بن مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن مرہ بن کعب بن لوئی ابووقاص والد سعید بن ابی وقاص: عبدالرحمٰن نے ان کا شمار صحابہ میں کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں۔ جنھوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی۔ ان سے کوئی حدیث مروی نہیں ان کی وفات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حین حیات میں ہوئی۔ اس کی تخریج ابوموسیٰ نے کی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ہم نے کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا۔ جس نے عبدان سے اتفاق کیا ہو۔ ۔۔۔
مزید
سیّدنا مالک بن یخامر رضی اللہ عنہ (ایک روایت میں اُخامر آیا ہے) مذکور ہے کہ اُنھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر آئی۔ اُنھوں نے معاذ بن جبل سے روایت کی ہے۔ خود ان سے معاویہ بن ابوسفیان، جبیر بن نفیر اور مکحول وغیرہ نے روایت کی ہے۔ یہ صحابی اہلِ حمص سے تھے۔ انھوں نے ۶۹ یا ۷۰ ہجری میں وفات پائی۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ان سے ابوبحریہ نے روایت کی ان کا شمار اہل شام میں ہوتا ہے۔ ہمیں یحییٰ بن ابی الرجاء اصفہانی نے اس اسناد سے جو ابن ابی عاصم تک جاتا ہے۔ بتایا کہ اس سے محمد بن عوف نے، اس سے محمد بن اسماعیل بن عیاش نے ان سے میرے والد نے، اس نے ضمضم بن زرعہ سے اس نے شریح بن ابی عبید سے اس نے ابو ظبیہ سے اس نے ابو بحریہ السکونی سے اُس نے مالک بن بسیار السکونی العوفی سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اللہ سے کوئی چیز مانگو تو ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو سیدھا رکھو نہ کہ الٹا۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ابن مندہ کے قول کے مطابق ان سے ابن بجدہ نے روایت کی، نہ کہ ابن بحریہ سے۔ بقول ابونعیم اس سلسلے میں ابن مندہ کو اشتباہ ہوا ہے۔ صحیح نام ابوبحریہ ہے۔ ۔۔۔
مزید
سائبہ،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آزاد کردہ کنیز تھیں،انہوں نے آپ سے گری پڑی چیز کے بارے میں حدیث بیان کی،طارق بن عبدالرحمٰن نےان سے روایت کی،تاریخ النسأ میں ان کا ذکر ملتا ہے،ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سکینہ دختر ابووقاص ام الحکم،ابو موسٰی نے اجازۃً ابوالمطیب حبیب بن محمد سے بذریعہ قرأت والد انہوں نے ابوالعباس احمد بن محمد نعمان سے(ح) ابو موسیٰ نے حسن بن احمد سے انہوں نے احمد بن عبداللہ سے،انہوں نے محمد بن ابراہیم بن علی سے،انہوں نے ابوعروبہ حسین بن محمد سے،انہوں نے ابوموسیٰ سے،انہوں نے مکی بن ابراہیم سے انہوں نے ہاشم بن ہاشم سے،انہوں نے امالحکم سکینہ سے روایت کی کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا ذکر فرمایاتو دریافت کیا گیا،یا رسول اللہ،عورتوں کا جہادکیاہے،فرمایا حج،عروبہ اس خاتون کو صحابیہ شمار کیا ہے،ابو نعیم اور ابو موسٰی نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سکینہ غیر منسوبہ،ان سے ان کے مولیٰ ابوصالح نے جناب رسالتمآب سے روایت کی،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیاہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حارث بن ربیعہ بن بحیث بن شرحبیل الیافعی: یہ ابنِ مندہ اور ابونعیم کا قول ہے۔ ابو عمر نے ان کا سلسلۂ نسب یوں لکھا ہے: مبرح بن شہاب بن حارث الرعینی۔ یہ بنورعین کے ان لوگوں میں شامل تھے، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ یہ صحابی فتح مصر کے موقع پر حضرت عمرو بن العاص کے میسرہ کے کماندار تھے۔ ابوسعید بن یونس کا قول ہے کہ ان کی سکونت فسطاط کے نواح میں تھی۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
سخیلہ دختر عبیدہ جو عمر و بن امیہ ضمری کی زوجہ تھیں،زبرقان بن عبداللہ نے اپنے والد سے انہوں نے عمروبن امیہ ضمیری سے روایت کی،کہ انہوں نے ابریشم کی ایک چادر خریدی اور اپنی بیوی سخیلہ کو اوڑھادی،ان سے عثمان یا عبدالرحمٰن بن عوف نےپوچھا کہ تم نے وہ چادر کیا کی،انہوں نے کہا، کہ میں نے اپنی بیوی کو بطور صدقہ دے دی،انہوں نے پوچھا،کیا جو چیز اپنے اہل و عیال کو دی جائے،وہ بھی صدقہ ہوسکتی ہے،انہوں نے کہا،میں نے حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اسی طرح سناہے،جب حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں یہ بات لائی گئی،تو آپ نے فرمایا ،وہ درست کہتا ہے،ابن الدباغ نے اس کا ذکر کرکے ابو عمر پر استدراک کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ان کا نام حارث بن عمرو بن حارث بن ہیثم بن ظفر الانصاری، اوسی، ظفری تھا۔ یہ صاحب اپنے دونوں بھائیوں بشر اور بشیر کے ساتھ غزوۂ احد میں موجود تھے۔ ہم نے بشر اور مبشر کا ذکر تو کیا ہے، لیکن بشیر کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ وہ مرتد ہوگیا تھا اور حالت کفر میں مرا۔ ابن ماکولا کا بیان ہے کہ جناب مبشر کو حضور کی صحبت میں حاضری کا موقع ملاتھا اور انھوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ ان بھائیوں کا ذکر قتادہ بن نعمان کی حدیث میں آیا ہے۔ ہمیں اس بارے میں ابوعیسیٰ ترمذی کے اسناد سے کئی آدمیوں نے بتایا کہ ہم سے محمد بن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے اس نے اپنے باپ سے اس نے اپنے دادا قتادہ بن نعمان سے بیان کیا کہ ہمارے کچھ اعزہ تھے، جنھیں بنو ابیرق کہتے تھے، وہ تین بھائی تھے، مبشر، بشر اور بشیر۔ آخرالذکر منافق تھا۔ اور صحابہ کی ہجو میں شعر کہتا تھا اور بعض لوگ اسے کچھ دے دلاکر اس کی ۔۔۔
مزید
ہم ان کا تذکرہ ان کے بھائی مالک کے سلسلے میں کرچکے ہیں۔ یہ صحابی شاعر تھے۔ طبری لکھتا ہے کہ مالک بن نویرہ بن حمزہ کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو یربوع کے یہاں زکات وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ مالک اور ان کے بھائی دونوں مسلمان ہوچکے تھے۔ ابو عمر کہتا ہے کہ مالک کو خالد بن ولید نے قتل کردیا۔ صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں ان کے اسلام کے متعلق اچھا خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہرحال جناب متمم کے اسلام کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہ صاحب بہت اچھے شاعر تھے، بالخصوص ان کے وہ مرثیے لاجواب ہیں۔ جو انہوں نے اپنے بھائی کی موت پر کہے تھے۔ ۱۔ ہم سالہا سال اپنے قبیلے جذیمہ میں دو مخلص ندیموں کی طرح اکٹھے رہے، یہاں تک کہ لوگوں میں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ یہ کبھی جدا نہیں ہوں گے۔ ۲۔ باوجود اس طول طویل قرب کے جب ہم دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے۔ تو اب یوں معلوم ہوتا ۔۔۔
مزید