ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا مجالد بن مسعود السلمی رضی اللہ عنہ

ہم اُن کا نسب، ان کے بھائی مجاشع کے تذکرے میں لکھ آئے ہیں۔ مجالد کی کنیت ابومعبد تھی۔ بصرے میں سکونت تھی۔ اُنھوں نے فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی کی طرح اسلام قبول کیا تھا۔ جناب مجاشع انھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت علی البحرۃ کے لیے لے گئے تھے، لیکن آپ نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی اور بیعت علی الاسلام والجہاد منظور فرمائی تھی۔ ابن ابی حاتم کا قول ہے کہ مجالد جنگ جمل میں شہید ہوگئے تھے، لیکن جناب مجاشع کے بارے میں کچھ نہیں بتایا، حالانکہ اس جنگ میں ان کا قتل یقینی امر ہے۔ ان دونوں بھائیوں سے ابو عثمان کی روایت میں کوئی استبعادنہیں۔ کیونکہ دونوں اکٹھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور بصرے میں دونوں کی قبریں قریب قریب ہیں۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مجدی الضمری رضی اللہ عنہ

یہ صحابی حضور اکرم کے ساتھ سات غزوات میں شریک رہے۔ ابوالمفرج بن عطی بن مجدی ضمری نے اپنے باسے اُس نے اس کے دادا سے روایت کی کہ ہم حضور کے ساتھ غزوۂ مریسیع اور غزوہ بنو المصطلق میں شریک تھے۔ ان جنگوں میں کچھ عورتیں بطور جنگی قیدی ہمارے ہاتھ آئیں۔ ہم نے گزارش کی، یارسول اللہ! کیا ہمیں عزل کی اجازت ہے۔ ’’کرلو اگر تمہاری مرضی ہے تو ۔ خدا نے جو روح پیدا کی ہے وہ قیامت تک باقی رہے گی۔‘‘ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ابن مندہ اور ابونعیم کی کتابوں میں اسی طرح مذکور ہے، لیکن میرے خیال میں غزوۂ مریسیع اور غزول مصطلق کے درمیان واو نہیں۔ بلکہ اَو ہے، کیونکہ ایک ہی غزوے کے دو نام ہیںِ اور راوی نے بربنا ئے شک دونوں نام لکھ دیے ہیں۔ واللہ اعلم۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مجدی بن قیس الاشعری رضی اللہ عنہ

ان کا نسب ہم ان کے بھائی ابوموسیٰ کے تذکرے میں لکھ آئے ہیں۔ ابو عمر نے ان کے بھائی ابو رہم کے ترجمے میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ابو عمر پرغسانی کا یہ استدراک ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلامہ(رضی اللہ عنہا)

سلامہ دختر سعد بن شہید از بنو عمرو بن عوف جو بنو طلحہ بن ابوطلحہ کی والدہ تھیں،بقول ابن حبیب انہوں نے بعد از فتح مکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلامہ(رضی اللہ عنہا)

سلام ضبیہ،ان سے ام داؤد وابشیہ نے وہ حدیث روایت کی،جو بقول ابو عمر عبداللہ بن داؤد خرینی نےان سے لی،ابو نعیم اور ابن مندہ نے ان کا نام سلامہ وابشیہ بیان کیا ہے،اور ان دونوں نے عبداللہ بن داؤد خرینی سے،انہوں نے ام داؤد وابشیہ سے،انہوں نے سلامہ سے روایت کی کہ جب ابتدائے اسلام میں میں بکریاں چراتی تھی،ایک دن حضور کا وہاں سے گزر ہوا،پوچھا،کیا تجھے کلمہ شہادت آتا ہے،میں نے سنایا ،تو آپ نےتبسم فرمایا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،ابونعیم کا قول ہے کہ ان کے خیال میں یہ خاتون اور سلامہ دختر حر ایک ہیں،ابن مندہ نے ان کی نسبت وابشیہ لکھی ہے، اور اس حدیث کو مدد نے خرینی سے،انہوں نے سلامہ دختر حر سے روایت کیا۔ ابن اثیر کے مطابق اس خاتون پر دو ترجمے لکھے ہیں،اور ان کی حدیث کو خرینی سے،انہوں نے ام داؤد وابشیہ سے روایت کی،اسی سلامہ دختر حر کے ترجمے میں خرینی کی حدیث کو ام داؤد س۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلامہ(رضی اللہ عنہا)

سلامہ ،دایہ،ابراہیم جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے تھے،ان سےانس بن مالک نے روایت کی،ابوموسیٰ نے اجازۃً حسن بن احمد سے،انہوں نے احمد بن عبداللہ سے،انہوں نے محمد بن حسن یقطینی سکینہ سے،انہوں نے عمر بن سعید بن سنان منیچی سے(ح) احمدنے ابو عمرو بن حمدان سے انہوں نےحسن بن سفیا ن سے،انہوں نے ہاشم بن عمارسے انہوں نے اپنے والد عمار بن نصیر سے،انہوں نے عمرو بن سعید خولانی سے،انہوں نےانس بن مالک سے ،انہوں نے سلامہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضورِاکرم کی خدمت میں گزارش کی،یارسول اللہ! آپ اکثر و بیشتر مردوں کو بشارتوں سے نوازتے ہیں اور خواتین کاذکر نہیں فرماتے،حضور نے پوچھا،کیا تو ان سب کی طرف سے وکالت کررہی ہے،انہوں نے عرض کیا،ہا ں یارسول اللہ ،انہوں نے مجھے مامور کیا ہے، کہ میں آپ سےدریافت کروں،فرمایا،کیا تم اس پر راضی نہیں ہو،کہ جب تمہارے پیٹ میں بچہ ہو،اور تمہا۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلمیٰ(رضی اللہ عنہا)

سلمٰی،ابویاسربن ابوحبہ نے باسنادہ عبداللہ سے،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے عبدالصمد سے، انہوں نےہمام سے،انہوں نے قتادہ سے،انہوں نے سلمیٰ دخترِحمزہ سے روایت کی کہ ان کا مولیٰ مرگیا،اور بیٹی رہ گئی، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کو وراثت کا نصف دے دیا،اور دوسرا نصف یعلی کو دے دیا،جو سلمیٰ کا بیٹا تھا۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلمیٰ(رضی اللہ عنہا)

سلمٰی انصاریہ،غیر منسوبہ،حضورِاکرم سے بیعت کی،محمد بن اسحاق نے ایک انصاری سے،انہوں نے اپنی والدہ سلمیٰ سےروایت کی کہ میں انصار کی چند خواتین کے ساتھ،حضور ِاکرم کی بیعت کو حاضر ہوئی،آپ نے ہم سے عہد لیا کہ ہم اپنے شوہروں کو دھوکا نہیں دیں گی،ابنِ مندہ نے ان کا ذکر کیا اور لکھا ہے،کہ ان کے والد کا نام قیس تھا،ہم انشأاللہ پھر ان کا ذکر کریں گے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا مجمع بن یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہ

وہ عبد الرحمٰن کے بھائی ہیں۔ ابن مندہ لکھتا ہے کہ میرے نزدیک دونوں مجمع ایک ہی آدمی ہے۔ ان سے عکرمہ بن سلمہ بن ربیعہ نے روایت کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے ہمسائے کے مکان کی دیوار میں میخ ٹھونکنا چاہیے، تو اسے نہ روکا جائے۔ ابو عمر کہتا ہے کہ مجمع بن یزید بن جاریہ میرا بھتیجا ہے۔ جسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر آئی۔ اور آپ سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے۔ کیونکہ یہ حدیث یا تو عمر نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنی یا حضرت ابو ہریرہ نے امام بخاری کی رائے میں مجمع بن یزید، عبد الرحمٰن بن یزید بن جاریہ کا بھائی ہے۔ ہمیں ابو یاسر نے عبد اللہ بن احمد سے اس نے اپنے باپ سے اس نے مکی بن ابراہیم سے، اس نے عبد المالک بن جریج سے اس سے عمر بن دینار سے بیان کیا کہ اسے ہشام بن یحییٰ نے بتایا۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلمیٰ ا ودیہ(رضی اللہ عنہا)

کتاب کی ترتیب کے اعتبار سے ان کاذکر سلمٰی کی ضمن میں تیسرے نمبرپر ہے لیکن یہاں پر حروف تہجی کے اعتبار سے سب سے آخر میں درج ہے۔ سلمیٰ اودیہ ،یہ خیال درست نہیں کہ اہل ِکوفہ کو ان کی احادیث کا عِلم ہے،ابوعمر نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید