جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )کبشہ( رضی اللہ عنہا)

کبشہ دختر فروہ بن عمرو بن فروہ انصاریہ از بنو بیاضہ،بقول ابن حبیب حضورِاکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )کبشہ( رضی اللہ عنہا)

کبشہ دختر حاطب بن قیس بن ہیثہ از بنو معاویہ،بقول ابنِ حبیب آپ سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ماریہ( رضی اللہ عنہا)

ماریہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمتگذار اور مثنیٰ بن صالح بن مہران مولی عمرو بن حریث کی دادی تھیں،ان سے اہل کوفہ نے صرف ایک حدیث روایت کی ہے،ابوبکر بن عیاش نے ،مثنی بن صالح بن مہران سے،انہوں نے اپنی دادی ماریہ سے روایت کی،کہ انہوں نے حضورِ اکرم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کسی چیز کو نہیں چھؤا،تینوں نے ذکرکیا ہے۔ ابوعمر لکھتے ہیں،میں نہیں کہہ سکتا،کہ یہ خاتون اول الذکر ہی ہیں یا کوئی اور ابونعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے اول الذکر سے مختلف قراردیاہے،ابن اثیر کے خیال میں دونوں ایک ہیں،واللہ اعلم۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ماریہ( رضی اللہ عنہا)

ماریہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمتگذار اور مثنیٰ بن صالح بن مہران مولی عمرو بن حریث کی دادی تھیں،ان سے اہل کوفہ نے صرف ایک حدیث روایت کی ہے،ابوبکر بن عیاش نے ،مثنی بن صالح بن مہران سے،انہوں نے اپنی دادی ماریہ سے روایت کی،کہ انہوں نے حضورِ اکرم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم کسی چیز کو نہیں چھؤا،تینوں نے ذکرکیا ہے۔ ابوعمر لکھتے ہیں،میں نہیں کہہ سکتا،کہ یہ خاتون اول الذکر ہی ہیں یا کوئی اور ابونعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے اول الذکر سے مختلف قراردیاہے،ابن اثیر کے خیال میں دونوں ایک ہیں،واللہ اعلم۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سدیسہ (رضی اللہ عنہا)

سدیسہ انصاریہ،بروایتے وہ جناب حفصہ کی آزاد کردہ تھیں،اسحاق بن یسار نے فضل بن موفق سے انہوں نے اسرائیل سے،انہوں نے اوزاعی سے،انہوں نے سالم سے،انہوں نے سدیسہ سے اور ایک دفعہ جناب حفصہ نے بتایا،کہ حضورِاکرم نے فرمایا،کہ جب سے عمر نے اسلام قبول کیاہے، شیطان کا جب بھی عمر سے آمنا سامنا ہوا،وہ منہ کے بل گر پڑا، یہی روایت عبدالرحمٰن بن فضل نے اپنے والد سے بیان کی،لیکن انہوں نے اسناد میں حفصہ کا نام نہیں لیا،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )کبشہ( رضی اللہ عنہا)

کبشہ دختر حکیم ثقفیہ،جو ام الحکم دختر یحییٰ بن عقبہ کی دادی تھیں،ام الحکم نے ان سے روایت کی،نیز انہیں حضورِاکرم کی زیارت اور صحبت نصیب ہوئی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )کبشہ( رضی اللہ عنہا)

کبشہ دختر کعب بن مالک انصاریہ سلمیہ جو ابو قتادہ انصاری کی زوجہ تھیں،بقول جعفر انہیں صحبت نصیب ہوئی،لیکن ان سے کوئی روایت مروی نہیں ،ایک اور روایت میں ہےکہ انہوں نے ابو قتادہ سے بلّی کے جوٹھے کے بارے میں روایت بیان کی۔ اسحاق بن عبداللہ بن ابو طلحہ نے حمیدہ دختر عبید بن رفاعہ سے،انہوں نے کبشہ دختر کعب بن مالک سے روایت کی،کہ ابو قتادہ گھر آئے،تو میں نے وضو کے لئے پانی رکھا،اتنے میں ایک بلّی آگئی اور اس نے پانی پینا شروع کردیا،اس دوران میں ابو قتادہ نے برتن ایک طرف سے اٹھایا،جب وہ پانی پی چکی میں نے دیکھا،کہ ابو قتادہ غور سے مجھے دیکھ رہے تھے،کہنے لگے،کبشہ کیا تمہیں تعجب ہورہا ہے، میں نے کہا ،ہاں، کہنے لگے،حضورِاکرم نے فرمایا،چونکہ یہ جانور اکثر تمہارے گھروں میں آتے جاتے رہتے ہیں،اسلئے ان کا جوٹھا ناپاک نہیں ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ماریہ یاماویہ( رضی اللہ عنہا)

ماریہ یا ماویہ،یہ خاتون حجیر بن ابواہاب تمیمی کی آزاد کردہ تھیں،جن کے گھر میں خبیب بن عدی کو قید کیا گیا تھا،عبیداللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے ،انہوں نے ابن ابی نجیح سے،انہوں نے ماریہ سے روایت کی،کہ خبیب بن عدی ان کے گھر میں بند تھا،ایک دن انہوں نے اس کے ہاتھ میں انگوروں کا اس کے سر کے برابر ایک گچھادیکھا،جس سے وہ توڑ توڑ کر کھارہاتھا، حالانکہ اس زمانے میں عرب میں انگور کا ایک دانہ بھی دستیاب نہیں تھا،ابوعمر نے ذکر کیا ہے۔ یونس اور بکائی نے بروایت ابنِ اسحاق اس خاتون کا نام ماویہ لکھاہے اور عبداللہ بن ادریس نے ماریہ لکھا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )درہ( رضی اللہ عنہا)

درہ دختر ابو سلمہ بن عبدالاسد قرشیہ مخزومیہ،رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ربیب تھیں،ان کی والدہ ازواج مطہرات میں شامل تھیں۔ لیث بن سعد نے یزید بن ابو حبیب سے،انہوں نے عراک بن مالک سے روایت کی ،کہ زینب دختر ابو سلمہ نے انہیں بتایا،کہ ام حبیبہ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا،ہمیں معلوم ہواکہ آپ ابوسلمہ کی بیٹی درہ سے نکاح کرنے والے ہیں،فرمایا،ام سلمہ کی موجودگی میں اگر میں نےام سلمہ سے نکاح نہ کیا ہوتا،جب بھی وہ میرے لئے حلال نہیں تھی کیونکہ میں اس کا رضاعی بھائی تھا،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ابو عمر لکھتے ہیں،کہ اہل علم جانتے ہیں،کہ ام سلمہ کی بیٹیاں آپ کی ربیب تھیں،بقول زبیر ابو سلمہ بن عبدالاسد کے دو لڑکے سلمہ اور عمرواور دو لڑکیاں درہ اور زینب تھیں،اور ان کی ماں سلمہ دختر ابو امیہ تھیں۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )درہ( رضی اللہ عنہا)

درہ دخترابو سفیان صخر بن حرب بن امیہ قرشیہ امویہ،ام حبیبہ کی ہمشیرہ تھیں،ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے ، انہوں نےزینب دختر ابو سلمہ سے،انہوں نے ام حبیبہ سے روایت کی،کہ میں نے رسولِ کریم کی خدمت میں عرض کیا،یا رسول اللہ!کیا آپ درہ دختر ابوسفیان کے بارے میں غور فرما ئیں گے،حضورِاکرم نے فرمایا،میں کیا کروں، میں نے عرض کیا،آپ اس سے نکاح کرلیں،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا،کیا تو اس امر کو پسند کرتی ہے، میں نے عرض کیا،میں آپ کو چھوڑنا نہیں چاہتی،لیکن میں یہ ضرور چاہتی ہوں کہ آپ کی محبت میں جو خاتون میری شریک ہو،وہ میری بہن ہو،لیکن وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہو سکتی،میں نے عرض کیا،لیکن میں نے تو سنا ہے کہ آپ زینب دختر ابو سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں،فرمایا،یہ کیسے ہو سکتا ہے،وہ تو میری ربیب ہے،اور میں نے اور اس کےباپ نے ثوبیہ کا دودھ پیا ہے،بہتر یہی ہے،۔۔۔

مزید