جمعرات , 20 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 07 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر حباب بن حارث انصاریہ از بنو مازن،بقول ابن حبیب انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن سعد المجہول رضی اللہ عنہ

اس سے خالد بن ابی خالد نے روایت کی ہے۔ قاضی ابو احمد نے ان کا شمار صحابہ میں کیا ہے ان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انھیں مرسل قرار دی ہے۔ خالد نے روایت کی کہ میں نے سلعہ میں محمد بن سعد سے بیعت کی انھوں نے کہا میرے قریب آؤ تاکہ میں چھوؤں کیونکہ حضور اکرم نے فرمایا چھونے میں برکت ہے یہ حدیث محمد بن مسلمہ کے نام سے مشہور ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر حجش زوجۂ رسول ِکریم جو عبداللہ بن حجش کی ہمشیرہ تھیں وہ اسدیہ ہیں اور بنو اسد سے ان کا تعلق ہے، اور ان کی والدہ امیمہ دختر عبدالمطلب تھیں،جو حضورِ اکرم کی پھوپھی تھیں،جناب زینب کی کنیت ام الحکم تھی،قدیم الاسلام تھیں اور مہاجرات سے،زید بن حارثہ سے ان کی شادی کی گئی تھی،تاکہ میاں بیوی کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے متعارف کرائے،اس کے بعد اللہ نے آسمانوں پر ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کردیا، چنانچہ اٹھائیسویں پارے میں اس کا ذکر موجود ہے،آپ نے ہجرت کے تیسرے سال جناب زینب سے نکاح کیا،یہ ابو عبیدہ کا قول ہے،قتادہ کے مطابق یہ نکاح ہجرت کے پانچویں سال میں ہوا،ابن اسحاق کے مطابق یہ نکاح ام سلمہ سے نکاح کے بعد ہوا۔ عبدالوہاب ابن ہبتہ اللہ نے ابو غالب بن بناء سے ،انہوں نے ابومحمد جوہری سے،انہوں نے ابو بکر قطیعی سے ،انہوں نے محمد بن یونس سے ان۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن سفیان رضی اللہ عنہ

بن مجاشع بن وارم التمیمی وارمی: ان کا ذکر محمد بن عدی بن ربیعہ اور محمد بن احیحہ بن جلاح وغیرہ کی حدیث میں مذکور ہے جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں ابو نعیم کہتا ہے کہ انہی ناموں کے بارے میں مجھ سے احمد بن اسحاق نے کہا، کہ ہم سے محمد بن احمد بن سلیمان ہروی نے کتاب الدلائل میں بیان کیا کہ یہ لوگ جن کے نام ان کے بزرگوں نے حضور اکرم کی پیدائش سے پہلے محمّد رکھا تھا۔ انھیں راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بارے میں اطلّاع دی تھی وہ لوگ حسبِ ذیل ہیں محمّد بن عدی بن ربیعہ، محمّد بن احیحہ، محمّد بن حمران بن مالک الجعفی اور محمّد بن خزاعی بن علقمہ اس کی تخریج ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے کی ہے۔ مَیں محمّد بن احیحہ کے ترجمے میں، اس سلسلے میں کافی لکھ چُکا ہوں۔ مزید وضاحت کے لیے کہتا ہوں کہ محمد بن سفیان کی اولاد میں سے جو لوگ حضور اکرم کے معاصر تھے۔ اس(محمّد بن سفیان) کے ب۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن ابی سلمہ بن عبد الاسد المخزومی رضی اللہ عنہ

ان کی پیدائش حضور اکرم کے عہد میں ہوئی ابن مندہ نے اس کی تخریج کی ہے ابو موسیٰ نے بھی اس کی تخریج کی ہے وہ کہتا ہےکہ ابن شاہین نے بھی ان کا ذکر کیا ہے وہ لکھتا ہے بغوی کہتا ہے کہ میں نے بعض ایسی کتابیں دیکھی ہیں جب میں ان راویوں کا ذکر ہے، جنہوں نے حضور سے سماع کیا، یا آپ کے عہد میں پیدا ہوئے چنانچہ ان لوگوں میں سے کسی کا نام بھی اس فہرست میں شامل نہیں لیکن محمد بن ابی سلمہ کے بارے میں یہ خیال درست نہیں کیونکہ یہ صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں فوت ہوئے ان کی بیوہ اُمّ سلمہ سے حضور نے نکاح کیا اور اُن کی اولاد کو اپنے دامن تربیت میں لے لیا ان وجوہ کی بنا پر ان سے بڑھ کر اور کسے درجۂ صحابیت حاصل ہوسکتا ہے میں نہیں سمجھ سکا کہ ابو موسیٰ کو اس استدراک کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر حمید بن زہیر بن حارث بن اسد بن عبدالعزٰی قرشیہ اسدیہ،عبداللہ بن ہشام کی والدہ تھیں ابو یاسر نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے انہوں نے والد سے،انہوں نے عبداللہ بن یزید سے ، انہوں نےسعید یعنی ابن ابو ایوب سے،انہوں نے عقیل زہرہ بن معبد سے،انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے (جنہوں نے حضور نبی کریم کی زیارت کی اور ان کی والدہ انہیں حضورِ اکرم کے پاس بہ غر ض بیعت لے گئی تھیں،اور حضور نے بوجہ ان کے نابالغ ہونے کے انکار کردیا تھا اور ان کے سرپر ہاتھ پھیر کر دعائے خیر فرمائی تھی) روایت کی،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے،لیکن ابن مندہ لکھتا ہے،کہ زینب عبداللہ بن ہشام کی دادی تھیں،اور اس طرح اپنے پہلے قول کی تردید کردی،کیونکہ زینب ان کی والدہ تھیں۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد ابو سلیمان رضی اللہ عنہ

ان کا شمار اہلِ مدینہ میں ہے اور ایک جماعت نے انھیں صحابہ میں شمار کیا ہے، لیکن یہ وہم ہے۔ عاصم بن سوید الانصاری نے(جن کا تعلق اہلِ قبا سے ہے) سلیمان بن محمد الکرمانی سے اس نے اپنے والد سے سُنا انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، اور پھر وہ مسجدِ قبا کو نماز پڑھنے کے لیے گیا۔ اسے اس عمل پر عمرے کا ثواب ملے گا۔ قاضی ابو احمد کہتا ہے کہ میرے خیال میں اس شخص کو حضور اکرم کی صحبت نصیب نہیں ہوسکی ابو نعیم نے اس اسناد کو بہ طریق ذیل بیان کیا ہے محمد بن سلیمان الکرامانی نے اپنے باپ سے اس نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے اس نےاپنے باپ سے روایت کی یہ روایت قیتبہ نے مجمع بن یعقوب سے اس نے محمّد بن سلیمان سے بیان کی۔ اس سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ اور حاتم بن اسماعیل نے مجمع بن یعقوب کی روایت کے مطابق بیان کیا ہے ابن مندہ او۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر حنظلہ بن قسامہ بن قیس بن عبید بن ظریف بن مالک بن جدعان بن ذہل بن رومان بن جندب بن خارجہ بن سعد بن قطرہ از بنوطی،ظریف بن مالک کے بار ے میں امرأ القیس کہتا ہے۔ لَعَمرِی لَنِعمَ المَرءُ یَعشُو لِضَوئہٖظَرِیفُ بن مَالٍ لَیلَۃَ الریح وَالخصرجندب(ترجمہ)مجھے اپنی عمر کی قسم کہ ظریف بن مالک کتنا اچھا آدمی ہے کہ جس کی روشنی میں لوگ ایسی راتوں میں جب آندھی چل رہی ہو،آرام سے زندگی گزارتے ہیں۔ یہ خاتو ن اسامہ بن زید کی چوجہ تھی،جسے اسامہ نے طلاق دے دی تھی،جب عدت گزرگئی،تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ سے دریافت فرمایا،کہ زینب سے کون نکاح کرے گا،کہ میں اس کا متولی ہوں،چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے انہیں اپنی زوجیت میں لے لیا۔ زینب اپنے والد اور پھوپھی جربأ دختر قسامہ کے ساتھ دربارِرسالت میں حاضر ہوئی تھیں،ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن شرحبیل الانصاری رضی اللہ عنہ

ان کا تعلق بنو عبد الدار سے تھا امام بخاری نے ان کا ذکر الواحدان میں کیا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی صحبت ثابت نہیں یزید بن قسیط، یزید بن خصیفہ اور محمد بن منکدر نے اِن سے ایسی احادیث روایت کی ہیں جو انھوں نے حضرت ابو ہریرہ کے واسطے سے حضور اکرم سے سُنیں۔ ابو نعیم لکھتا ہے کہ صحیح نام محمود بن شرحبیل ہے اور ان سے عبد اللہ بن التمیمی کی حدیث نقل کی ہے اس نے منکدر بن محمد بن منکدر ہے اس نے محمد بن منکدر سے اس نے محمد بن شرجیل سے روایت کی کہ بنو عبد الدار کے ایک فرد نے بیان کیا کہ مَیں نے سعد بن معاذ کی قبر سے مٹھی بھر مٹّی اٹھائی اس سے کستوری کی خوشبو آرہی تھی۔ محمد بن عمرو بن علقمہ نے ابن المنکدر سے اس نے محمود بن شرحبیل سے روایت کی ابو مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر حارث بن خالد بن صخر قرشیہ از بنو تمیم بن مرہ،ان کی اور ان کی بہنوں فاطمہ اور عائشہ کی ولادت حبشہ میں ہوئی،ان کی والدہ رائطہ دختر حارث بن حبیلہ ،وہ اور ان کی بہن عائشہ اور بھائی موسیٰ راستے میں زہریلا پانی پینے سے ہلاک ہوگئے تھے،اور ان کے خاندان سے سوائے فاطمہ کے اور کوئی نہ بچا،اس کی روایت ابن اسحاق نے کی ہے،ابو عمر ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید