ابوجاریہ انصاری،انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے یہ روایت کی کہ ساراقرآن صواب ہے،اس حدیث کو حرب بن ثابت نے اسحاق بن جاریہ سے انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں اپنے دادا سے روایت کیا،ابنِ مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالجودان،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہےاور صرف یہ لکھا ہے،کہ ابو زکریا نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوجنیدہ الغہری،طبرانی نے انہیں صحابہ میں شمارکیا ہے،ابوموسیٰ نے ابوغالب سے،انہوں نے ابوبکر بن ریدہ (ح)سے،ابوموسیٰ کہتے ہیں،کہ ہمیں ابوعلی اور ابونعیم نے سلیمان بن احمد سے، انہوں نے احمد بن عبدالوہاب بن بجدہ سے،انہوں نے علی بن عیاش سے،انہوں نے ابوغسان محمد بن مطرف سے،انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی فردہ سے،انہوں نے ابن ابی جنیدہ فہری سے، انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے داداسے روایت کی کہ جس شخص نے کسی پیاسے کو پیٹ بھر کر پانی پلایا،خدا اس کے لئے جنّت کا ایک دروازہ کھول دیتاہے اور اسے داخل ہونے کو کہتا ہے،اسی طرح جو شخص کسی بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتا ہے،اور پیاسے کی پیاس بجھاتا ہے،خدا جنت کے سب دروازے کھول دیتاہے،اور اسے کہتا ہے کہ جس دروازے سے چاہو اند رداخل ہوجاؤ،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوجندہ ابن جندع ابنِ عمرو بن مازنی،رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غزوۂ حنین کے موقعہ پر حاضر ہوئے تھے،زہری نے سعید بن خباب سے،انہوں نے ابوعنفوان بازقی سے،انہوں نے ابوجنیدہ بن جندع بن عمرو بن مازنی سے روایت کی،کہ وہ غزوہ حنین کے موقعہ پر حضورِ اکرم کے پاس پہنچے،صحابہ بنوہوازن کے مقابلے میں شکست کھاگئے تھےاور ان کی صفوں میں ایسا اضطراب تھا،جیساکہ سمندری لہروں میں ہوتاہے،میں نے ان سے پوچھا تم کون ہو،انہوں نے کہا،کہ ہم حضورِ اکرم کے صحابہ ہیں،پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوجندہ ابن جندع ابنِ عمرو بن مازنی،رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غزوۂ حنین کے موقعہ پر حاضر ہوئے تھے،زہری نے سعید بن خباب سے،انہوں نے ابوعنفوان بازقی سے،انہوں نے ابوجنیدہ بن جندع بن عمرو بن مازنی سے روایت کی،کہ وہ غزوہ حنین کے موقعہ پر حضورِ اکرم کے پاس پہنچے،صحابہ بنوہوازن کے مقابلے میں شکست کھاگئے تھےاور ان کی صفوں میں ایسا اضطراب تھا،جیساکہ سمندری لہروں میں ہوتاہے،میں نے ان سے پوچھا تم کون ہو،انہوں نے کہا،کہ ہم حضورِ اکرم کے صحابہ ہیں،پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوجندب فزاری،مطین نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے،حسن بن احمد نے احمد بن عبداللہ سے، انہوں نے محمد بن محمد سے،انہوں نے محمد بن عبداللہ حضرمی انہوں نے عبداللہ بن عمرسے،انہوں نے نضر بن ابن منصور سے،انہوں نے سہل الفزاری سے،انہوں نے اپنے والد سے سُنا،کہ حضورِاکرم اپنے صحابہ سے اس وقت تک مصافحہ نہیں فرماتےتھے،جب تک السلام علیکم نہ کہہ لیتے،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے انکا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوجندب عتقی،انہیں صحبت نصیب ہوئی،فتح مصر میں موجود تھے،ان سے کوئی حدیث مروی نہیں یہ ابوسعید بن یونس کا قول ہے،ابنِ مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعریض ابوحاتم رازی نے محمد بن دینارالخراسانی سے،انہوں نے عبداللہ بن مطلب سے،انہوں نے محمد بن جابر الحنفی سے،انہوں نے ابومالک اشجعی سے،انہوں نے ابوعریض سےجواہلِ خیبر میں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راہنماتھے،ان سے مروی ہے کہ آپ نے انہیں ایک سو اونٹ عطا کئے تھے،انہوں نے ایک حدیث منکر بیان کی،ابوعمرنے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوسبرہ جعفی،ان کانام یزید بن مالک بن عبداللہ بن ذؤیب بن سلمہ بن عمروبن ذہل بن مران بن جعفی بن سعدالعشیرہ ہے یہ والد تھے سبرہ بن ابوسبرہ اور عبدالرحمٰن بن ابوسبرہ کے،انہوں صحبت میسرآئی،اورانہوں نے کوفہ میں سکونت اختیارکرلی تھی۔ حسن بن محمد بن ہبتہ اللہ دمشقی نے ابوالعشائر محمد بن خلیل بن فارس سے،انہوں نے ابوالقاسم علی بن محمدبن علی سے،انہوں نے ابومحمدعبدالرحمٰن بن عثمان بن ابونصرسے،انہوں نے ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن ابوثابت سے،انہوں نے ہلال بن علاء سے،انہوں نے اپنے والدسے،انہوں نے عبادبن عوام سے،انہوں نے حجاج بن ارطاۃ سے،انہوں نے عمیر بن سعید سے،انہوں نے سبرہ بن ابوسبرہ سے،انہوں نے اپنے والد سےکی کہ وہ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضرہوئے،آپ نےدریافت کیا،تمہارے بیٹوں کا کیانام ہے؟میں نے عرض کیا،فلاں،فلاں اور عبدالعزی،آپ نے ف۔۔۔
مزید
ابواثیلہ بن راشد السلمی،انہیں صحبت حاصل ہوئی،حجازی ہیں،ان اک ذکر پہلے ہوچکا ہے،اورا ن کی بیٹی اثیلہ کا ذکر عامربن مرقش کے ترجمے میں گزرچکاہے،ابوعمر نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید