ام عمرو دختر سلامہ بن وقش بن زغبہ بن زعوراء انصاریہ،بقولِ ابنِ حبیب انہوں نے حضور سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام عمرو بن سلیم زرقی،یزید بن ہاد نے عبداللہ بن ابوسلمہ سے،انہوں نے عمرو بن سلیم سے،انہوں نے اپنی والدہ سے سنا،کہ حضرت علی منیٰ میں اعلان کررہے تھے،کہ آج کھانے پینے کا دن ہے، تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عوف الاشجعی: ایک روایت میں ابو عوف ہے۔ ابوموسیٰ نے (کتابۃً) ہمیں بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی زبانی سنا کہ ہمیں سلیمان بن ابراہیم نے۔ اسے علی بن محمد الفقیہ نے، اسے احمد بن محمد بن ابراہیم نے، اسے محمد بن عبدالوہاب نے، اسے آدم بن ابو ایاس نے اسے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے، اسے عبداللہ بن ولید نے، محمد بن اسحاق سے جو آلِ قیس بن مخرمہ کا آزاد کردہ غلام تھا۔ بیان کیا کہ مالک الاشجعی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ’’یارسول اللہ! میرا بیٹا عوف قید میں ہے۔‘‘ حضور نے فرمایا؛ اسے کہلا بھیجو کہ کثرت سے لاحول ولا قوۃ کا ورد کرے۔ دشمنوں نے انہیں چمڑے میں جکڑ رکھا تھا اس ورد سے وہ ان کے جسم سے علیحدہ ہوکر گر پڑا، ان کی ایک اونٹی پاس کھڑی تھی، اس پر سوار ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب ان لوگوں کے گھر کے پاس سے (جنھوں نے انھیں قید کیا ہوا ۔۔۔
مزید
ام عمرو،زبیر بن عوام کی زوجہ،ان سے ام شیب نے روایت کی،کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اللہ تعالیٰ اس آدمی پر فضل وکرم کرے،جو حجرمیں نماز ادا کرے،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام اسید انصاریہ،ابو اسید انصاری کی زوجہ تھیں،محمد بن محمد بن سرایا بن علی الفقیہ کے علاوہ اور کئی راویوں نے باسنادہ محمد بن اسماعیل سے،انہوں نے سعید بن ابو مریم سے،انہوں نے ابو غسان سے،انہوں نے ابوحازم سے،انہوں نے سہل بن سعد سے روایت کی،کہ جب ابواسید ساعدی نے شادی کی،تو انہوں نے حضورِ اکرم اور صحابہ کوکھانے کی دعوت دی،کھانا تیار کرنے اور مہمانو ں کے سامنے پیش کرنے کا سارا کام ابواسید کی بیوی،ام اسید نے سر انجام دیا،جب حضورِ اکرم کھانا کھا چکے، تو ام اسید نے وہ مشروب جو پتھر کے ایک برتن میں رات کو کھجوریں بھگو کر تیار کیا تھا،ہلا کر تحفہ کے طور پر آپ کو پیش کیا،ابو موسیٰ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عوف بن سعد بن ربیعہ بن یربوع بن وائلہ بن دہمان بن نصر بن معاویہ بن بکر ہوازن النصری: ان کی کنیت ابو علی تھی۔ یہ صاحب جنگ حنین میں لشکر کفار کے سردار تھے۔ جب مسلمانوں کی شکست کے بعد کفار کو شکست ہوئی۔ ہمیں ابو جعفر نے اپنے اس اسناد سے جو یونس تک پہنچتا ہے۔ ابن اسحاق سے یوں روایت کی اس نے بتایا کہ اسے عاصم بن عمر بن قتادہ نے عبدالرحمٰن بن جابر سے اس نے اپنے باپ جابر بن عبداللہ اور عمرو بن شعیب، زہری، عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم اور عبداللہ بن مکرم بن عبدالرحمٰن ثقفی سے حنین کی جنگ کے بارے میں سنا جب حضور اکرم حنین کی جنگ کے لیے ان کی طرف روانہ ہوئے۔ اور وہ مقابلے کے لیے حضور کی طرف بڑھے، اس بارے میں ان کے بیانات مختلف ہیں،لیکن اس امر پر سب متفق ہیں کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے فارغ ہوئے۔ تو مالک بن عوف نصری نے بنو نصر، بنو حشم، بنو سعد، بنو ۔۔۔
مزید
ام عثمان ابوالعاص ثقفی ،ان کے بیٹے عثمان ان کی حدیث کے راوی ہیں،ان کی حدیث کو عبداللہ بن عثمان بن ابوسلیمان نے ابن ابو سوید ثقفی سے،انہوں نے عثمان بن ابوالعاص سے،انہوں نے اپنی والدہ سے،روایت کی کہ وہ اس وقت حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ کے پا س موجود تھیں،جب آپ کی ولادت ہونے کو تھی،جب جناب آمنہ کو درد زِہ شروع ہوا،تو میں نے دیکھا کہ ستارے زمین کے قریب آرہے ہیں اور مجھے یوں لگا،کہ ستارے مجھ پر گرنے والے ہیں،جب آپ کی ولادت ہوچکی تو نور کا ایسا ظہور ہوا،کہ جس کمرے میں ہم تھے،وہ چمک اٹھا،اور جدھر بھی نظر پڑتی تھی ہر طرف نور ہی نور تھا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عثمان دختر سفیان ام بنو شیبہ اکابر، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی،ان سے صفیہ دختر شیبہ نے روایت کی،اور عبداللہ بن مسافع نے اپنی والد ہ سے انہوں نے ام عثمان سے۔ ابویاسر نے باسنادہ عبداللہ سے،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے روح سےاور ابونعیم سے، انہوں نے ام ولد شیبہ سے روایت کی،کہ انہوں نے رسول اکر م کوصفااور مروہ کے درمیان دوڑتے دیکھا اور فرماتے سنا کہ ابطح کی وادی کو تیز رفتار سے طےکرنا چاہئے۔ حماد بن زید نے بدیل بن میسرہ سے،انہوں نے مغیرہ بن حکیم سے،انہوں نے صفیہ سے،انہوں نے ایک عورت سے روایت کی،کہ انہوں نے حضورِ اکرم کو دیکھا،اسی طرح حدیث بیان کی،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ان کا ذکر پیشتر عائذ بن سعید الخیری کی حدیث میں آیا ہے۔ ابومندہ اور ابونعیم نے تخریج کی ہے۔ ابو نعیم کے قول کے مطابق بعض متاخرین نے (یعنی ابن مندہ نے) اسی طرح ان کا ذکر کیا ہے، لیکن ان کے نام کے ساتھ الخیری کا اضافہ کیا، حالانکہ یہ لفظ الجسری (ج+س) ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عثمان دختر خشیم خزاعیہ،وہب بن جریر نے اپنے والد سے،انہوں نے قیس بن سعہ بن عطاءسے ،انہوں نے ام عثمان دختر خشیم سے روایت کی،کہ انہوں نے رسولِ کریم سے عقیقے کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے فرمایا،لڑکے کے لئے دو جوان بکریاں اور لڑکی کے لئے ایک بکری،ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،اور لکھا ہے،کہ یہ حدیث ام کریز کبیسہ کے نام سے معروف ہے۔ ۔۔۔
مزید