پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہند جہتیہ،ابوبکر محمد بن عبداللہ بن ابراہیم شافعی نے ابوالعباس مسروق سے،ا نہوں نے عمر بن عبدالحکیم اور حفص بن عبداللہ وراق اور قاسم بن حسن سے،انہوں نے ابنِ سعد سے،انہوں نے اپنے والد سےروایت کی کہ ابتدائے اسلام میں بشر نامی ایک شخص کے پاس آتاجاتا تھا،اس کا تعلق بنواسد میں عبدالعزیٰ سے تھا،اور اس کا معمول تھا،جب بھی صبح کو رسولِ کریم کی خدمت میں آتا، وہ بنوجہنیہ کے پاس سے گزرتا،اس قبیلے میں ایک حسین و جمیل عورت تھی،جس کےخاوند کا نام سعد بن سعید تھا،وہ روزانہ اس راستے پر بیٹھ جاتی،تاکہ وہ اسے دیکھ سکے اور بشر اسے دیکھے،اس طرح اس عورت کو بشر سے محبت ہوگئی،راوی نے اِس قصے کو تفصیل سے بیان کیا ہے،جعفر مستغفری نے ذکر کیا ہے،اور ابوموسیٰ نے بھی اسے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہند( رضی اللہ عنہا)

ہند خولانیہ جو جناب بلال کی زوجہ تھیں،ان کا نام سعید بن عبدالملک نے اوزاعی سے،انہوں نے عمیربن ہانی سےروایت کیا،روایت ہے کہ انہیں صحبت ملی،یہ خاتون دمشق کے داریابستی کی رہنے والی تھیںابومحمد بن ابوالقاسم بن حسن بن ہبتہ اللہ دمشقی نے اجازۃً ابوالبرکات بن مبارک سے،انہوں نے ابوالحسین طیوری سے،انہوں نے عبدالعزیز بن علی آزجی سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن عمر بن احمد بن حیثمہ سے،انہوں نے ابوبکر محمد بن احمد بن یعقوب بن شیبہ سے، انہوں نےاپنے دادا سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن مبارک سے،انہوں نے عبدالعلی بن عبدالاعلیٰ سے،انہوں نے سعید الجریری سے،انہوں نے ابوالورد قشیری سے،انہوں نے بنوعامر کی ایک عورت سے،اس نے بلال کی بیوی سے روایت کی،کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں آئے اور آپ نے سلام کہا،اور دریافت فرمایا،کیابلال موجود ہے،ان کی بیوی نے جواب دیاکہ نہیں، آپ نے فرمایاکہ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )حُکَیمَہ( رضی اللہ عنہا)

حُکَیمَہ دختر غیلان ثقفیہ،یعلی بن مرہ کی بیوی تھیں،اپنے شوہر سے روایت کی،لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا،آیا انہیں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم سے سماع نصیب ہو ا یا نہ،صِرف ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہریرہ( رضی اللہ عنہا)

ہریرہ دخترِ زمعہ بن قیس بن عبدشمس،جناب سودہ کی ہمشیرہ تھیں،بقول ِجعفرانہیں صحبت حاصل ہوئی،جعفر نے باسنادہ طالب بن حجیر سے ،انہوں نے ہود سے،انہوں نے عبدالقیس کےایک آدمی سے، جس نے جاہلیت میں کافی حج کئے تھے اور اس کانام معبد بن وہب تھا،اس نے قریش کی عورت بریرہ نامی سے شادی کی تھی،وہ بدر میں موجود تھے،اور صفین میں بھی لڑے تھے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایاتھا،خداان پر رحم کرے،یہ زمین میں خداکے شیر ہیں،ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )حذافہ( رضی اللہ عنہا)

حذافہ دخترِ حارث سعدیہ جو شیما کے عرف سے مشہور تھیں،یہ ابن اسحاق کا قول ہے،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضاعی بہن تھیں،اور حضورِ اکرم کی تربیت میں اپنی والدہ کی شریک رہی تھیں ہم شیما کے تحت پھر ان کا ذکر کریں گے،ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عبادہ( رضی اللہ عنہا)

عبادہ دختر ابو نائلہ بن سلامہ بن وقش بن زغبہ بن زعورأ،بقول ابن حبیب اس خاتون نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جعدہ( رضی اللہ عنہا)

جعدہ دخترِ عبداللہ بن ثعلبہ بن عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجامہ انصاریہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کے گھر آتے اور کھانا تناول فرماتے،یہ عدوی کا قول ہے،اور غسانی نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جعدہ( رضی اللہ عنہا)

جعدہ دختر عبید بن ثعلبہ بن سواد بن غنم بن حارثہ بن نعمان انصاریہ،بقول ابنِ حبیب،انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جبلہ( رضی اللہ عنہا)

جبلہ دختر مصفح،رسولِ اکرم کی زیارت حاصل ہوئی،ان سے فضیل بن مرزوق نے روایت کی،ابو عمر نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جد امہ( رضی اللہ عنہا)

جد امہ دختر جندل،ابن اسحاق نے ان کا ذکر ان مہاجر خواتین میں کیا ہے،جن کا تعلق بنو غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ سے تھا۔ ۔۔۔

مزید