ان کا ذکر صرف ایک حدیث میں ہے جسے عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے اس نے اسلم ابو عمران سے اُس نے ہبیب بن مغفل سے روایت کی کہ اس نے محمد بن علیہ کو دیکھا، کہ وہ اپنے ازار کا پلو زمین پر گھسیٹتے جا رہے تھے۔ انھیں ہبیب نے بھی دیکھا اور کہا۔ کہ تم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سُنا کہ جو شخص اپنی ازار کا پلو زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔ وہ گویا نارِ جہنم میں یہ عمل کر رہا ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ابو نعیم لکھتا ہے کہ ابنِ مندہ کے اس قول سے کہ ہبیب نے محمد بن علیہ کو حضور کا انتباہ یاد کرایا، ثابت ہوتا ہے کہ جناب محم بن علیہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور ابو بکر بن عبد اللہ بن وہب نے اس نے عمرو بن حارث سے اس نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے اسلم ابو عمران سے اس نے ہبیب بن مغفل سے سُنا کہ اس نے محمد القرشی کو ۔۔۔
مزید
زینب دختر رافع،ابراہیم بن علی رافعی نے اپنی دادی زینب دختر ابو رافع سے روایت کی کہ میں نے خاتونِ جنّت کو دیکھا کہ وہ اپنے دونوں بچوں کو ساتھ لئے حضورِاکرم کی خدمت میں آئیں،جب نبیِ کریم مرض موت میں صاحبِ فراش تھے،خاتون جنت نے گزارش کی،یا رسول اللہ،یہ دونوں فرزند ہیں،انہیں اپنا وارث بنائیے،فرمایا حسن میر ی سرادری اور ہیبت کا اور حسین رضی اللہ عنہ میری جرأت اور سخاوت کا وارث ہوگا،ابو مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دختر رواحہ،ہمشیرہ عبداللہ بن رواحہ،ان کا نسب ان کے بھائی کے ترجمے میں ذکر ہو چکا ہے، یہ خاتون نعمان بن بشیر کی والدہ تھیں،یہ وہ خاتون ہیں،جنہوں نےاپنے خاوند بشیرسے کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے نعمان کو کوئی چیز بطورہبہ دے،لیکن اس کے دوسرے بھائیوں کو نہ دے،انہوں نے بیوی کی بات مان لی،بیوی نے کہا،اب اس بات کی حضورسے اجازت لے لو،حضور نبیِ کریم نے دریافت فرمایا،کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کے ساتھ یکساں سلوک کیاہے،انہوں نے کہا،نہیں ،فرمایا،میں اس بے انصافی کا گواہ نہیں بن سکتا،یہ وہی عمرہ ہیں جن کا ذکر قیس بن خطیم نے اشعار ذیل میں کیا ہے۔ (۱)جَدَّ بعمرۃ غنیابھادارھا فنھجرام شائناشانھا (ترجمہ)کیاعمرہ کی بے نیازی سچ مچ کی ہے،اور وہ ہم سے جُدا ہورہی،یاہماری اور اس کی حالت ایک ہی ہے۔ (۲)فَان تمس شطت بھادارھا وناح لک الیوم ھجرانھا (ترجمہ۔۔۔
مزید
بن حزم الانصاری: ان کا نسب ہم ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں ان کی کنیت ابو القاسم یا ابو سلیمان تھی۔ ایک روایت میں ابو عبد الملک آیا ہے ان کی پیدائش ہجرت کے دسویں برس بخران میں ہوئی ان کے والد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وہاں کے عامل تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کی پیدائش رسولِ اکرم کی وفات سے دو سال پہلے ہوئی والدہ نے محمد نام اور ابو سلیمان کنیّت رکھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی حضور نے نام تو وہی رہنے دیا لیکن کنیّت بدل کر عبد المالک کردی محمد بن عمرو امّت مسلمہ کے عالم اور فقہہ شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے اپنے والد اور بعض صحابہ سے بھی روایت کی ہے اور خود ان سے کئی فقہائے مدینہ نے روایت ی ہے اور جناب محمد بن عمرو ۳۳ ہجری میں یزید کے عہد میں ایامِ حرہ میں قتل کیے گئے۔ مدائنی لکھتا ہے کہ ایک شامی نے خواب میں دیکھا کہ وہ لڑائی میں محمد ۔۔۔
مزید
زینب دختر ثابت بن قیس بن شماس انصاریہ،از بنو حارث بن خزرج،بقول ابنِ حبیب،انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دختر سعد بن عمروبن زید مناہ بن عدی بن عمرو بن مالک بن تجار ام سعد بن عبادہ،مستغفری نے اسی طرح ان کا نام لکھاہے،ایک روایت میں عمرہ دختر سعد بن قیس مذکور ہے،ابوعمر نے عمرہ دختر مسعود بن قیس بن عمروبن عدی بن عمروام سعد بن عبادہ لکھاہے،انہوں نے ہجرت کے پانچویں سال میں وفات پائی، ان کی حدیث مشہور ہے،لیکن حدیث میں ان کا نام مذکور نہیں،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،ان کا ذکر پھر آئے گا۔ ۔۔۔
مزید
ابن ماکو لانے حرف اول پر پیش (ضمہ) اور حرف ثالث راکو مشدد کر کے کسرہ پڑھا ہے۔ ابو عمر نے بہ کسر میم و سکون حا بیان کیا ہے۔ علی بن مدینی آخر الذکر کو درست کہتا ہے۔ ابو عمر نے اسماعیل بن امیّہ سے اس نے مزاحم سے، اُس نے عبد العزیز بن عبد اللہ بن خالد بن اسید سے اس نے مخرش الکعبی سے روایت کی۔ کہ ایک رات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے نکلے اور پھر اس نے حدیث نقل کی۔ ابن المدائنی کہتا ہے۔ کہ مزاحم سے مراد مزاحم بن ابی مزاحم ہے اس سے ابن جریج وغیرہ نے روایت کی ہے اور اس سے مراد مزاحم بن زفر نہیں ہے۔ ابو حفص القلاس کا بیان ہے کہ مَیں مکہ کے ایک شیخ کو جس کا نام سالم تھا ملا۔ اور منی تک اس سے ایک اونٹ کرائے پر لیا۔ اُس نے مجھ سے یہ حدیث سنانے کی خواہش کی۔ کہنے لگا۔ محرش بن عبد اللہ میرا دادا تھا۔ پھر اُس نے وہ حدیث بیان کی اور نیز بتایا کہ کس طرح حضور اکرم صلی ۔۔۔
مزید
سودہ دخترابو ضبیس جہنیہ،اسلام لائیں،اور بعد ازہجرت حضور نبی کریم سے بیعت کی،خود انہیں اور ان کے والد کو صحبت نصیب ہوئی،یہ قول ہے محمد بن نقطہ کا،جنہوں نے محمد بن سعد سے روایت کی۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دختر حزم انصاریہ،یہ ابن مندہ اور ابوعمر کا قول ہے،ابونعیم نے ان کے والد کا نام حرام لکھا ہے، اوریہ بھی لکھاہے،کہ ابن مندہ نے ان کانام عمرہ دختر حزم لکھاہے،یہ خاتون سعد بن ربیع کی زوجہ تھیں،جوغزوۂ احد میں شہید ہوگئے تھےیحییٰ بن ایوب نے محمد بن ثابت بنانی سے،انہوں نے محمد بن المنکندر سے ،انہوں نے جابر سے،انہوں نے عمرو سے روایت کی کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئےچھوٹی چھوٹیکھجوروں کے ایک جھنڈ میں آرام گاہ تیارکی،پانی چھڑکا،آپ کیلئے بکری ذبح کی،آپ نے گوشت تناول فرمایا،وضو کیا،اور نماز ظہر ادا کی،میں نے پھر بکری کا گوشت پیش کیا،آپ نے کھایا،نماز عصر اداکی اور نئے سرے سے وضو نہیں کیا۔ ابونعیم نے طبرانی سے انہوں نے یحییٰ بن عثمان بن صالح سے ،انہوں نے عمرو بن ربیع بن طارق سے،انہوں نے یحییٰ سے باسنادہ روایت کی،انہوں نے عمرہ دختر حرام لکھا ہے۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دخترجون کلابیہ،حدیث عالیہ میں ان کا ذکر آیا ہے،اور ہم عمرہ دختر یزید کے ترجمے میں ان کا ذکر کریں گے،ابن مندہ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید