ابوبکر نے ابو علی سے اس نے ابوبکر بن مقری سے اس نے ابویعلی الموصلی سے اُس نے ابو ربیع الزہرانی سے اس نے محمد بن عبداللہ سے اُس نے عصام بن قدامہ سے اس نے مالک بن نمیر النمیری سے بیان کیا کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جلسہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ ران پر رکھ دیتے اور انگلی سے اس طرح اشارہ فرماتے۔ یہ ابن ابی علیٰ نے بیان لیا، اور ابراہیم بن منصور نے ابن مقری سے اس کے اسناد سے روایت کی ہے،اس نے مالک بن نمیر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی۔ اس کی تخریج ابوموسیٰ نے کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام کلثوم دختر علی بن ابی طالب،جناب فاطمتہ الزہرا ان کی والدہ تھیں،حضورِ اکرم کی وفات سے پہلے پیدا ہوئیں،حضرت عمر نے حضر ت علی سے ان کا رشتہ مانگا،حضرت علی نے کہا ،امیرالمومنین،وہ تو ابھی کم عمر ہے،حضرت عمر نے کہا،اے ابوالحسن،آپ اسے بیاہ دیں،مجھے اس سے ایسی کرامت کی توقع ہے،جو اور کسی کو نہیں ہوسکتی،حضرت علی نے کہا،اچھا،میں اسے آپ کے پاس بھیج دیتا ہوں، اگرآپ نے اسے راضی کرلیا،تو مجھے کوئی عذر نہ ہوگا،چنانچہ حضرت علی نے انہیں حضرت عمر کے پاس یہ کہہ کر بھیجا،کہ یہ چادر لے جاؤ،اور انہیں دے آؤ،جناب ام کلثوم نے حضرت عمر کو کہا ،کہ میں یہ چادر آپ کے لئے لائی ہوں،خلیفہ نے کہا،مجھے یہ چادر پسند ہے،اللہ تجھ سے راضی ہو،اس کے بعد خلیفہ نے ان کے کندھے پر اپناہاتھ رکھا،تو صاحبزادی نے کہا،کہ اگرآپ امیرالمومنین نہ ہوتے ،تو میں آپ کی ناک توڑ دیتی،واپس آگئیں،تو حضرت علی سے ک۔۔۔
مزید
بن حمزہ بن شداد بن عبید بن ثعلبہ بن یربوع التمیمی: یربوعی متمم بن نویرہ کا بھائی تھا۔ یہ صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بنو تیمم سے کچھ صدقات وصول کرنے پر مقرر فرمادیا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے اور کئی عرب مرتد ہوگئے اور سجاح نے خروج کرکے نبوت کا دعویٰ کیا، مالک نے اس سے صلح کرلی، لیکن انھوں نے اسلام کو نہ چھوڑا اور بطاح میں قیام کیا۔ جب خالد بن ولید بنو اسد اور غطفان سے فارغ ہوئے تو وہ مالک کے لیے بطاح پہنچے۔ وہاں سے سب لوگ مالک کے کہنے پر تتر بتر ہوگئے تھے۔ حضرت خالد نے جنگی قیدیوں کو برائے حفاظت تقسیم کردیا۔ اس کے بعد وہ مالک بن نویرہ اور ان کے ہم قبیلہ چند آدمیوں سے ملے۔ خالد بن ولید کا فوجی دستہ ان لوگوں کے بارے میں اختلاف کا شکار ہوگیا۔ ان لوگوں میں ابوقتادہ بھی شامل تھے۔۔۔
مزید
ام کلثوم دختر سہل بن عمرو،آغاز کارہی میں اسلام قبول کیا،عبیداللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے، انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ اسمائے مہاجرین حبشہ،ابوسبرہ بن ابورہم از بنوعامر بن لوئی اور ان کی زوجہ ام کلثوم دختر سہل بن عمرہ کا نام لیا ہے،ہم ان کا ذکر ان کے شوہر کے ترجمے میں کر آئے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
ام کلثوم دختر عقبہ بن ابی معیط بن ابو عمرو بن عبد شمس امویہ،ولید بن عقبہ کی ہمشیر ہ تھیں،ابو موسیٰ معیط کا نام ابان اور ابوعمرو کا نام ذکوان تھا،اور ان کی والدہ کا نام اروی دختر کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس تھا،اور عبدالل بن عامر کی پھوپھی اور عثمان بن عفان کی اخیانی بہن تھیں،مکے میں ایمان لائیں،دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی،رسولِ کریم سے بیعت کی،اور چل کر مدینے کو ہجرت کی،ان کے بھائیوں عمارہ اور ولید پسران عقبہ نے انہیں واپس لانے کے لئے ان کا تعاقب کیا ،لیکن وہ نہ رکیں۔ عبیداللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے ،انہوں نے ابنِ اسحاق سے،انہوں نے زہری اور عبداللہ بن ابوبکر بن حزم سے روایت کی،کہ ام کلثوم دختر عقبہ نے حدیبیہ کے سال میں مدینے کو ہجرت کی، ان کے دونوں بھائی عمارہ اور ولید حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے،کہ بہن کو واپس لے جائیں،ل۔۔۔
مزید
بن عمرو البلوی: ابوموسیٰ نے ابن شاہین سے سنبر کے تذکرے میں ان کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام شریک دختر جابر غفاریہ،احمد بن صالح مصری نے انہیں ازواج مطہرات میں شمار کیا ہے، بقولِ ابنِ حبیب انہوں نے حضورِاکرم سے بیعت کی،ابو عمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمرو التمیمی: ان کا ذکر ان لوگوں میں ملتا ہے، جو بنو تمیم کے اس وفد میں شامل تھے۔ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمرو التمیمی: ان کا ذکر ان لوگوں میں ملتا ہے، جو بنو تمیم کے اس وفد میں شامل تھے۔ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام شریک دختر خالد بن خنیس بن لوذان بن عبد ود،بقول ابن حبیب ،انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید