ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )ام ِوہب( رضی اللہ عنہا)

ام وہب دخترابوامیہ،ابن جریح کا قول ہے،کہ ابوسفیان بن حرب کے پاس چھ اور صفوان بن امیہ بن خلف کے پاس بھی چھ بیویاں تھیں(۱)ام وہب دختر ابوامیہ بن قیس ازبنوعیاطلہ(۲)فاختہ دختر اسود بن عبدالمطلب(۳)امیمہ دختر ابوسفیان بن حرب(۴)عاتکہ دختر ولی بن مغیرہ (۵)برزہ دختر مسعود بن عمرو(۶)ملاعب الاسنہ عامربن مالک بن جعفر کی بیٹی۔ صفوان نے ام وہب کو طلاق دےدی،کہ وہ بوڑھی ہوگئی تھی،اور فاختہ چونکہ امیہ بن خلف (والد صفوان) کے پاس رہ چکی تھی،اس لئے وہ بھی علیٰحدہ ہو گئیں،عاتکہ اور دختر ملاعب الاسنہ صفوان کے نکاح میں رہیں آخر کار عاتکہ کو خلافت عمر کے دوران طلاق ہو گئی،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام ِورقہ( رضی اللہ عنہا)

ام ورقہ دختر حمزہ بن عبدالمطلب ،جعفر کے مطابق محمد بن حبان کا قول ہےکہ ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،کسی نے عمارہ،کسی نے امامہ اور کسی نے ام الفضل لکھاہے،ان کا ذکر گزرچکاہے ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک بن قدامہ رضی اللہ عنہ

بن عرفجہ بن کعب بن النحاط بن کعب بن حارثہ بن غنم بن السلم بن امرء القیس بن مالک بن اوس الانصاری الاوسی: ابو عمر نے ان کا سلسلۂ نسب اسی طرح لکھا ہے، لیکن بقولِ ابن الکلبی ان کا سلسلۂ نسب مالک بن قدامہ بن الحارث بن مالک بن کعب بن النحاط ہے۔ یعنی ابن الکلبی نے عرفجہ کی جگہ الحارث کا ذکر کرکے، مالک بن کعب کا اضافہ کردیا ہے۔اور باقی وہی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ ابن اسحاق اور ابن کلبی کی روایت ہے کہ یہ صحابی غزوہ بدر میں شریک تھے اور ان کے بھائی المنذر بھی۔ بنو سلم کی نسل ہی ختم ہوگئی ہے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے، لیکن ابن مندہ نے غنم بن سالم لکھا ہے، حالانکہ صحیح لفظ مسلم بہ کسرۂ اول ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام ِولید( رضی اللہ عنہا)

ام ولید دخترعمر،ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے روایت کی،کہ ایک شام کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا،اے لوگو! کیا تمہیں حیا نہیں آتی،انہوں نے گزارش کی، یارسول اللہ!کس چیز سے،فرمایا،تم وہ اشیاء جمع کرتے ہو،جنہیں کھاتے نہیں،اور ایسی چیزوں کی بنیاد رکھتے ہو،جن کی تعمیر نہیں کرتے،اور ایسے معاملات کے بارے میں سوچتے ہو،جن کا تم ادراک نہیں کرسکتے،کیا تمہیں ان حرکتوں سے شرم نہیں آتی،تینوں نے ان کا ذکر کیاہے۔ ابوعمرکاقول ہے،کہ وازع بن نافع کے نزدیک یہ راوی منکر الحدیث ہے،اور ابوسلمہ اور سالم سے ایسی روایت بیان کرتا ہے،جنہیں اس کے بغیر اور کوئی نہیں جانتا۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام ِورقہ( رضی اللہ عنہا)

ام ورقہ دختر عبداللہ بن حارث بن عمری انصاریہ،ایک روایت میں ام ورقہ دختر نوفل ہے اور وہ اپنی کنیت کی وجہ سے مشہور ہیں،ان کے نسب کا اختلاف ہے۔ عبدالوہاب بن علی الصوفی نے باسنادہ ابوداؤد سے،انہوں نے عثمان بن ابی شیبہ سے،انہوں نے وکیع سے،انہوں نے ولید بن عبداللہ بن جمیع سے،انہوں نے اپنی دادی اورعبدالرحمٰن بن خلاد انصاری سے،انہوں نے ام ورقہ بن نوفل سے روایت کی کہ جب حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہِ بدر کے لئے کوچ فرمایا،تو ورقہ نے حضورکے ساتھ چلنے کی اجازت طلب کی،تاکہ مریضوں کی تیمارداری کریں،شاید انہیں بھی شہادت نصیب ہوجائے،فرمایا،تم اپنے گھر میں مقیم رہو،تمہیں یہیں شہادت مل جائے گی،چنانچہ لوگ انہیں شہید کہتے تھے،انہوں نے قرآن حکیم پڑھاتھا،اور آپ نے انہیں گھر میں موذن رکھنے کی اجازت دی ہو ئی تھی۔ انہوں نے اپنے غلام اور لونڈی سے مکاتبت کی تھی،ایک روات وہ دونو۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک بن قطنہ رضی اللہ عنہ

ان سے زیاد بن علاقہ نے روایت کی ہے۔ ابو عمر نے مختصراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام ِیحییٰ( رضی اللہ عنہا)

ام یحییٰ دختر عبدالوہاب،عمر بن محمد بن معمر نے ابوغالب بن بناء سے،انہوں نے ابومحمد جوہری سے،انہوں نے ابوبکر بن مالک سے،انہوں نے بشر بن موسیٰ سے،انہوں نے ہوذہ بن خلیفہ سے، انہوں نے ابنِ جریج سے،انہوں نے عبداللہ بن ابوملیکہ سے،انہوں نے عقبہ بن حارث بن عامر سے روایت کی،کہ ام یحییٰ دختر ابی اہاب نے نکاح کیا،توایک سیاہ فام کنیز ان کے یہاں آئی اور کہا،کہ میں نے تم دونوں کو دُودھ پلایاہے،ام یحییٰ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور واقعہ بیان کیا،آپ نے فرمایا،اس کنیز کو زعم ہے،کہ اس نے تم دونوں کو دُودھ پلایا ہے،پس وہ اس کے قریب نہ جائے،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام ِیحییٰ( رضی اللہ عنہا)

ام یحییٰ بن حصین،ابویاسر نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے والدسے،انہوں نے وکیع سے، انہوں نے اسرائیل سے،انہوں نے ابواسحاق سے،انہوں نے بن حصین سے،انہوں نے اپنی والدہ سے روایت کی ،کہ انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا،اے لوگو،تم امیر کی اطاعت کرو،خواہ تمہارا حاکم ناک کٹا غلام ہی کیوں نہ ہو،یحییٰ بن سعید نے اسے شعبہ سے،انہوں نے یحییٰ سے،انہوں نے اپنی دادی سے روایت کیا،ہم آگے جدۂ یحییٰ کے ترجمے میں اس کا ذکر کریں گے، انشاء اللہ تعالیٰ۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک بن قہطم رضی اللہ عنہ

ایک روایت میں قحطم آیا ہے، جو ابو العشراء دارمی کے والد تھے۔ ابو العشراء اور اُن کے والد کے ناموں کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام بخاری ان کا نام اسامہ بتاتے ہیں اور والد کا نام مالک بن قحطم۔ یہ روایت امام احمد بن حنبل کی ہے۔ ایک روایت کی رو سے ان ک نام عطار دبن بلر قال تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام یسار ن بلز بن مسعود بن خولی بن حرملہ بن قتادہ تھا (جو بنو مولہ بن عبداللہ بن فقیم بن دلرم سے تھا) جو بصرہ میں رہتا تھا (یہ ساری روایت ابوالعشراء کے بارے میں امام بخاری سے منقول ہے)۔ امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے لکھا ہے کہ ابوالعشراء کا نام اسامہ بن مالک تھا۔ ابو عمر کا قول ہے کہ ابوالعشراء کا نام بکر بن قہطم تھا۔ اور ایک روایت میں عطاء بن برز آیا ہے۔ (یہ فتحہ را و سکونِ را) یہ شخص بنو دلرم بن مالک بن زید مناہ بن تمیم سے تھا (یہ کلام ابو عمر کا ہے) امام بخاری ا۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام ِیحییٰ( رضی اللہ عنہا)

ام یحییٰ دختر یعلی بن منبہ،قاضی ابواحمد نے اپنی تاریخ میں ان کا ذکر کیا ہے،کہ وہ فتح مکہ کے موقعہ پر حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،سعید بن صلت کا یہ قول ہے،مگر باقی ان کے خلاف ہیں، ابوعبداللہ نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے اور لکھا ہے،کہ انہیں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت حاصل ہوئی،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید