ابوخالد الکندی،خالد بن معدان کے داداتھے،حسن سمرقندی نے انہیں صحابہ میں شمار کیاہے،لیکن ان سے کوئی روایت پیش نہیں کی،ابوموسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوخالد المخزومی،خالد بن ابوخالد قرشی مخزومی کے والد تھے،ان سے ان کے بیٹے خالد نے حضورِ اکرم سے طاعون کے بارے میں اس طرح حدیث سُنی،جس طرح اسامہ وغیرہ نے تبوک میں حضوراکرم سے سنی تھی،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوخالد السلمی،انہیں صحبت حاصل ہوئی،الجزیرہ میں سکونت رکھ لی تھی،ان کی حدیث کے راوی ان کے خلف تھے،ابوالملیح نے محمد بن خالد سے ،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے داداسے،(انہیں حضورِ اکرم کی صحبت حاصل تھی)روایت کی،حضورِ اکرم نے فرمایا،جب کوئی آدمی خداکی طرف سے کسی منصب کے لئے منتخب کیا جاتا ہے،اوروہ اس تک پہنچنے میں ناکام ہوجاتاہے،تو اللہ تعالیٰ اسے،یعنی خود اس کی ذات،اس کی اولاد یا اس کے مال کو کسی ابتلامیں ڈال دیتاہے،چنانچہ ان مصائب کو برداشت کرنے کے لئے صبر عطاکرتا ہے آخرکار وہ اس مقام تک پہنچ جاتاہے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوخالد رضی اللہ عنہ ابوخالد،یہ وہ آخری آدمی ہیں،جنہیں امام بخاری نے کنیتوں کے تحت ذکر کیا ہے،نیز لکھا ہے،کہ وکیع نے اعمش سے ،انہوں نے مالک بن حارث سے،انہوں نے ابوخالد سے روایت کی،کہ انہیں صحبت حاصل ہوئی،نیز انہوں نے بیان کیا ،کہ ہم حضرت عمررضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے،تو خلیفہ اہل شام کے ساتھ احترام سے پیش آئے،ابوعمراور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوخالد کندی،ابوبکر بن ابوعلی،یحییٰ بن سعیدالعطارسے(بنوفروہ سے قابل اعتمادآدمی تھے)انہوں نے ابومریم سے،انہوں نے ابوخالدکندی سے،انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا، آپ نے فرمایااگرکبھی تمہیں ایسے آدمی سے ملاقات ہوجائے،جودُنیاسے کنارہ کش ہواور باتیں کم کرتاہو،توایسے شخص کا قرب حاصل کرو،اس طرح تمہیں اس سےدانائی اور حکمت کے حصول کا موقع ملے گا۔ ابوالفرج ثقفی نے کتابتہً باسنادہ تا ابن ابن عاصم ابومسعود سے باسناد مذکور اسی طرح ذکرکیا ہے، ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،مزید یہ لکھاہےکہ ابنِ ابی عاصم نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے ان کا مشہورنام ابوخلاد ہے اور یحییٰ سے مراد ابن سعید بن ابان العطار ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوخراش ہذلی،شاعر تھےاور ان کا نام خویلد بن مرہ بن عمروبن معاویہ بن تمیم بن سعد بن ہذیل ہے،اتنے تیزرفتار تھے کہ دوڑ میں گھوڑے سے آگے نکل جاتے تھے،زمانۂ جاہلیت میں عرب کے بہادروں میں شمار ہوتے تھے،اسلام قبول کیا،تو نہایت اچھے آدمی ثابت ہوئے۔ جمیل بن معمر الجمحی نے ان کے بھائی زہیر کو جن کاعرف عجوہ تھا،اور اسلام لاچکے تھے،فتح مکہ کے موقع پر قتل کردیا گیاتھا،اور جمیل ابھی کافر تھا،اور ایک روایت میں ہے کہ زہیر ان کے عمزاد تھے، ابن ہشام کا قول ہے،کہ زہیر جنگ حنین کے موقعہ پر قیدی بنالئے گئے تھے اور ان کے ہاتھ پیٹھ کے پیچھے باندھ دیئے گئے تھے،جمیل نے جو اسلام لا چکے تھے،اور ابو خراش نے ان کا مرثیہ کہا،ابوعبیدہ کا قول بھی یہی ہے،اور پہلا قول محمد بن یزید کا ہے۔ ابوخراش کہتاہے۔ ۱۔قفجع اضیافی جمیل بن معمر ھذی فخرتاوی الی۔۔۔
مزید
ابوخراش رعینی،مدنی ہیں،اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے ابوالخیر مرثد بن عبداللہ سے،انہوں نے ابوخراش رعینی سے بیان کیا،جب وہ اسلام لائے ،تواس وقت دو سگی بہنیں ان کے نکاح میں تھیں، آپ نے فرمایاان میں سے جس کو چاہے،طلاق دےدو،آپ نے ایتہما کالفظ استعما ل کیا،نہ کہ احداہما کا،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالخریف بن ساعدو بن عبدالاشہل بن مالک بن لوذان بن عمرو بن عوف انصاری،اوسی،ایک غزوے میں زخمی ہوگئے تھے،کرید میں وفات پائی،حضورِاکرم نے انہیں اپنے پیرہن کا کفن عطاکیا، اوربنولوذان کو بنوسمیعہ بھی کہاجاتا ہے،اس کی وجہ یہ ہے،کہ جاہلیت میں انہیں بنوصماء کہتے تھے، حضورِ اکرم نے فرمایا،آج سے تم بنوسمیعہ ہو،چنانچہ اسی نام سے پہچانے جانے لگے،ہشام بن کلبی کا یہی قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوخارجہ عمرو بن قیس بن مالک بن عدی بن عامراز بنوعدی بن نجار انصاری،خزرجی،بخاری،بدری ہیں،غزوۂ احد میں شہید ہوئے،ہم ان کا ذکر عمرو کے ترجمے میں کر آئے ہیں،یہ ابن کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوخارجہ عمرو بن قیس بن مالک بن عدی بن عامراز بنوعدی بن نجار انصاری،خزرجی،بخاری،بدری ہیں،غزوۂ احد میں شہید ہوئے،ہم ان کا ذکر عمرو کے ترجمے میں کر آئے ہیں،یہ ابن کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید