حرملہ دخترِ عبدالاسود بن خزیمہ بن ابو قیس بن عامر بن بیاضہ خزاعیہ،ایک روایت میں حریملہ آیا ہے،ابوعمر نے یہی لکھا ہے،یہی خیال طبری کا ہے،ابن حبیب نے حرملہ لکھا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حرملہ دختر عبید بن ثعلبہ بن سواد بن غنم انصاریہ،از بنو مالک بن خزرج بقول ابن حبیب انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
حسانہ مزیتہ،ان کا نام جثامہ تھا،حضورِ اکرم نے حسامہ بنا دیا،یہ خاتون حضرت خدیجتہ الکبرٰی رضی اللہ عنہاکی دوست تھیں،حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلّم ان سے مروّت سے پیش آتے تھے،اور اسے پاس داری عہد کا نام دیا کرتے ،جو اہلِ ایمان کی علامت ہے۔ ابن ابو ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک بڑھیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی،فرمایا،کون ہو؟ اس نے عرض کیا،میں جثامہ مزینہ ہوں،فرمایا ،تم جثامہ نہیں،بلکہ حسانہ ہو، پھر بڑی توجہ اور مہربانی سے اس کی اور اہل خاندان کی خیریت دریافت کی،فرمایا ،کہ ہمارے بعد تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی،اس نےخیر و عافیت بیان کی اور چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد حضرت عائشہ نے گزارش کی ،یا رسول اللہ!یہ بڑھیا کون تھی،جس میں آپ نے اتنی دل چسپی لی اور اتنی مہربانی اور شفقت کا اظہار کیا،حضورِ اکرم نے ف۔۔۔
مزید
حسنہ شرجیل بن حسنہ کی والدہ تھیں،انھوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی،ابراہیم بن سعد نے مہاجر ین حبشہ میں بنو جمح بن عمرو سے سفیان بن معمر بن حبیب بن وہب بن جمح،ان کے دو بیٹوں خالد اور جنادہ،ان کی والدہ حسنہ اور ان کے اخیانی بھائی شرجیل کا ذکر کیا ہے،ابن مندو اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
الحویصلہ دختر قطبہ،ابو عمر نے قطبہ کے ترجمے میں ذکر کیا ہے،کہ قطبہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی،یارسول اللہ! میں اپنی طرف سے اور حویصلہ کی طرف سے آپ سے بیعت کرتا ہوں۔ حیہ دختر ابوحیہ،ان کی حدیث کر عبداللہ بن عون نے عمرو بن سعید سے ،انہوں نے ابو زرعہ بن عمرو بن حریر سے انہوں نے حیہ دختر ابو حیہ سے روایت بیان کی کہ ایک بار میرے پاس ایک اجنبی آیا،میں نے پوچھا،کون ہو،کہا ابوبکر صدیق،پوچھا،حضورِ اکرم کے رفیق،کہا ، ہاں! ابن مندہ نے اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ امیر ابو نصر کہتے ہیں کہ حیہ کی یا پر تشدید ہے،انہوں نے حضرت ابوبکر سے روایت کی اور ان سے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر نے۔ ۔۔۔
مزید
حواء دختر رافع بن امرأ القیس از بنو عبدالاشہل،بقول ابنِ سعد انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی،ابن مندہ نے اختصاراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حواء دختر یزید بن ستان بن کرز بن زعورأ انصاریہ،بقول مصعب،اس خاتون نے اسلام قبول کیا اور خاوند سے چھپائے رکھا،جب ان کا خاوند قیس بن خطیم جو شاعر تھا،قریش کا حلیف بننے مکے آیا،تو حضورِ اکرم نےاسلام کی دعوت دی، اس نے آپ سے مدینےآنے کی مہلت مانگی،حضور رسالتمآب نے اسے اپنی بیوی سے اجتناب کا حکم دیا کیونکہ و ہ اسلام قبول کر چکی تھیں، اور فرمایا کہ بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے،قیس نے حضور کے حکم کی تعمیل کی،جب حضورِ اکرم کو اس کا عِلم ہوا،تو فرمایا،کہ قیس نےاپنا وعدہ پورا کردیا۔ بعض علمأ نے مصعؓ کی اس روایت کو غلط قراردیا ہے،وہ کہتے ہیں اس خاتون کے خاوند کا نام قیس بن شماس تھا،اور قیس بن خطیم ہجرت سے پہلے ہی ماراگیاتھا،ابو عمر کہتے ہیں کہ مصعب کی روایت درست ہے،اور قیس بن شماس قیس بن حطیم سے عمر میں بڑا ہے،اور یہ اسلام کو نہ پاسکا،البتہ اس کا بیٹا ثابت بن قیس ۔۔۔
مزید
حواء ام بجید انصاریہ،یہ خاتون انصار میں اپنے شوہر سےپہلے اسلام لائیں،اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کی،ان کے خاوند کا نام قیس بن حطیم اور والد کا نام یزید بن سکن بن کرزبن عورأ از بنو عبدالاشہل تھا،یہ ابو نعیم کا قول ہے کہ ایک روایت میں حواء دختر رافع بن امرأ القیس از بنو عبدالاشہل مذکور ہے،ابو نعیم نے یہ سارا فلسفہ ابن اسحاق سے،انہوں نے عاصم بن عمرو بن قتادہ سے لیا ہے،ابو نعیم کی رائے میں یزید بن سکن کی بیٹی ام بجید ہے حالانکہ ام بجید وہ خاتون ہیں،جو رافع کی بیٹی ہیں،ابن مندہ نے حواء دختر زہد نم سکن اشہلیہ کو قیس بن حطیم کی بیوی کہا ، جنہوں نے اسلام قبول کرکے ہجرت کی،اور اسی خاتون کو ام بجید کہتے ہیں،ابن مندہ نے ایک دوسرا ترجمہ حواء دختر یزید بن سنان بن کرز بن زعوأ پر جو قیس بن حطیم کی بیوی تھی،لکھا ہے،تیسرا ترجمہ حواء انصاریہ پر لکھا ہے،جو ابن۔۔۔
مزید
حواء دختر زید بن سکن انصاریہ از بنو عبدالاشہل،مدنی تھیں اور عمرو بن معاذ اشہلی کی دادی تھیں۔ ابو یاسر بن ابی حبہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے روح سے،انہوں نے مالک بن زید بن اسلم سے،انہوں نے ابن بجید انصاری سے،انہوں نے اپنی دادی سے،انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا،کہ سائل کو جلی روٹی کا ٹکڑا ہی دے دو،لیکن رد نہ کرو۔ اسی خاتون سے عمرو بن معاذ نے روایت کی ،اور امام احمد نے اس حدیث کر حواء جدۂ عمرو بن معاذ کے ترجمے میں بیان کیا ہے،اس بنأ پر حواء بن بجید کی بھی دادی ہوں گی،اور ابونعیم اور ابوعمر نے اس ترجمے سے پہلے اس حدیث کو حواء ام بجید کے ترجمے میں لکھا ہے،اور ابوعمر نے اس ترجمے میں بھی اس کا ذکر کیا ہے،اس لحاظ سے انہوں نے انہیں دو تراجم میں ذکر کیا ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے،کہ دونوں ایک ہیں،حالانکہ انہوں نے دوش۔۔۔
مزید
ہزیلہ دختر حارث بن حزن ہلالیہ،ام المومنین میمونہ کی ہمشیرہ تھیں،بقولِ جعفر یہ ام حفید کا نام ہے، یہ وہ خاتون ہیں ،جنہوں نے جناب میمونہ کو گوہ،پنیر اور گھی بطور تحفہ پیش کیا تھا،انہوں نے ایک بدو سے نکاح کیاہواتھا،قعتبی نے مالک سے،ا نہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابو صعصعہ سے ، انہوں نے سلیمان بن یسار سے روایت کی،کہ حضورِاکرم میمونہ دختر حارث کے گھر تشریف لے گئے تو انہوں نے گوہ،جس میں انڈے بھی تھے پیش کیا،دریافت فرمایا،یہ اشیاء کہاں سے آئی ہیں، انہوں نے کہا میری بہن ہزیلہ نے بطور تحفہ بھیجی ہیں،حضورِاکرم کے ساتھ عبداللہ بن عباس اور خالد بن ولید بھی تھے آپ نے انہیں کھانے کو کہا،انہوں نے دریافت کیا آپ نہیں کھائیں گے، آپ نے فرمایا خدا کی طرف سے مجھے کِسی قاصد کا انتظارہے،تینوں نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید