حبشیہ خزاعیہ عدویہ عدی خزاعہ،یہ خاتون سفیان بن معمر بن حبیب البیا ضی کی بیوی تھیں،انہوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی، اسے ابن البیعہ نے ابوالاسود سے،انہوں نے عروہ سے روایت کی، کہ ان کے نام میں تصحیف ہو ئی ہے،اصل نام حسنہ تھا، ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حمامہ ،ابو عمر نے ان کا ذکر ان لوگوں میں کیا ہے،جنہیں کفارِ مکہ اسلام لانے کے جرم میں تکلیف پہنچاتے تھے، انہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خرید کر آزاد کر دیا تھا،یہ ابن الدباغ کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
خلیسہ ،جناب حفصہ کی کنیز تھیں،ان کی حدیث علیہ دختر مکیت نے اپنی دادی سے،انہوں نے خلیسہ سے روایت کی،کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج عائشہ اور حفصہ باتیں کررہی تھیں،کہ جناب سودہ نمودارہوئیں تو انہوں نے آپس میں کہا ،کہ دیکھو ،سودہ کی حالت مقابلتہً کتنی بہتر ہے،(وہ طائفی کھالیں بنایا کرتی تھیں) آپس میں مشورہ کیا ،آؤ سودہ کو پریشان کریں،جب وہ قریب آئیں،تو انہوں نے کہا،سودہ! کیا تمہیں معلوم ہواہے؟ کونسی بات؟دجال کا خروج ہوگیا ہے،انہوں نے کہا،وہ ڈر گئیں او ر قافلے کے خیمے میں جا گھسیں،جہاں انہوں نے آگ جلا رکھی تھی،اور ان کی ہنڈیا میں زعفران تھی،اتنے میں حضورِ اکرم تشریف لے آئے،جب ان خواتین نے حضور کو آتے دیکھا تو ان پر ہنسی کا ایسا دَورہ پڑا،کہ وہ ہنسے جارہی تھیں،انہوں نے خیمے کی طرف اشارہ کیا،حضورِ اکرم وہاں گئے تو جناب سودہ نے کہا ابھی دجال یہاں تھا،باہر ۔۔۔
مزید
صفیہ ایک صحابیہ ہیں،ان کی حدیث کے راوی اہل کوفہ ہیں،ان سے مسلم بن صفوان نے روایت کی،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
صفیہ یہ بھی ایک صحابیہ تھیں،ان سے اسحاق بن عبداللہ بن حارث نے روایت کی،کہ وہ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اور آپ کے سامنے حلوہ پیش کیا،جس سے آپ نے تناول فرمایاپھر نماز پڑھی،لیکن وضو نہ فرمایا،ابوعمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ہند دختر ابی امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم قرشیہ مخزومیہ ،ازواج مطہرات میں سے تھیں، ان کے والد کا نام ابو امیہ حذیفہ اور عرف زادالراکب تھا،جو قریش کے مشہور اور سخی آدمیوں میں سے تھے،جناب ہند کی والدہ کا نام عاتکہ دختر عامر بن ربعیہ بن مالک بن خزیمہ بن علقمہ تھا۔ ان کے نا م کے بارے میں اختلاف ہے،ایک روایت میں رملہ ہے،جوغلط ہے،ایک میں ہند ہے،اور اکثر اسی کو درست کہتے ہیں۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ہند سے بعد از غزوۂ بدر ہجرت کے تیسرے سال نکاح کیا، ایک روایت میں ہے،کہ ابوسلمہ غزوۂ احد میں موجود تھے،اور ان کی وفات بعد میں ہوئی،یہ ابن اسحاق کا قول ہے،روایت میں ہے کہ جب حضورِ اکرم شبِ اوّل کو ان کے پاس آئے تو دریافت کیا کہ آیا تو میرا ساتویں دن آنا پسندکرے گی،جیساکہ میرا معمول ہے،یا تیسرے دن،تاکہ ویسا کروں۔ ام سلمہ کی وفات کے یزید ک۔۔۔
مزید
ہند دختر ابوطالب،ام ہانی قرشیہ ہاشمیہ،ان کے بارے میں اختلاف ہے،ایک روایت میں ہند اور ایک میں فاختہ مذکور ہے،اور جس آدمی نے ان کانام ہند بتایاہے،اس کی دلیل یہ ہے،ابوجعفر نے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی،کہ ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی،ام ہانی کا شوہر تھا، وہ نجران میں مقیم تھا اور وہیں بحالت کفر مرا۔جب اسے ام ہانی کے قبولِ اسلام کا علم ہوا،جو اس کی بیوی تھی،اور جس کا نام ام ہانی ہند تھا،تواس نے ذیل کے شعر کہے۔ (۱)اَستاقَتک ھِند۔اَم اَتَاکَ سَوَالُھا کَذَاک النَّویٰ اَسبابھا وانفِتَالِھَا (ترجمہ)کیا تجھے ہند کے شوق نے ستایا ہے یا اس کا پیغام آیا ہے جدائی اور دُوری کے اسبباب ایسے ہی ہوتے ہیں۔ (۲)وَقَدارقت فِی رَاسِ خِصنٍ مُمَرَّدٍ بہٖ نجران یَسری بَعدَ لَیلٍ خیَالِھَا (ترجمہ)اس نے مجھے نجران کے ایک اونچے قلعے میں رات بھر جگائے رکھا،اوراس کا خ۔۔۔
مزید
ہند دختر عتبہ بن ربعیہ بن عبدشمس بن مناف قرشیہ ہاشمیہ،ابوسفیان بن حرب کی بیوی اور امیرمعاویہ کی والدہ تھیں فتح مکہ کے موقع پراسلام قبول کیا،اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ابوسفیان سے ان کونکاح کو (حالانکہ بیوی شوہر سے ایک رات بعداسلام لائی)جائزقرار دے دیا تھا،اور یہ ایسی خاتون تھیں،جوجری،مغرور،ذی رائے اور عقل مند تھیں،غزوۂ احد کے موقع پر وہ ذیل کے رجزیہ اشعار پڑھ رہی تھیں۔ نَحنُ نَبَاتُ طارق ہم صبح کے ستارے کی بیٹیاں ہیں نمشٰی عَلَی النّمَارِق ہم غالیچوں پر چلتی ہیں اِن اتقبلوانُعَانِق اگر تم دشمن کا مقابلہ کروگے تو تم سے گلے ملیں گی۔ لَو تدبرُوانَفَارِق فِرَاقُ غَیروامِق (ترجمہ)اگرتم میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیرو گے تو تم سے علیحدہ ہوجائیں گی یہ فراق بیگانوں کا فراق ہوگا۔ جب حمزہ شہید ہوئے تو ہندنے ان کے کان اور ناک کاٹے،ان کا پیٹ پھ۔۔۔
مزید
ہند دختر اثاثہ بن عباد بن مطلب بن مناف قرشیہ مطلبیہ،یہ خاتون مسطح بن اثاثہ کی ہمشیرہ تھیں، عدی نے مسطح کے ترجمے میں ان کا ذکرکیا ہے،ابوجعفر نے باسنادہ یونس سے ،انہوں نے ابنِ اسحاق سے،انہوں نے صالح بن کہسان سے روایت کی کہ ہند دختر ربعیہ احد کے معرکے میں ایک اونچی سی چٹان پر جس سے میدانِ جنگ نظر آتاتھا،چڑھ کر بیٹھ گئیں،جب اصحابِ رسول کریم رؤف و رحیم کو وہ حادثہ پیش آیا،تو اس عورت نے وہاں سے چلّاچلّاکر ذیل کے یہ اشعار پڑھے۔ (۱)نَحنُ جَزَینَا کُم بِیَو م بَدَرٖ وَالحَربُ بَعدَالحَربِ ذَاتُ سَعَرٖ (ترجمہ)ہم نے تم سے بدرکا بدلہ لے لیا اور لڑائی کے بعد دوسری لڑائی آگ کی طرح بھڑکتی ہے۔ (۲)مَاکَانَ مِن عُتبَۃِ لِی مِن صبرٖ اَبِی وَعَمیِّ وَشَفِیقُ بَکرِی (ترجمہ)میں عتبہ کی موت پر اور اسی طرح اپنے باپ،چچا اور بکر بھائی کی موت پر صبر نہیں کرسکتی تھی۔ (۳)ش۔۔۔
مزید
ہند دختر اسید بن حضیر انصاریہ،ان کا ذکر محمد بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ کی حدیث میں ملتا ہے، ابن مندہ اور ابونعیم نے اس پر کچھ اضافہ نہیں کیا،لیکن ابو عمر نے اضافہ کیا ہے کہ ان سے ابوالرجال نے روایت کی،کہ حضورِ اکرم عموماً قرآنِ حکیم سے خطبہ دیا کرتے تھے،چنانچہ میں نے ق۔وَالقُراٰنِ المَجِیدِحضور رسول ِکریم کی زبانی سُن سُن کر یاد کرلی تھی۔ ۔۔۔
مزید