ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا محارب بن مزیدہ رضی اللہ عنہ

بن مالک بن ہمام بن معاویہ بن شبابہ بن عامر بن حطمہ بن محارب بن عمرو بن ودیعہ لکیز بن افصی بن عبد القیس العبدی: باپ بیٹا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا، یہ ہشام بن کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلمیٰ(رضی اللہ عنہا)

سلمٰی دخترِ ابو ذویب جو حلیمہ کی بہن تھیں اور حلیمہ آپ کی رضاعی والدہ تھیں اور سلمیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خالہ تھیں،حضور سے ملنے آتیں،توآپ اپنی چادر زمین پر بچھادیتے اور انہیں بٹھاتے، اور ماں کہہ کر بلاتےاور خوش آمدید کہتے،جعفری مستغفری نے انہیں صحابیات میں شمار کیا ہے،ابو موسٰی نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محتفر بن اوس المزنی رضی اللہ عنہ

انہوں نے حضور اکرم سے بیعت کی اور ان کی اولاد نے ان سے روایت کی ہے۔ حاکم ابو احمد عسکری عبد اللہ نے تاریخ خراسان میں اس کا ذکر کیا ہے۔ احمد بن حسین نیشا پوری نے اس کی روایت کی ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلمیٰ(رضی اللہ عنہا)

سلمٰی دختر عمیس خشعمیہ ہمشیرۂ اسما،ان کا نسب ہم ان کی بہن کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،یہ ان بہنوں میں شامل ہیں،جن کے بارے میں حضورِاکرم نے فرمایا تھا،"اخوت مومنات" یہ خاتون حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں،ان کی شہادت کے بعد ان سے شداد بن اسامہ بن ہادیشی نے نکاح کرلیا تھا،اور عبداللہ اور عبدالرحمٰن نامی دو لڑکے ان کے بطن سے ہوئے تھے،ایک روایت میں ہے،کہ حمزہ کی زوجہ کا نام اسمأ دختر عمیس تھا،اور شداد نے ان سے شادی کی تھی،اور پھر جعفر نے، لیکن یہ غلط ہے۔ ہمام نے قتادہ سے انہوں نے سلمٰی سے روایت کی کہ ان کا مولیٰ مرگیا،اور دو بیٹیاں وار ث چھوڑ گیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کی بیٹی کو وراثت کا نصف اور نصف یعلی کو جو حمزہ کا بیٹا تھا،دے دیا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ جو شخص اسمأ کو اولاًحمزہ کی پھر شداد کی اور آخر میں ۔۔۔

مزید

سیدنا محجن بن اورع الاسلمی رضی اللہ عنہ

یہ صحابی اسلم بن افصی بن حارثہ بن عمرو بن عامر کی اولاد سے ہیں۔ قدیم الاسلام مسلمان ہیں۔ ابو احمد عسکری کے بقول وہ سلمیٰ ہیں، لیکن ایک روایت کے مطابق اسلمی ہیں۔ انہی کے بارے میں حضور اکرم نے ایک دفعہ فرمایا تھا۔ تم تیر اندازی کرو اور مَیں ابن الادرع کے ساتھ ہوں۔ بصرے میں سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ انہوں نے اپنی مسجد کی حدود بندی کی تھی، طویل عمر پائی تھی۔ ان سے حنظلہ بن علی اور جاء بن ابی رجاء نے روایت کی ہے۔ ہمیں خطیب عبد اللہ بن احمد نے ابو داؤد طیالسی سے اس نے ابو عوانہ سے، اس نے ابو بشر سے اسے عبد اللہ بن شفیق سے اُس نے رجاء جاہلی سے روایت کی کہ ایک دفعہ محجن نے میرا ہاتھ پکڑا اور مسجد تک لے گیا۔ وہاں مسجد کے دروازے پر بریدہ اسلمی بیٹھا ہوا تھا اور مسجد میں سکبہ نامی ایک شخص طول طویل نماز پڑھ رہا تھا اور بریدہ اس کا مذاق اُڑا رہا تھا۔ بریدہ نے محجن سے مزاحاً کہا، ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلمیٰ(رضی اللہ عنہا)

سلمٰی دختر ضحرام الخیر،ابوبکر صدیق کی والدہ تھیں،ہم کنیتوں کے عنوان کے تحت ان کا ذکر تفصیل سے کریں گے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محجن بن ابی محجن الدیلی رضی اللہ عنہ

ان کا تعلق بنو دیل بن بکر بن عبد مناہ بن کنانہ سے تھا۔ مدنی تھے اور کنیت ابو بسر تھی۔ ان سے ان کے بیٹے بسر نے روایت کی ہے۔ ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض بُسر اور بعض بَشر کہتے ہیں۔ یہ ثوری کا قول ہے۔ احمد بن صالح مصری کہتے ہیں کہ مَیں ایک جماعت سے ان کے نام کے بارے میں پوچھا۔ بعض لوگوں نے ثوری کی طرح بشر بتایا۔ ابن ماکولا نے بُسر بیان کیا۔ بسر نے اپنے والد محجن سے روایت کی ان سے زید بن اسلم نے روایت کی ہمیں فتبان بن احمد بن محمد بن جوہری نے قعتبی سے اس نے مالک سے اُس نے زید بن اسلم سے اس نے بسر بن محجن سے، اس نے اپنے باپ سے بیان کیا۔ کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نماز کے لیے اذان ہوئی۔ حضور اُٹھے، نماز ادا کی اور پھر واپس آگئے۔ آپ نے جناب محجن سے پوچھا، تم نے کیوں نماز نہ پڑھی، کیا تم مسلمان نہیں ہو، اُنہوں نے عرض کیا، یا۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلمیٰ(رضی اللہ عنہا)

سلمیٰ دختر محرز بن عامر انصاریہ از بنو عدی،بقولِ ابنِ حبیب انہوں نے آپ سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سلمیٰ(رضی اللہ عنہا)

سلمیٰ دختر نصر محاربیہ،طبرانی نےان کا ذکر کیاہے،براویتے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،اور ابو موسیٰ نے ان سے بایں سند حدیث بیان کی ہے،ابوموسیٰ اجزۃً ابو غالب کوشیدی سے، انہوں نے ابوبکر بن ریدہ سے (ح) ابو موسیٰ نے حسن بن احمدسے،انہوں نے احمد بن عبداللہ سے،انہوں نے سلیما ن بن احمد سے،انہوں نے محمد بن عبداللہ حضرمی سے،انہوں نے منجاب بن حارث سے انہوں نےعلی بن مسہر سے،انہوں نے محمد بن اسحاق سے،انہوں نے عاصم بن عمر قتادہ سے،انہوں نے سلمیٰ دختر نصر محاربیہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ سے ولدالزناکی آزادی کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا،اسے آزاد کردو،ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محرز بن حارثہ رضی اللہ عنہ

بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف: اُنہیں عتاب بن اسید نے ایک بار مکے میں اپنا جانشین بنایا تھا۔ بعد میں وہ حضرت عمر کے عہدِ خلافت میں پھر سے ایک دفعہ مکے کے حاکم بنائے گئے، پھر خلیفہ نے انہیں معزول کر کے قنفذ بن عمیر التیمی کو ان کی جگہ مقرر کردیا۔ جناب محرز جنگ جمل میں مارے گئے تھے۔ ان کا شمار اہلِ مکہ میں ہوتا ہے۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید