علاثہ جعفر مستغفری نے خلیل بن احمد سے، انہوں نےمحمد بن اسحاق سے ،انہوں نے قتیبہ سے، انہوں نے قتیبہ سے،انہوں نے یعقوب بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے ابوحازم بن دینار سے روایت کی،کہ کچھ لوگ سہل بن سعد کے پاس آئے،اور دریافت کیا کہ حضورِ اکرم کا منبر کس لکڑی کا بناہواہے،انہوں نے جواب دیا،مجھے نہیں معلوم کہ کس لکڑی کا ہے البتہ مجھے اس کا علم ہے،کہ جس دن منبر مسجد میں رکھاگیا،اور آپ اس پر بیٹھے،حضورِاکرم نے ایک خاتون علاثہ کو کہلا بھیجا تھا کہ وہ اپنے غلام کو جو نجار تھا،بھیجے،تاکہ میرے لئے ایک منبر بنادے،تاکہ میں لوگوں سے خطاب کرتے وقت اس پر بیٹھ سکوں۔ جعفر نے اس خاتون کا ترجمہ حرف عین کے تحت لکھاہے،اور اسے خوداس نے یا اس کے شیخ خلیل نے ان نام کے لکھنے میں گڑبڑکردی،کیونکہ یہ بڑامشکل ہے کہ ابن اسحاق کو یا ان لوگوں کو جوان سے اوپر ہیں،اس خاتون کانام بھول گئے ہیں،راوی نے یہ۔۔۔
مزید
الجرباء دختر قسامہ بن قیس بن عبید بن طریف بن مالک،یہ خاتون حنظلہ بن قسامہ کی بہن اور زینب دخترِ حنظلہ کی پھوپھی تھیں، ابو عمر نے زینب کے ترجمے میں تو ان کا ذکر کیا ہے،لیکن یہاں ان کا ذکر نہیں کیا،ہاں زبیر بن ابوبکر نے ان کا ذکر کیا ہے،کہ وہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اور طلحہ بن عبداللہ نے ان سے نکاح کیا اور ان سے ام اسحاق نامی ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ ۔۔۔
مزید
امہ دخترِ فارسیہ،جس سے سلمان فارسی مکے یا مدینے میں ملے،ابن مندہ نے بھی کتاب اصفہان میں ان کا یہی نام لکھا ہے،ابو نعیم نے بھی ان کی پیروی کی ہے،لیکن ان سے کو ئی حدیث بیان نہیں کی۔ ابو موسٰی نے اجازۃً ابو علی سے،انہوں نے ابو نعیم سے،انہوں نے ابوبکر محمد بن یوسف المودب سے انہوں نے احمد بن حسین بن حسن انصاری سے،انہوں نے ربیع بن ابو رافع سے، انہوں نے حسن بن عرفہ سے انہوں نے مبارک بن سعید سے، انہوں نے عبیدالمکتب سے،روایت کی کہ انہوں نے سلمان فارسی سے سُنا،کہ جب وہ اوّل اوّل واردمدینہ ہوئے،تو انہوں نے ایک اصفہانی عورت کو دیکھا، جوان سے پہلے مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں،میں نے ان سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دریافت کیا،چنانچہ اس نے مجھے حضور تک رہ نمائی کی۔ اس حدیث کو عبداللہ بن عبدالقدوس نے ابو الطفیل سے، انہوں نے سلمان سے روایت کی اور اسناد کو پورا کر ۔۔۔
مزید
امہ دختر خالد بن عاص بن امیہ بن عبد شمس بن مناف قرشیہ امویہ،ان کی کنیت ام خالد تھی،اور اسی سے مشہور تھیں،امہ اور ان کے بھائی سعید بن خالد حبشہ میں پیدا ہوئے،ان کی والدہ کا نام امیمہ یا ہمیمہ دخترِ خلف تھا، ام خالد نے زبیر بن عوام سے شادی کی،اور ان سے عمرو بن زبیر اور خالد بن زبیر پیدا ہوئے،ان سے موسیٰ اور ابراہیم پسرانِ عقبہ اور کریب بن سلیمان کندی وغیرہ نے روایت کی۔ مصعب بن عبداللہ نے اپنے والد سے ، انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے،انہوں نے ام خالد سے روایت کی کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے سُنا۔ ۔۔۔
مزید
امامہ دخترِابوالعاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبد مناف قرشیہ عبشمیہ،ان کی والدہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا دخترِرسولِ کریم تھیں،حضورِاکرم کے عین حیات میں پیدا ہوئیں،حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان سے بہت محبت فرماتے تھے،چنانچہ دورانِ نماز میں بھی انہیں اُٹھائے رکھتے،صرف سجدے میں اتار دیتے تھے۔ حماد بن سلمہ نے علی بن زید سے انہوں نے امِ محمد سے،انہوں نے حضرت عائشہ سے ،روایت کی کہ کسی شخص نے حضورِاکرم کو ہدیہ دیا،جس میں یمنی جواہر کا ایک ہا ر تھا،فرمایا،یہ ہار میں اپنے خاندان میں اس کو دوں گا،جو مجھے سب سے زیادہ پیاراہوگا،چنانچہ امامہ کو طلب فرمایا،اور ان کے گلے میں ڈال دیا۔ جب امامہ جوان ہوئیں،تو جنا ب فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے نکاح کر لیا،کیونکہ جناب خاتونِ جنّت نے انہیں وصیّت کی تھی،جب جناب امیر زخمی ہوئے تو اس۔۔۔
مزید
امامہ دختر بشر بن وقش جو عباد بن بشر کی ہمشیر تھیں،انہوں نے اسلام قبول کیااور آپ کی بیعت کی، اوربقول ابن ماکولا،انہوں نے محمود بن مسلمہ سے شادی کی،جن سے اولادہوئی،یہ خاتون علی بن راشد بن عبید الہدٰی کی ماں تھی،اور ہدل قریظہ کا بھائی تھا،جنہیں بنوقریظہ مین بدل کہا جاتا ہے۔ ۔۔۔
مزید
امامہ رضی اللہ عنہادخترِحمزہ بن عبدالمطلب،ان کی والدہ کا نام سلمیٰ دختر عمیس تھا،جناب امامہ وہ خاتون تھیں،جن کی تولیت کے بارے میں حضرت علی جعفراور زید رضی اللہ عنہم میں جھگڑا پیدا ہوگیاتھا،جب وہ مکے سے نکلیں،تو ان کے پاس جو مسلمان بھی گزرا انہوں نے اس سے التجا کی کہ وہ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں،لیکن کسی نے انکی بات نہ مانی،جب حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اپنی تحویل میں لے لیا،ان سے جناب جعفر نے تقاضہ کیا،کیونکہ ان کی خالہ اسماءدختر عمیس ان کی زوجہ تھیں،زید بن حارثہ نے بھی انہیں اپنی تحویل میں لینا چاہا،کیونکہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور جناب حمزہ رضی اللہ عنہ میں مواخاۃ پیداکی تھی،لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب جعفر کے حق کو فائق قرار دیا،کیونکہ جناب امامہ کی خالہ ان کی زوجہ تھیں،پھر آپ نے ان کی شادی سلمہ بن ام سلمہ سے(جو۔۔۔
مزید
امامہ دخترِحارث بن حزن ہلالیہ ،ہمشیر میمونہ زوجۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،لیکن یہ اہلِ علم کا وہم اور تصحیف ہے،ابوعمر کہتے ہیں،کہ میں کسی ایسی امامہ کو نہیں جانتا،جس کی اخیانی بہن کا نام میمونہ ہو،حالانکہ باپ کی طرف سے ان کی دوبہنیں لبابتہ الکبرٰی اور لبابتہ الصغرٰی تھیں،اوال الذکر حضرت عباس رضی اللہ عنہ می اور ثانی الذکر خالد بن ولید کی زوجہ تھیں،ان دو کے علاوہ تین بہنیں اور تھیں،نیز ماں جائی تین بہنیں اور بھی تھیں،کل نو ہوئیں جن کا ذکر کیا جائے گا،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
امامہ دخترِ قریبہ بن عجلان بن غنم بن عامر بن بیاضہ انصاریہ بیاضیہ؟ میں نے ابو عمربغرض استدراک ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید