، انہوں نے علی بن قرین سے انہوں نے خشرم بن حسین العقیلی سے، انہوں نے عقیل ظریف العقیلی سے انہوں نے مرہ بن عمر و سے روایت کی کہ مَیں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی اور آپ نے سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ لیکن ہم کئی مقام پر بیان کر آئے ہیں کہ یہ شخص ضعیف الروایت ہے۔ ۔۔۔
مزید
ایک روایت میں ان کا نام کعب بن مرہ سلمی بہزی ہے جن کا تعلق بہز بن حارث بن سلیم بن منصور سے ہے۔ پہلے بصرے میں اور پھر شام میں سکونت اختیار کی۔ ابو عمر کہتے ہیں کہ مرہ بن کعب درست ہے، ایک روایت ہے کہ یہ دو مختلف آدمی ہیں مگر یہ غلط ہے اور ہم اس کا ذکر کعب کے باب میں کئی مقام پر کر آئے ہیں اور انہوں نے ۵۷ ہجری میں اردن میں وفات پائی۔ ان سے عبد اللہ بن شقیق، جبیر بن نفیر اور اسامہ بن خریم نے روایت کی۔ ہم نے کئی آدمیوں سے باسناد ہم ابو عیسیٰ سے، انہوں نے محمد بن بشار سے، انہوں نے عبد الوہاب ثقفی سے، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے ابو قلابہ سے، انہوں نے ابو الاشعث اضعافی سے روایت کی۔ شام میں کچھ خطیب خطبہ دینے اٹھے، ان میں صحابہ کرام بھی تھے۔ آخر میں جو آدمی اُٹھا۔ اس کا نام مرہ کعب تھا۔ انہوں نے کہا۔ کہ اگر میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہ سُنی ہوتی، تو م۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ بن حرملہ بن سیفی بن اصرم بن ایاس بن عبد غنم بن جماش بن بجالہ بن مالک بن ثعلبہ بن سعد بن ذبیان: ایک روایت کی رو سے ان کا نام ضرار بن سنان بن امیّہ بن عمر و بن حجاش بن بجالہ غطفانی، ذبیانی الشعلبی ہے یہ شماخ کے بھائی تھے اور ان کا نام یزید تھا، مگر عرف مزرد تھا۔ اور انہیں مزرد درج ذیل شعر کی وجہ سے کہتے تھے۔ فَقُلْتَ تَزَرِّدُھَا عُبیْدٌ فَاِنِنُی لِزَردِ الْمَوَالِیْ فِیْ السَّنِیْنَ مُزرَّدَ ۔۔۔
مزید
ان کا شمار اہل بصرہ میں ہوتا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کی نسبت اسی طرح بیان کیا ہے۔ ابو عمر نے مزیدۃ العبدی لکھا اور عصری کا نام نہیں لیا۔ ابن الکلبی نے مزیدہ بن مالک بن ہمام بن معاویہ بن شبانہ بن عامر بن خطمہ بن محارب بن عمر و بن ودیعہ بن لکیز بن افصی بن عبد القیس لکھا ہے، لیکن عصری کی نسبت کا ذکر نہیں کیا۔ مگر ابن مندہ اور ابو نعیم نے انہیں عصری لکھا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہود بن عبد اللہ بن سعد بن مزیدہ کے دادا تھے۔ ہود بن عبد اللہ العصری نے اپنے دادا مزیدہ سے روایت کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے ہاتھوں کو بوسا دیا۔ یحییٰ بن محمود نے اذناً بہ اسنادِ خود ابو بکر احمد بن عمرو سے روایت کی۔ کہ انہوں نے محمد بن صدران سے انہوں نے طالب بن حجیر العبدی سے۔ انہوں نے ہود العصری سے انہوں نے اپنے دادا سے سنا کہ ایک دن حضور اکرم ص۔۔۔
مزید
نصر بن علی نے سفیان سے انہوں نے عمر و بن دینار سے انہوں نے عبد الملک بن نوفل بن مساحق سے اس نے باپ سے اُس نے اس کے دادا سے روایت کی۔ کہ جب بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی سریہ روانہ کرتے تو فرماتے، جب تم کوئی مسجد دیکھو یا موذن کی اذان سنو، تو کسی سے جنگ نہ کرو۔ الیاس نے سفیان سے۔ انہوں نے عبد الملک سے خود روایت کی (ان میں عمرو کا نام نہیں) انہوں نے ابن عصام المزنی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید