ام رعلہ قشیریہ،جعفر مستغفری نے ان کا ذکر کیا ہے،انہوں نے باسنادِ ضعیف اذراعی سے،انہوں نے عطا سے،انہوں نے ابن عباس سے روایت کی،کہ ایک خاتون کہ جن کانام ام رعلہ قشیریہ تھا،حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،وہ بڑی فصیح البیان تھیں،انہوں نے گزارش کی،"اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَارَسُولَ اللہِ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ ہم عورتیں گھروں میں محصور ہیں،اور مردوں کے تسلّط اور تغلب کا نشانہ ہیں،ان کی اولاد کو پالتی ہیں،اور ان کی آسائش کا انتظام کرتی ہیں،ہمارے بڑے بڑے لشکروں میں کوئی حصہ نہیں،وہ طریقہ بتائیے جس سے ہمیں اللہ کا قرب حاصل ہو،"حضورِ اکرم نے فرمایا،کہ تمہیں چاہئیے کہ راتوں کو اور صبح وشام کے دَوران میں اللہ کا ذکر کرو،آنکھوں کو نیچا رکھو اور آواز کو آہستہ رکھو،ابوموسیٰ نے اس کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ام ربیع دختر اسلم بن حریش بن عدی بن مجدعہ زوجہ برذع بن زید ظفری یزید بن برذع کی والدہ تھیں بقول ابن حبیب انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
صفیہ دختر خطاب جو حضرت عمررضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ اور قدامہ بن مظعون کی زوجہ تھیں،ہم قدامہ کے ترجمے میں ان کا ذکر کر آئے ہیں،غسانی نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام رافع دختر عبداللہ بن نعمان بن عبید انصاریہ از بنومالک بقول ابن حبیب انہوں نے حضور کی زیارت کی۔ ۔۔۔
مزید
صفیہ دختر لشامہ،جواعور کی ہمشیرہ تھیں،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا ،لیکن نوبت خلوت صحیحہ تک نہ پہنچی،بقولِ ابنِ حبیب ان کا تعلق بنوعنبر بن تمیم سے تھا۔ صفی دختر ثابت بن فاکہہ بن ثعلبہ انصاریہ،از بنو خطمہ،بقولِ ابنِ حبیب حضورِاکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام رافع ان کا نام سلمیٰ تھا،انہوں نے حضوراکرم کو پایا،ہم ان کا ذکر پہلے کرآئے ہیں،لیث نے ہشام بن سعد سے،انہوں نے زید بن اسلم سے،انہوں نے عبیداللہ بن وہب سے،انہوں نے ام رافع سے روایت کی کہ میں نے حضورِ اکرم سے دریافت کیا یا رسول اللہ میں نماز کیسے شروع کروں،فرمایا، جب توکھڑی ہو دس بار اللہ اکبر کہہ،جب تو یہ کلمہ کہے گی تواللہ تعالیٰ فرمائے گا،یہ میرے لئے ہے، پھر سُبحَانَ اللہِ وَبِحَمدِہٖدس بار کہہ،اس پر بھی اللہ فرمائے گا یہ بھی میرے لئے ہے،پھر اللہ تعالیٰ کی دس بار حمد کر ،اس پر اللہ کہے گا،یہ میرے لئے ہے،پھر تو دس بار معافی طلب کر اس پر اللہ کہے گا، میں نے تجھے معاف کیا۔ اس حدیث کو عطاف بن خالد نے زید بن اسلم سے،انہوں نے ام رافع سے روایت کیا کہ انہوں نے حضورِ اکرم سے درخواست کی ،یارسول اللہ ،مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے،جس کا اللہ تعالیٰ مجھے اجر دے، آپ نے فرمای۔۔۔
مزید
ام رافع دختر عثمان بن مخلد انصاریہ از بنو زریق،بقول ابنِ حبیب انہوں نے حضورِ اکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
صفیہ دختر محمیہ بن جزی زبیدی جو فضل بن عباس کی بیوی تھیں،حدیث میں ان کا ذکر آیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام ریعہ دخترِ خدّام،بقول ابو موسیٰ،ام ریعہ خنساء دخترخدّام کی کنیت معلوم ہوتی ہے۔ قاضی ابوالخیر عمر بن محمد بن عبداللہ بن عزیزہ نے شجاع اور احمد سے جوعلی بن شجاع کے لڑکے تھے، انہوں نےمحمد بن اسحاق حافظ سے،انہوں نے احمد بن محمد بن زیاد سے،انہوں نے عباس بن محمد دوری سے،انہوں نےاحمد بن یونس سے،انہوں نے ابوبکر بن عیاش سے،انہوں نے یعقوب بن عطاسے، انہوں نے عطاسے،انہوں نے ابن عباس سے روایت کی،کہ خدام کی بیوی ریعہ کو اپنے خاوند سے نفرت تھی،وہ حضورِ اکرم کے پاس آئیں ،اور شکایت کی،آپ نے میاں بیوی میں تفریق فرمادی اور پھر ابولبابہ نے ان سے نکاح کرلیا۔ یہ حدیث جو یعقوب سے مروی ہے،حدیث غریب ہے،باقی تمام روایات میں خنساء کا نام مذکور ہے، ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
صفیہ دخترشیبہ بن عثمان عبدریہ از بنو عبدالدار،ان کی صحبت کے بارے میں اختلاف ہے،ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابو ثور اور میمون بن مہران نے روایت کی۔ ابو جعفر باسنادہ یونس بن بکر سے،انہوں نے ابنِ اسحاق سے،انہوں نے محمد بن جعفر بن زبیر سے، انہوں نےعبیداللہ بن عبداللہ بن ابو ثور سے،انہوں نے صفیہ دختر شیبہ سے روایت کی،کہ جب رسولِ کریم فتح مکہ سے مطمئن ہوگئے،تو آپ نے اُونٹ پر سوار ہو کر کعبے کا طواف کیا،اور حجر اسود کو ایک چھڑی سے جو آپ کے ہاتھ میں تھی،بوسہ دیا،پھر کعبے میں داخل ہوئے،وہاں لکڑی کا ایک بت دیکھا جسے توڑدیا،پھر آپ کعبے کے دروازے پر کھڑے ہوئے،میں آپ کو دیکھ رہی تھی،آپ نے چھڑی پھینک دی۔ جناب صفیہ سے میمون بن مہران نے روایت کی کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جناب میمونہ سے نکاح کیا،اور دونوں رضامند تھے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید